اس میں کوئی شک نہیں اور نہ ہی کوئی دو رائے ہیں کہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج اپنی بہادری، مہارت اور جنگی صلاحیتوں میں دنیا کی کسی فوج سے کم نہیں ہیں، یوں تو افواج پاکستان کی شاندار کامیابوں کی ایک نمایاں تاریخ ہے لیکن حالیہ پاک بھارت جنگ جس میں بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 مئی کے دن پاکستان پر حملہ کیا اور ڈرون کی بارش کر دی، لیکن پھر کیا ہوا یہ ساری دنیا نے دیکھا ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی جنگی حکمت عملی پروفیشنلزم اور تکنیکی مہارتوں کا عملی مظاہرہ دیکھا جب دشمن کو ہر محاذ پر نہ صرف منہ توڑ جواب ملا بلکہ اسے زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا، ایک طرف پاک فضایہ نے بھارتی فضایہ کا غرور خاک میں ملایا تو دوسری جانب بری اور بحری فوج نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ہر محاذ پر شکست فاش سے دوچار کیا۔ آ ج دنیا بھر میں افواج پاکستان کی صلاحتیوں کا نہ صرف برملا اعتراف کیا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کو سر آنکوں پر بٹھایا جا رہا ہے۔ آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان سے مضبوط ہے، ایسا پاکستانی فوج نے معرکہ حق کے ذریعے کر دکھایا ہے۔ معرکہ حق کی کامیابی سے جہاں بھارت اب دوبارہ حملہ کرتے ہوئے سو بار سوچے گا وہیں دنیا کے وہ ممالک جو پاکستان کے بارے بُری رائے رکھتے تھے انہیں بھی سبق ملا ہے کہ پاکستان کہیں بھی کسی بھی صورت کمزور نہیں ہے اس کی بری فوج، فضائیہ اور پاکستان نیوی ہر محاذ پر دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی طاقت اور حوصلہ رکھتی ہے۔
چند دن جاتے ہیں پاکستان بحریہ کے سربراہ چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے پاک بحری کی صلاحیتوں اور مہارتوں بارے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نیوی کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے بحریہ ایک زیادہ متحرک اور طاقتور فورس بن چکی ہے۔ یہ بات انہوں نے پی اے ایف ایئر وار کالج انسٹیٹیوٹ، کراچی کے دورہ پر کہی، نیول چیف نے ادارے میں فراہم کی جانے والی علمی اور پیشہ ورانہ تربیت کو سراہا اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ مستقبل کی عسکری قیادت کی تیاری میں ادارے کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا۔ اس موقع پر ایئر وار کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف نیول سٹاف نے زور دیا کہ جدید جنگ میں کامیابی کی بنیاد عملی تیاری ہے۔ نیول چیف نے مشرقی محاذ پر حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے مسلسل تیاری اور حکمتِ عملی کی دوراندیشی کی ضرورت کو اجاگر کیا اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ میں جدت اور ٹیکنالوجی نے اس کی آپریشنل تیاری کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے اور خطے میں دفاعی توازن کو نئی جہت دی ہے۔ نیول چیف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نیوی کی جنگی صلاحیتوں بشمول سطح سمندر، زیرِ آب اور فضائی شعبوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے بحریہ ایک زیادہ متحرک اور طاقتور فورس بن
چکی ہے۔ انہوں نے قومی دفاع کی مربوط حکمتِ عملی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے افواجِ پاکستان کے درمیان باہمی اشتراک کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے پاک فضائیہ کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کی مشقوں کے زیادہ تواتر اور مربوط انعقاد کا اعلان کیا۔ انہوں نے موجودہ تنازعات میں ٹیکنالوجی کی انقلابی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بغیر پائلٹ فضائی نظام کی بڑھتی ہوئی افادیت کا ذکر کیا اور نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اور پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا، جو ملکی سطح پر بغیر پائلٹ نظاموں کی ترقی پر مرکوز ہو گی، جس سے دفاعی شعبے میں پاکستان کی خود انحصاری اور آپریشنل برتری کو تقویت ملے گی۔
اب جنگوں کا میدان اور طریقہ کار بدل چکا ہے اب روایتی جنگوں کا زمانہ ’’ماضی‘‘ ہوتا دکھائی دے رہا ہے بحری جنگ کا میدان تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، خطے میں میری ٹائم سکیورٹی کے مسائل بڑھ رہے ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے مضبوط میری ٹائم فورس رکھنا اور اس کی صلاحیتوں میں اضافہ ناگزیز ہو چکا ہے۔ آج پاکستان نیوی کا شمار دنیا کی بہترین بحری افواج میں ہوتا ہے۔ پاکستان نیوی سمندر کے اوپر ہو یا سمندر کے نیچے، فضا میں ہو یا ساحل پر پاک نیوی پاکستان کی سمندروں کی پاسبان ہے۔ شمالی بحیرہ عرب میں 2 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل اکنامک زون اور مشرق میں سرکریک سے لے کر مغرب میں گوادر بے تک پھیلی ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کے دفاع اور قومی اثاثوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ یہ پاکستان کی 1,046 کلومیٹر (650 میل) لمبی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ بحیرہ عرب اور اہم شہری بندرگاہوں اور فوجی اڈوں کے دفاع کی ذمہ دار بھی ہے۔ دفاع پاکستان میں پاکستان نیوی کا بنیادی کردار ہے۔ پاکستان نیوی نے محدود بیرون ملک آپرشنز کیے اور پاکستان انترکٹک پروگرام کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نیوی جدت و توسیع کے مراحل سے گزر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس کا اہم کردار رہی ہے۔ پاک نیوی کا بحری بیڑا جدید فریگیٹس، تباہ کن ڈسٹرائرز، ہائی سپیڈ میزائل کرافٹس، گن بوٹس اور مائن ہنٹرز پر مشتمل ہے۔ فضائی بیڑے میں جدید میری ٹائم ائیر کرافٹس اور ہیلی کاپٹرز شامل ہیں۔ اس وقت جدید اسلحہ سے لیس پاکستان نیوی دنیا کی بہترین جنگی قوت بن چکی ہے جس کی نظریں صرف پاکستان کی سمندری سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر ہیں۔
گذشتہ دنوں صدر مملکت آصف علی زرداری کی نیول ہیڈ کوارٹرز آمد پر نیول چیف نے صدر مملکت کو میری ٹائم سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور ’’معرکہ حق‘‘ میں کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر مملکت نے ’’معرکہ حق‘‘ کے دوران پاک بحریہ کے بھرپور ردعمل اور غیر متزلزل عزم کو سراہا اور بھارتی جارحیت کیخلاف کامیاب حکمت عملی پر پاک بحریہ کو مبارک باد دی۔ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے صدر کے دورے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک بحریہ سمندری سرحدوں اور بحری مفادات کا دفاع جاری رکھے گی۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے سافٹ لانچ کی تقریب سے شہبازشریف کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا پاک بحریہ قومی دفاع کا اہم ستون ہے، 1965کا آپریشن دوارکا ہو یا حالیہ کشیدگی، پاک بحریہ نے اپنا لوہا منوایا ہے، پاک بحریہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے پُرعزم ہے، عالمی امن مشق میں60 سے زیادہ ملکوں کی شرکت ہمارے غیر متزلزل عزم کی عکاسی ہے، پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اہمیت کا حامل ملک ہے، ہمارے پاس ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی ساحلی پٹی اور تین بندرگاہیں ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا سٹرٹیجک محل وقوع بلیو اکانومی کیلئے بہت اہم ہے، تجارت اور پائیدار ترقی بلیو اکانومی کیلئے اہمیت کی حامل ہیں، عالمی سطح پر بلیو اکانومی کھربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے، پاکستان نے بلیو اکانومی کے شعبے میں اپنا حصہ حاصل کرنا ہے۔
نئے حالات میں پاکستان نیوی کی اہمیت اور ذمے داریوں میں خاص طور پر اضافہ ہوا ہے اور یہ بات خوش آیند کہ پاکستان نیوی نئے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تیزی سے اپنی تنظیم نو میں مصروف ہے اور اپنی دفاعی اور لاجسٹک صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ سی پیک میں بھی پاکستان نیوی ایک بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔ پاکستان کے پاس 1046 کلومیٹر طویل ساحل اور متعدد پورٹس موجود ہیں۔ گوادر پورٹ مستقبل میں ایک گیم چینجرکی حیثیت سے سامنے آ رہی ہے۔ پاکستان نیوی تمام بندرگاہوں اور ساحلی پٹی میں تمام فوجی اڈوں اور سمندری حدود کی حفاظت کی ذمے دار ہے۔
پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ تمام جنگوں میں نیوی کے جوانوں نے نمایاں کامیابیاں سمیٹیں۔ اس کی ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاکستان نیوی اہم کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔ جنگ ستمبر اور مشرقی پاکستان میں نیوی کے جوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر مادر وطن کا دفاع کیا۔ بھارتی علاقے میں آپریشن دوارکا نے پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کی دنیا بھر میں دھاک بٹھائی۔ 1971 کی پاکستان انڈیا جنگ کے دوران پاکستان نیوی کی آبدوز ہنگور نے نئی تاریخ رقم کی اور بے مثال بہادری پر ہنگور آبدوز کے عملے کو چار ستارہ جرأت اور چھ تمغہ جرأت دئیے گئے۔ محدود وسائل اور افرادی قوت کے باوجود بھی پاک بحریہ نے جانفشانی سے انٹر سروسز (فضائیہ اور فوج) کو معاونت فراہم کی اور دفاع وطن میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ پاکستان نیوی کے موجودہ سربراہ ایڈمرل نوید اشرف بحری امور پر زبردست ویژن رکھتے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان نیوی کے دائرہ کار کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں۔