چوپال میں چپ سائیں سمیت سب براجمان تھے۔ چپ سائیں اخبار کے مطالعہ میںمحو تھے۔ چاچا رفیق نے با آواز بلند سلام دعا کر کے سکوت توڑا۔۔۔ آج ان کے ساتھ ایک بزرگ خاتون بھی تھیں جو لاٹھی ٹیک کر کمر جھکا کر چل رہی تھیں۔۔نتھو ، پھتواور دیگر لوگ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون ہیں؟۔۔۔ خیر۔۔۔ چاچا رفیق ان کو لے کر ایک طرف بیٹھ گئے۔۔۔ چپ سائیں اخبار کے مطالعہ سے فراغت کے بعد بولے۔۔ بھائی رفیق ۔۔۔ یہ قابل عزت ’’بی اماںـ(فرضی نام)‘‘ کو آج چوپال میں ساتھ کیوں لائے ہیں؟۔۔۔ خیر تو ہے؟۔۔۔اس پرچاچا رفیق نے کہاکہ۔۔۔چوپال کے دوستو! ۔۔۔ یہ ’’بی اماں‘‘ گلی کے نکڑ والے مکان میں تنہا رہتی ہیں۔۔۔ محلے کے پرانے لوگ بس ان کو جانتے ہیں۔ ہم بہت چھوٹے تھے ۔۔ ان کو تنہا ہی دیکھا۔۔۔ اس پر چپ سائیں نے کہا بھائی رفیق۔۔۔ ٹھیک کہ رہے ہیں آپ ۔ ۔ ۔ ’’بی اماں‘‘ کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے ماسوائے کہ یہ ہمارے محلے کی بڑی بی ہیں۔۔۔ چاچا رفیق نے کہا۔۔۔بھائی دوستو!۔۔۔ بی اماں بہت کم گو ہیں۔۔۔ آج کل ہر طرف جشن آزادی کی دھوم ہے اور قریہ قریہ سبز پرچم کی بہار ہے۔۔۔ لیکن ’’ بی اماں‘‘ بہت اداس ہیں ۔۔۔ میں نے ان کی آنکھ میں آنسو دیکھا ہے۔
چپ سائیں نے کہا’’ بی اماں‘‘ ہم سب آپ کے بچوں جیسے ہیں ۔ آج اپنا غم ہلکا کرلیں۔۔۔۔’’بی اماں‘‘ نے سر اٹھایا، ان کی آنکھیں نم ناک تھیں۔۔۔ آنسو آنکھوں سے گالوں پر رواں تھے۔۔۔۔ ہمت کرکے بولیں۔۔ میرے بچو۔۔۔جشن آزادی کا دن قریب ہے۔ یہ دن اور مہینہ ہر سال جب بھی آتا ہے۔۔۔ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اور مجھے ماضی یاد دلاتا ہے۔ ہر طرف خوشیاں ہیں، ہر طرف رنگ ہیں مگر کہیں دل کے کسی کونے میں ایک خاموش، گہرا سا دکھ بھی چھپا ہوا ہے۔۔بچوںجب قوم آزادی کا جشن مناتی ہے، تو میں چپ چاپ کسی کمرے کے کونے میں بیٹھ کر حجرت کے وقت اور خون خرابے کو یاد کرتی ہوں۔۔ میں اس موقع پر چراغاں کرتی ہوں نہ نغمے سنتی ہوں صرف ہجرت کے وقت قربان ہونے والوں کو یاد کرتی ہوں اور پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہتی ہوں۔ جشن تو ہے، مگر۔۔۔غم نہیں بھولی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
بی اماں دوبارہ چپ کرگئیں۔۔ ’’بی اماں‘‘ بولیں۔۔۔ بچوں کیا آج کا پاکستان ویسا ہے جیسا ان ماؤں نے سوچا تھا؟۔14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن حاصل کیا، لیکن یہ آزادی آسانی سے نہیں ملی۔ اس کے بدلے میں لاکھوں لوگ اپنے پیاروں، گھروں، زمینوں، خوابوں، حتیٰ کہ اپنی شناخت تک سے محروم ہو گئے۔ میں بہت چھوٹی تھی۔سب گائوں والے اور میرا خاندان ایک ٹرین میں سوار تھا۔۔۔ ٹرین۔۔۔ سٹیشن پر رکتی ہے اور ۔۔۔ اور۔۔۔۔؟ بی اماں ۔۔بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
توقف کے بعد بی اماں بولیں۔۔۔ بچو۔۔۔ جیسے ہی ٹرین پلیٹ فارم پر رکی۔۔۔ اچانک کچھ لوگوں نے دھاوا بول دیا۔۔۔ ان کے چہرے رومال سے چھپے ہوئے تھے۔۔۔ پر وہ مسلسل کہہ رہے تھے۔۔ سب کو مار دو۔۔۔ کوئی زندہ بچ کے نہ جائے ۔۔۔ بچو ۔۔۔ ٹرین کی بوگی میں ہر طرف خون ہی خون تھا۔۔۔ میں نجانے ہجوم سے بچتی بچاتی۔۔۔ ایک کمرے کی طرف دوڑی۔۔۔ دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی کہ اور خوف چہرے پر عیاں تھا ۔۔۔ہر طرف چیخ وپکار تھی۔۔ میں نے ایک کمرے کے کونے میں میز کے نیچے چھپ کر پناہ لی۔۔کمرے کے باہر۔۔۔ چیخیں ۔۔۔۔مجھے مزید خوفزدہ کررہی تھیں۔۔۔۔ میں نے آنکھیں موندھ لیں۔۔۔ پتہ نہیں کب۔۔ شو ر تھما۔۔۔ نجانے کتنی دیر کے بعد۔۔۔۔ میں میز کے نیچے سے باہر آئی۔۔۔ کمرے سے نکلی تو ہر طرف خون ہی خون تھا۔۔۔ اپنے خاندان کے افراد تلاش کرنے لگیں۔۔۔بڑی مشکل سے گھروالے ملے۔۔۔ لیکن۔۔۔ سب خون میں نہائے ہوئے تھے۔۔۔میں نے زور سے ایک چیخ ماری۔۔۔ دھاڑیں مار کر رونے لگیں۔۔۔کہتے کہتے۔۔۔ بی اماں چوپال میں بھی دھاڑیں مار کر رو رہی تھی۔۔۔ سب نے ان کی دلجوئی کی۔۔۔ پھر۔۔۔اماں جی نے ہمت کرکے
الفاظ کو جوڑا۔۔۔ کہا بچو۔۔۔پلیٹ فارم سے باہر نکلی۔۔۔ چلتی گئی۔۔۔ چلتی گئی۔۔۔ منزل کا علم نہیں تھا۔۔۔نجانے کتنا چلی۔۔۔ ایک مقام پر بھوک اور پیاس سے نڈھال گر گئی۔۔۔ قریب ہی کچھ خیمے تھے۔۔۔ لوگ آئے۔۔۔ انہوں نے مجھے اٹھایا۔۔۔ جب ہوش آیا اور قریب انجان لوگوں کو پایا۔۔۔ سب نے بتایا بٹیا اب تم محفوظ ہو۔۔۔ پھر۔۔ پھر۔۔۔ پتہ چلا کہ یہ پاکستان کی سرزمین ہے اوراس کے بعد سے زندگی کا سفر جاری ہے۔۔۔ بی اماں کہتے کہتے چپ کرگئیں۔
اس پر چپ سائیں نے دکھ بھری آہ بھرتے ہوئے کہاکہ۔۔ حق ہو۔۔۔ بی اماں جی آج تک کوئی آپ کا دکھ جان نہیں سکا۔۔۔ ہمیں افسوس ہے لیکن اس دن کی خوشی کے پیچھے ایک کربناک تاریخ چھپی ہے ۔صاحبو! بٹوارے کے وقت اماں کی آنکھوں نے وہ منظر دیکھے جو ناقابل بیان ہیں ۔۔۔اس کے بعد صرف خاموشی ہی بچتی ہیں۔۔بی اماں مارے دکھ کے نہ رو سکتی تھیں، نہ چیخ سکتی تھیں۔ ہر قدم پر ایک زخم، ہر نظر میں ایک اجڑا ہوا چہرہ۔دوستو!جب 14 اگست آتا ہے، پورا ملک جشن مناتا ہے، پر اماں کے لیے یہ دن صرف آنکھیں بند کرکے ماضی یاد کرنے کا دن ہوتا ہے۔وہ آزادی جس کے بدلے پورا خاندان چلا گیا۔۔۔کیا ہم نے ان قربانیوں کی قدر کی جن کی بنیاد پر پاکستان حاصل ہوا؟۔۔۔کیا آج کے پاکستان میں کسی کو یہ احساس ہے کہ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں، بلکہ ادھورے لوگوں کی داستان اور ان کے خواب ہیں۔۔۔جو کبھی مکمل نہ ہو سکے؟۔۔۔ بچو اماں کا دکھ صرف ایک ماں کا نہیں، یہ برصغیر کی لاکھوں ماؤں کا دکھ ہے۔وہ مائیں جن کے آنگن اجڑ گئے۔آج جب تم آزادی کا جشن مناؤ، تو یہ سب یاد کرلینا۔اس کی آنکھوں کا آنسو، اس کے دل کا درد ۔۔صاحبو!جب بی اماں پاکستان پہنچیں، تو نہ گھر تھا، نہ رشتہ دار، نہ زندگی کی کوئی امید۔ایک مہاجر کیمپ میں چھوٹے سے خیمے میں وقت گزرا۔ دوستو!جشن آزادی پرپاکستان زندہ باد! کے نعرے لگتے ہیں۔۔۔ مگر بی اماں کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔جشن کی آوازوں میں بھی اماںجی کو صرف خاموشی سنائی دیتی ہے۔ اس لیے جب تم 14 اگست کو جشن مناؤ،تو ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کرو،اور تصور کرو ۔۔۔ اس خونریزی کو یاد کرو ۔۔۔ بس تب ہی تمہیں ـآزادی کا سچا مطلب سمجھ میں آئے گا۔۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!