ریاست پاکستان کی جانب سے بلوچستان کے ایران سے متصل اضلاع کے پسماندہ علاقوں کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں متعدد سہولیات فراہم کی گئیں، جن میں تیل کے کاروبار کی اجازت ایک نمایاںسہولت تھی۔ جس کا مقصد مستحق خاندانوں کے گھروں کے چولہے جلانے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور مقامی سطح پر معیشت کو سہارا دینا تھا یہ اقدام انسانی خدمت کی ایک واضح مثال ہے۔ مگر افسوس کہ اس سہولت کا ناجائز استعمال کیا گیا۔ تیل کی آڑ میں باردوی مواد اور ہتھیاروں کی ترسیل کی گئی، جس کی وجہ سے گذشتہ دو ماہ کے دوران متعدد (آئی ای ڈی) دھماکوں کے واقعات پیش آئیں، جن میں نہ صرف کئی قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوا بلکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ فرزند بلوچستان کیپٹن وقار احمد نے بھی اپنے چار ساتھیوں سمیت سرحدی علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں جام شہادت نوش کیا۔ ان دلخراش واقعات کے بعد 8 ستمبر سے تیل کے کاروبار کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اقدام عوام کی جان و مال کی حفاظت اور سرحدی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے انتہائی ناگزیر تھا۔ اس عارضی بندش کا مقصد عوام کو روزگار سے محروم کرنا نہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ واضح رہے کہ پاک ایران سرحد مکمل طور پر بند نہیں بلکہ تیل کے علاوہ دیگر تجارتی سرگرمیاں، روزمرہ اشیائے ضرورت کی درآمد و برآمد معمول کے مطابق جاری ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عوام کی ضروریات کو متاثر نہیں کیا گیا۔ جبکہ ایک دوماہ میں سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر جدید سکینرز نصب کیے جائیںگے اور ایران کے ساتھ بفر زون کی تیاری بھی تیزی سے جاری ہے جس کے بعد فیول کراسنگ کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
فتنہ الہندوستان کے پروردہ ایجنٹوں نے اس اقدام کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈا شروع کیا، اسے معاشی المیہ قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ ریاست عوام کو بے روزگار کر رہی ہے۔ لیکن یہ دعوے سراسر بے بنیاد ہیں۔ ریاست کی طرف سے یہ رعایت اور سہولت صرف مقامی افراد کے لیے تھی، مگر اس کا فائدہ دہشت گرد تنظیموں نے اٹھایا اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا، یہ کالعدم تنظیمیں تیل، منشیات کی سمگلنگ، ہتھیار اور بارودی مواد کی ترسیل میں ملوث ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والا پیسہ بلوچستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں پر استعمال کیا جاتا ہے، دہشت گرد تنظیمیں اس رقم کا ایک بڑا حصہ اپنے سہولت کاروں کے ذریعے کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لیے خرچ کرتی ہیں، اور مستقبل کے ڈاکٹرز، انجینئرز اور سائنس دانوں کو دہشت گرد، بھتہ خور، ڈاکو اور راہزن بناتی ہیں، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ افسوس کہ ان لوگوں نے ریاست کی مہربانی کو پس پشت ڈال کر چند ٹکوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچ دیا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں کہ یہ عارضی بندش بلوچستان کے امن و ترقی اور خوشحالی کے لیے اٹھایا گیا ایک ضروری قدم ہے، جو عوام کے لیے طویل مدتی فوائد رکھتا ہے۔ جہاں تک متبادل روزگار کا تعلق ہے، تو حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان پہلے ہی مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ زراعت، چھوٹے کاروبار اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے نئے منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کے معاشی حالات میںمزید بہتری لائی جا سکے۔ یہ ایک جامع حکمت عملی ہے جس کا مقصد عوام کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ درحقیقت، مسئلہ یہ ہے کہ تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد دوسرا کوئی کاروبار اختیار کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اصل میں، یہ لوگ ضرورت سے زیادہ تیل لا کر اس کو دوسرے علاقوں میں سمگل کرتے ہیں اور زیادہ پیسہ کماتے ہیں، کیونکہ یہ کاروبار ان کے لیے زیادہ آسان اور منافع بخش ہے۔
ریاست نے وہی کیا جو ہر ذمہ دار حکومت اپنے عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے کرتی ہے۔ بلوچستان کی سرزمین قربانیوں، وفاداریوں اور حب الوطنی کی گواہ ہے۔ اس کے فرزندوں نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع کے لیے اپنا خون پیش کیا ہے، اور آج بھی وہ اپنے مادر وطن کے استحکام کے لیے صف اول میں کھڑے ہیں۔ بلوچ عوام کو سمجھنا ہو گا کہ دشمن کا مقصد بلوچستان کو ترقی سے محروم رکھنا ہے، جبکہ اس وقت ریاست کی اولین ترجیح بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں، صحت مراکز، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبے مکمل کیے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ وہ ہنر سیکھ کر معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔ بلوچستان کی ترقی کا سفر جاری ہے، اور اس راستے میں وقتی مشکلات کو قربانی سمجھ کر برداشت کرنا ہی دانشمندی ہے۔ اگر ہم امن چاہتے ہیں، اگر ہم ترقی چاہتے ہیں، تو ہمیں ریاستی فیصلوں پر اعتماد کرنا ہو گا۔ دشمن کا بیانیہ وقتی طور پر شور مچا سکتا ہے، مگر سچ ہمیشہ غالب آتا ہے۔ تیل کے کاروبار کی یہ عارضی بندش اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرنے، اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے اور بلوچستان کو امن و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ ہے، جس کا ہم سب کو خوش دلی سے خیر مقدم کرنا ہو گا۔ یہ بندش وقتی ہے، مگر اس کے ثمرات دیرپا ہوں گے۔ آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ یہ فیصلہ بلوچستان کے امن و استحکام کی بنیاد بنے گا۔ قوم کا ہر فرد اگر ریاست کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو کوئی طاقت بلوچستان کی ترقی کی راہ نہیں روک سکتی۔ بلوچستان کے عوام باشعور اور محب وطن ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ریاست کے ہر فیصلے کے پیچھے ان کی بھلائی، امن اور محفوظ مستقبل پوشیدہ ہے۔ اس عارضی بندش کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ بلوچستان کو دہشت گردی، سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے شکنجے سے آزاد کرانے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے، جو آنے والے دنوں میں بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنے گا۔ غور کیجئے کہ ملک دشمن عناصر ایک طرف بلوچستان کی پسماندگی، محرومیوں کا رونا روتے ہیں تو دوسری طرف سادہ لوح بلوچ عوام کو ریاست کے خلاف گمراہ کر کے بلوچستان کی ترقی کی راہ میں مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ مگر اب ایسا نہیں ہو گا۔