عرفان صدیقی خاموشی سے چلے گئے، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کچھ دنوں سے وہ بیمار تھے ورنہ میں اْن کی عیادت کے لیے لازمی اسلام آباد جاتا جو کہ اب کل مجھے اْن کے جنازے میں شرکت کے لیے جانا پڑا، میں اس لیے بھی اْن کی عیادت کے لیے جاتا وہ میرے ہر دکھ سکھ میں شریک ہوتے رہے ہیں، 2011ء میں میری والدہ کے انتقال پر اْسی روز وہ تشریف لائے، 2016ء میں میرے والد کے انتقال کے اگلے ہی روز وہ آئے ، 2018ء میں میری بیٹی کی شادی میں مع فیملی وہ شریک ہوئے، 2022ء میں میرے اکلوتے بیٹے کی شادی پر وہ بیرون ملک تھے وہاں سے فون کر کے دعائیں دیں اور جیسے ہی پاکستان واپس آئے میرے گھر مبارک دینے آئے، اس موقع پر اْنہوں نے میری نواز شریف سے فون پر بات بھی کرائی، اْنہوں نے بھی مجھے مبارک دی، اپنی بیماری کا اْنہوں نے پتہ ہی نہیں چلنے دیا، اْن کا آخری کالم میں نے چار نومبر کو’’کابل کے لیے ایک بڑا چیلنج‘‘کے عنوان سے جنگ اور نئی بات میں پڑھا تھا، اْن کے مخصوص انداز میں لکھے جانے والے اس کالم سے بھی یہ تاثر نہیں ملا وہ بیمار ہیں، اْن کی یہ تحریر ویسی ہی جاندار تھی جیسی ہمیشہ ہوتی ہے، مسلم لیگ ن کے ساتھ اْن کی وابستگی پہلی بار کھل کر اْس وقت سامنے آئی جب ن لیگ کے صدر پاکستان رفیق تارڑ کے وہ پریس سیکرٹری بنے، جہاں تک مجھے یادہے اس دوران اْنہوں نے کالم لکھنا بند کر دئیے تھے، وہ صرف صدر پاکستان کی تقریریں لکھتے تھے، تب مجھے اْن کے کالموں کی کمی کا باقاعدہ احساس ہوتا تھا، میں نے شاید اْنہیں خط بھی لکھا تھا کہ سرکاری فرائض کی ادائیگی کے دوران وہ کالم بھی لکھتے رہیں، کیونکہ ایک فارغ یا بے اختیار صدر کی تقریریں لکھنا کوئی ایسا کام نہیں تھا کہ اس دوران کام کا کوئی کام وہ نہ کر سکتے، مگر بہت عرصے تک ان کے خوبصورت کالموں سے ہم محروم رہے، اْس زمانے میں وہ نوائے وقت میں لکھتے تھے، نوائے وقت کی اپنی ایک شان و شوکت تھی یہ ایک نظریاتی اخبار تھا، یہ درست ہے عرفان صدیقی کے بطور کالم نویس اس اخبار سے وابستہ ہونے سے اس کی شان بڑھی تھی، جس روز اْن کا کالم شائع نہ ہوتا یوں محسوس ہوتا نوائے وقت میں کوئی کمی سی رہ گئی ہے، دوسرا نقصان نوائے وقت کو اْس وقت ہوا جب عطاء الحق قاسمی ناروے میں پاکستان کے سفیر بن گئے اور کالم نگاری ترک کر دی، بلکہ یاد آیا ان دونوں سے پہلے نذیر ناجی کے جانے سے بھی نوائے وقت کو بہت نقصان ہوا تھا، یہ تینوں بڑے کالم نگار بعد میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے، نوائے وقت سے اپنی طویل ترین رفاقت کو خیر بات کہنے کی حقیقی وجوہات کیا تھیں ؟ یہ عرفان صدیقی بتا سکتے تھے یا اب عطاء الحق قاسمی بتا سکتے ہیں، مگر یہ طے ہے ان کے چلے جانے سے نوائے وقت کی پوزیشن کمزور ہوئی تھی، عرفان صدیقی بڑے مزے کا ایک واقعہ سناتے تھے، اْنہوں نے جب نوائے وقت کو خیر باد کہا اْن کے ایک پرانے قاری نے اْنہیں فون پر کہا ’’ہمارے گھر نوائے وقت آتا ہے، صبح صبح آپ کا کالم پڑھ کر ہمارا دن اچھا گزر جایا کرتا تھا‘‘، عرفان صدیقی نے جواب دیا ’’آپ کا دن اچھا گزر جاتا تھا اب میرا مہینہ اچھا گزر جاتاہے‘‘، ظاہرہے وہ اپنی اْس تنخواہ کی بات کر رہے تھے جو جنگ میں نوائے وقت سے بہت زیادہ اْنہیں ملنا شروع ہوگئی تھی، اْس وقت کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہوا’’عرفان صدیقی نے محض زیادہ تنخواہ کے لیے ایک نظریاتی اخبار کے ساتھ اپنی طویل وابستگی ختم کر دی ہے‘‘، یہ اعتراض دو حوالوں سے بالکل ناجائز تھا، ایک تو ظاہرہے جنگ کی سرکولیشن نوائے وقت سے زیادہ تھی، اْوپر سے تنخواہ بھی زیادہ تھی تو میں بھی شاید وہی فیصلہ کرتا جو عرفان صدیقی نے جنگ سے آفر آنے کے بعد کیا، اْس وقت ہمارے اکثر صحافی یا کالم نویس صرف ایک تنخواہ پر گزارا کرتے تھے، تنخواہوں کے معاملے میں نوائے وقت بہت کنجوس جبکہ جنگ بڑا فراخ دل تھا، چنانچہ صرف ایک تنخواہ پر گزارا کرنے والوں میں سے کسی کو روزنامہ جنگ سے آفر آتی وہ فوراً قبول کر لیتا تھا، اب تو ہمارے اکثر صحافی کئی کئی تنخواہیں اللہ جانے کہاں کہاں سے لیتے ہیں ؟ ایک صحافی و تجزیہ نگار کے بارے میں پچھلے دنوں میں نے اپنے فیس بک وال پر ایک پوسٹ لگائی تھی، ایوان وزیراعلیٰ کی سکیورٹی پر تعینات میرے ایک جاننے والے پولیس افسر نے ایک روز فون پر مجھ سے پوچھا ’’فلاں صحافی کے ساتھ آپ کے کیسے تعلقات ہیں ؟ آپ اْن سے ایک گزارش کر سکتے ہیں ؟‘‘، میں نے کہا’’میرے اْن سے بہت اچھے تعلقات ہیں، میں بالکل اْن سے گزارش کر سکتا ہوں‘‘، پولیس افسر بولے ’’اْن سے اپنی طرف سے گزارش کریں وہ جب اندر سے ’’لفافہ‘‘ لے کر باہر نکلیں تو رقم گاڑی میں بیٹھ کر گن لیا کریں، وہ اندر سے ہی گنتے آتے ہیں تو ہم رشوت خور پولیس افسروں کو بْرا لگتا ہے‘‘، عرفان صدیقی کے طرز تحریر یا اْن کی خوبصورت نثر کے تو بہت لوگ مداح ہیں، اْن کے سیاسی کردار پر البتہ کچھ لوگوں کو اعتراض ہے، کچھ اس پر خوش بھی ہوں گے، مگرہوس، حرص اور لالچ کے اس دور میں کسی شخص کا یہ کردار قابل تعریف نہیں کہ وہ جس سیاسی جماعت سے ایک بار جڑا آخری وقت تک اْس سے جڑا رہا ؟ جبکہ یہاں بے شمار سیاہ ست دان ایک ایک دن میں کئی کئی پارٹیاں بدلتے رہے، اور اس کے بدلے میں بے شمار حرام مال اْنہوں نے کمائے، ملیں اور فیکٹریاں لگائیں، اندورن و بیرون مْلک جائیدادیں بنائیں، عرفان صدیقی کے کھاتے میں ایسی کوئی بدنامی کم از کم مجھے تو نظر نہیں آتی، لوگوں کا کیا ہے اس وقت پورا معاشرہ منفی سوچ کی زد میں ہے اور اسی لیے تباہی کے آخری مقام پرہے، چنانچہ منفی سوچ کے حامل اس معاشرے میں عرفان صدیقی پر لوگ جتنی چاہیں تنقید کر لیں وہ اب اپنے اللہ کے حضور پیش ہوگئے ہیں، میرے نزدیک اْن کی بخشش کی ایک نشانی یہ بھی ہے زخموں سے چْور چْور آئین پاکستان پر آخری زخم یا ضرب لگانے کی ترمیم میں ووٹ دینے سے وہ محروم رہے، اس سے پہلے ہی اْوپر چلے گئے۔