Wed, September 16, 2026

سوشل میڈیا پر دہشت گرد گروپوں کا بڑھتا ہوا اثر، سکیورٹی کے لیے سنگین چیلنج

سوشل میڈیا پر دہشت گرد گروپوں کا بڑھتا ہوا اثر، سکیورٹی کے لیے سنگین چیلنج

لاہور: دہشت گردوں نے سوشل میڈیا کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب انتہا پسند گروہ یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھا کر اپنے بیانیے کو پھیلا رہے ہیں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی جرائم اور انصاف کے تحقیقی ادارے کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی تنظیم سازی، بھرتی اور اپنے پراپیگنڈے کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ "دہشت گرد گروہوں کی بھرتی اور تنظیم سازی میں انٹرنیٹ کا استعمال" کے موضوع پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا اب انتہا پسند گروپوں کے لیے ایک اہم بھرتی کا مرکز بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس وقت کالعدم تحریک طالبان پاکستان، فتنہ الخوارج اور بلوچ یک جہتی کونسل جیسے دہشت گرد گروہ اپنے پراپیگنڈا کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔ ان گروپوں کے 150 سے زیادہ پراپیگنڈا اکاؤنٹس مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود ہیں، جو نئے ارکان کو بھرتی کرنے اور انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2015 سے 2024 کے درمیان سوشل میڈیا پر سی پیک مخالف پراپیگنڈے میں 2300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جو ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا کا استعمال اپنی دشمنی کو بڑھاوا دینے، لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے فوری طور پر مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ان کے بیانیے کو پھیلنے سے روکا جا سکے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش رفت کی جا سکے۔

ٹیگز: