ہمارے سامنے دوکہانیاں ہیں۔پہلی کہانی توجب سے ہم نے ہوش سنبھالاہے تب سے دنیا کی کتابوں میں پڑھتے اورلوگوں سے سنتے آرہے ہیں ۔اس واقعے اورکہانی کاراوی بھی معلوم نہیں،اس کے اصل اورسندکابھی کسی کوکوئی پتہ نہیں۔ یہ کہانی کس ملک،کس صوبے،کس شہر،کس مسجدمیں ہوئی اوریہ مولوی صاحب کون تھے۔؟ اس کے بارے میں نہ صرف تاریخ بلکہ روایت آگے بیان کرنے والے بھی خاموش ہیں۔راوی صر ف اتنابیان کرتاہے کہ ایک بار بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے کہیں خشک سالی کادورانیہ بڑھ گیا،لوگ بہت پریشان ہوگئے۔اسی پریشانی میں ایک دن مسجدمیں نمازکے دوران جونہی مولوی صاحب نے سلام پھیرا، سلام پھیرتے ہی کچھ نمازیوں نے بلند آواز میں امام صاحب سے گزارش کی کہ مولاناصاحب خشک سالی بڑھ گئی ہے مہربانی فرما کر باران رحمت کیلئے خصوصی دعا فرما دیں۔مولانا صاحب نے رخ پھیرتے ہوئے نظربھر کر نمازیوں کی طرف دیکھا اور کہا اس سے پہلے ایک ضروری اعلان ہے،اس کے بعددعاکرتے ہیں۔ مولانا صاحب نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور بولے کہ کسی کے تین ہزار روپے گرے ہیں جس کے ہوں وہ نشانی بتا کر لے سکتا ہے اس کے بعد دعا ہوگی۔ امام صاحب کے کہنے کے ساتھ ہی فوراًدس پندرہ نمازی کھڑے ہوگئے۔ مولانا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ پیسے میرے ہیں۔آپ بارش کے لئے دعامانگنے سے پہلے اپنے معاملات اورعادات ٹھیک کرالیںبارش خودبخودہوجائے گی۔یہ توگئے زمانے کی بات اورکہانی تھی اب آتے ہیں دوسرے واقعہ اورکہانی کی طرف ۔کچھ دن پہلے ملک کے مقدس ایوان جہاں ملک وقوم کے مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔ جس ایوان کاحصہ اوررکن بننے کے ساتھ ممبر ایمانداری اور وفاداری کاحلف اٹھاتا ہے، جہاں ہزاروں ولاکھوں لوگوں کے منتخب کردہ وہ ہیرے بیٹھتے ہیں جودنیاکے لئے رول ماڈل کہلاتے ہیں۔ہیروں کے اس ایوان میںاجلاس کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب ایوان میں کسی رکن کے زمین پر گرے ہوئے پیسے ملنے کا واقعہ پیش آیا۔جس واقعے اورکہانی کے متعلق ہم بچپن سے سنتے آتے تھے اس واقعہ اورکہانی کواب ہم نے دیکھ بھی لیا،یہ واقعہ سوفیصدوہی ہے صرف اس میں کرداربدلے ہیں۔وہاں مرکزی کردار مولوی صاحب اورنمازی تھے یہاں سپیکر ایاز صادق اور قومی اسمبلی کے ممبران ہیں ۔اجلاس کے دوران سپیکر ایاز صادق نے وہ پیسے جوکسی رکن سے ایوان کے اندرگرے تھے اٹھا کر ایوان میں لہراتے ہوئے پوچھا کہ یہ کس کے ہیں۔؟سپیکرصاحب نے بتایا کہ اپوزیشن کے ایوان میں آنے سے پہلے یہ رقم فرش سے ملی ہے۔ اس اعلان کے بعد پیسے لینے کے لئے کئی اراکین نے ہاتھ بلند کر دیئے۔سپیکرکے ہاتھ میں پانچ پانچ ہزارکے لش پش نوٹ دیکھ کر دس بارہ ممبران نے ہاتھ کھڑے کر دیئے جس پرایازصادق نے مسکراتے ہوئے کہاکہ اتنے توپیسے نہیں جتنے لوگوں نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔اس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔اس واقعہ اورکہانی کی ویڈیوکواب لوگ تفریح کیلئے دیکھ رہے ہیں لیکن اس واقعہ اورکہانی میں تفریح سے زیادہ ہمارے لئے عبرت کاسامان ہے۔ملک کاوہ مقدس ایوان جس کے ممبران نے وہاںکرسی پر بیٹھنے سے پہلے ایمانداری اوروفاداری کاحلف اٹھایاہواہے،اس ایوان میں ممبران کی ایمانداری کایہ حال ہے توباہروالوں کاحال پھر کیا ہو گا۔؟ملک میں بھی اس وقت خشک سالی کاراج اور بارشیں نہیں ہورہی ہیں۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی سردی کا دورانیہ دسمبرکے درمیان تک پہنچ گیاہے۔پھربھی ملک میں بارشوں کانام ونشان نہیں، ہر طرف خشک سالی جیسے مناظر ہیں۔ لوگ بارش کے لئے نماز استسقاء سمیت گڑگڑا کر دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن بارشیں نہیں ہورہی۔کاش کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی اس مولوی صاحب کی طرح ملک کے مقدس ایوان سے اپنے مقتدیوں اورقوم کومخاطب کرکے فرماتے کہ آپ ملک کے حالات،قومی خوشحالی اور بارش کے لئے دعامانگنے سے پہلے اپنے معاملات اورعادات ٹھیک کرالیں۔دعائوں پردعائیں کرنے سے بھی اگرحالات نہیں بن رہے اوررب راضی نہیں ہورہاتوہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکناچاہئیے کہ یہ خرابی موسم اورحالات میں نہیں ہمارے اپنے اندرہیں۔مخلوق کے معاملات اورعادات جب ٹھیک نہ ہوںتوپھررب روٹھ جایاکرتاہے۔رب ناراض ہوتوپھرآسمان سے رب کی رحمتیں اورنعمتیں نہیں برستیں۔بارش یہ رب کی رحمتوں میں سے ایک بڑی رحمت ہے۔اسی بارش سے توزمین میں جان ہے۔زمین میں جان ہوگی تو ہمیں گندم، چاول، دال، ساگ، مکئی، کپاس، سبزی وفروٹ سمیت رب کی دیگرنعمتیں ملیں گی۔بارشیں نہ ہوںتوخشک سالی سے زمین بنجراورپھرقحط سالی کا عذاب شروع ہوتا ہے۔ اللہ قحط سالی سمیت ہرآسمانی آفت اورمصیبت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔لیکن صرف دعائوں سے کچھ نہیں ہوتا،اسی لئے تو کہتے ہیں کہ دعاکے ساتھ دواء بھی ضروری ہے۔ دوسروں سے گم ہونے والے دس پچاس ہزار روپے کے لئے مساجد، سکول، کالج، یونیورسٹیوں، کورٹ کچہریوں اور پارلیمنٹ میں اپنے ہاتھ بھی ہم کھڑے کرتے ہیں اورپھریہ امید، تمنا و آس لگائے بیٹھیں کہ اوپروالاہمارے حال پر رحم کرے گا۔ یادرکھیں جھوٹ بولنے،حرام کھانے اور دوسروں کے حقوق پرڈاکے مارنے والوں کے حال پراللہ کبھی رحم نہیں کرتا۔رحم ان پرہی کیاجاتاہے جو دوسروں پر رحم کریں۔