بھارت کو شاید معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کی فلمی اور خیالی دنیا حقیقت سے کوسوں دور جا چکی ہے اور مودی جیسا غلط فہمیوں کی دلدل میں دھنسا ہوا نامعقول و ناہنجار قصائی نما شخص اپنی بھول بھلیوں میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا تھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اسے بھلیکھا تھا کہ وہ جب چاہے گا پاکستان کو تر نوالہ بنا لے گا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لا محدود شکر ہے کہ ہم نے اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے بھارت کی چتا کو جلتے دیکھ لیا ۔مودی اور مودیئے اپنی مودیانہ خباثتوں سمیت بحر ہند میں غرق ہو چکے ۔ بھارت کا جھوٹا غرور اور بے بنیاد گھمنڈ خاکستر ہو چکا ۔ میں تو کہوں گا کہ تاریخی نظائر اور معروضی حالات سب غلط اور بے اعتبارے ثابت ہوئے ہیں۔ بھارت کی بھول اور اس کے خمیازہ پر بات کرتے ہوئے ہمیں اپنے اندر چھپے ہوئے ان ناسوروں کی خبر ضرورلینی ہے جو پاکیزہ تھالی میں چھید کرنے کی خام خیالی میں پوری طرح جتے ہوئے تھے ۔ ایک یوٹیوبر ’’ مصلی ‘‘پاکستان میں ہی بیٹھ کر یہ کہتا دکھائی دیا کہ انڈیا کے پاس اس سے زیادہ آئیڈیل وقت نہیں ہو سکتا کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے ۔ اس کی اس بکواس کے چند ہی گھنٹے بعد پورے عالم نے دیکھا کہ پوری پاکستانی قوم اور افواج پاکستان ’’ بنیان مرصوص ‘‘ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح بھارتی و مودیانہ عزائم کے سامنے ڈٹ کے کھڑی تھی ۔دشمن کیلئے تو یہ قیامت کی گھڑی تھی ہی ہمارے اندر موجود چند منافقین بھی تلملا اٹھے ہونگے جن کی چند دن پہلے اور فتح مبین کے بعداب کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹس پڑھ کر قرآن کریم کی آیت کریمہ ذہن میں آ رہی تھی(سورۃ النسا،آیۃ۱۴۱)، آپ بھی پڑھئے ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے انجام کا انتظار کر رہے تھے ، اگر تمھیں اللہ کی طرف سے فتح عطا ہو جائے تو کہہ دیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے اور اگر کفار کو کچھ نصیب ہو جائے تو ان سے کہیں گے کیا ہم لڑنے پر قادر نہ تھے اس کے باوجود ہم نے تم کو مومنوں سے بچایا، پس اے اہل نفاق! اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے د ن فیصلہ فرمائے گا اور اللہ کافروں کیلئے مومنوں پر غالب آنے کا کوئی رستہ ہرگز نہیں بنائے گا ‘‘تاریخ میں امر ہو جانے والے 10 مئی 2025ئکے دن کے حوالے سے میں کسی اخباری خبر ، سوشل میڈیائی پراپیگنڈے یا ٹیلیویژن تجزیے کو بنیاد بنانے کی بجائے اپنے ذاتی تجربے اور عینی مشاہدے کو اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہتا کہ دس مئی کی صبح جب میں نماز فجر کا وضو کر رہا تھا تو لاہور ائیرپورٹ کے بالکل سامنے دو یا تین ڈرونز منڈلا رہے تھے، پوری فضا اور ارد گرد کے ماحول میں جنگی ماحول کی بازگشت تھی ۔ حیرانگی کی بات یہ کہ نہ کوئی سہما نہ کوئی گھبرایا اور سو فیصد حقیقت کہ ہم نے اس دن فجر کی نماز ڈرونز کے سائے میں ادا کی۔ کسی بھی قسم کی گھبراہٹ سے بے بہرہ جوان و بزرگ اپنے مولا کے حضور سجدہ ریز تھے اور دست بہ دعا تھے کے مالک ہمیں سرخرو فرما ۔ دعائوں اور التجائوں میںپر کیف سا عزم اور فتح کا احساس و یقین شامل تھا۔ ابھی نماز فجر ادا کر کے گھر پلٹا نہیں تھا کہ راستے میں ہی آپریشن بنیان مرصوص کے شروع ہونے کا پتہ چل گیا ۔ بس پھر کیا تھا کہ آناً فاناً وہ تمام قیاس آرائیاں اور مفروضے جو اپنوں میں چھپے چند ناسور اپنے سینوں میں لئے بیٹھے تھے انہیں ان کے ناپاک سینوں سے کرید کرید کر نہ صرف نکالا گیا بلکہ دیکھتی آنکھوں کے سامنے ملیا میٹ کر دیا گیا ۔گھس کے مارنے کا مطلب کیا ہوتا ہے اس پر اب مزید کچھ کہنے یا لکھنے کی ضرورت نہیں سب کو سب پتہ چل چکا ہے ۔ البتہ ایک اہم اور دل افزا بات یہ کہ ہم بہت ساری بے خبریوں کی طرح اس بے خبری کا بھی شکار تھے یا ہمیں بار باربغیر تصدیق کے یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ انڈیا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بہت آگے جا چکا ہے ۔اور کچھ ناقدرے تو اس میدان میں پاک بھارت مقابلہ کے ہی قائل نہ تھے ۔ صد شکر کہ یہ بھی فیک نیوز ہی ثابت ہوئی اور یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حالیہ کشیدگی اور لڑائی میں پاکستان نے تاریخ کا سب سے بڑا اور کامیاب سائبر حملہ کر کے بھارت کو بھاری مالی و دفاعی نقصان پہنچایا۔ پاکستان نے مواصلاتی لائنوں ،ائیر ڈیفنس سسٹم اور بھارت کے ڈیجیٹل ڈیفنس کنٹرول کو غیر مؤثر کرنے سمیت بھارت کی بہت سی سرکاری و دفاعی ویب سائٹس بھی ہیک کر لیں۔اس تاریخی اور ناقابل یقین سائبر اٹیک کے نتیجے میں بھارت کے ستر فیصد سے زیادہ علاقوں کی بجلی بند کر دی گئی ۔متعدد شہروں کے اہم بھارتی ائیر بیس اور بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، اسلحے کے ڈپو اور دفاعی تنصیبات کو تباہ کردیا گیا ، مشہور زمانہ رافیل طیاروں سمیت کئی جنگی جہاز مار گرائے گئے ، ریڈار سسٹم بے اثر کر دیئے اور کمانڈ سنٹرز ملیا میٹ کر دئیے گئے ۔ ہمارے جیمنگ ٹولز نے چند ثانیوں میں ہی بھارت کا سارے کا سارا دفاعی و جنگی ڈھانچہ ناکارہ کر دیا اور وہ چاروں شانے چت ہو گئے۔ یہ ہماری روایتی اور وراثتی رسم شجاعت تھی جس کا برملا اظہار افواج پاکستان کے جری جوانوں کی جانب سے بھرپور انداز میں کیا گیا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پورے عالم میں اپنی دھاک بٹھا دی اور بڑی بڑی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔ شریر ہمسائے کی طرح بابار چھیڑ خانی کرنے والا بھارت بھاگم بھاگ امریکہ بہادر کے چرنوں میں پہنچا اور اس کی وساطت سے رحم کی اپیلیں کرنے لگا ۔ یہ محض مبالغہ آرائی اور لفظی معرکہ آرائی ہی نہیں بلکہ بھارت کے اپنے آفیشلز کی طرف سے بیان کی جانے والی حقیقت ہے جبکہ جنگ بندی کی خواہش کا اظہار ریکارڈ پر آچکا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود ہمیں جاگتے رہنے کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی اور حفاظت پر مامور تمام سکیورٹی اداروں ، افواج باالخصوص سپہ سالار حافظ سید عاصم منیرکیلئے دعائوں اور تہنیت کو جاری رکھنا ہے۔دفاعی سلامتی کے ضامن اداروں کو داد شجاعت دیتے ہوئے ہمیں اپنی نظریاتی سرحدوں کی پاسبانی کی بابت بھی اپنے آپ کو تیار کرنا ہے ۔ دشمن کا حملہ صرف جغرافیائی سرحدوں پر ہی نہیں نظریاتی محاذ پر بھی مسلسل ہے اور اس کا تدارک مستند تاریخی حقائق کو نسل نو تک پہنچائے بغیر ممکن نہیں۔ اس ضمن میںمجھے مائونٹ بیٹن اور گاندھی کی چالبازیوں کے متعلق ادارہ نظریہ پاکستان کی شائع کردہ ایک کتاب پڑھتے ہوئے نہ جانے کیوں خیال آ رہا تھا کہ اب ادارہ نظریہ پاکستان کو چاہئے کہ نسل نو کو مودی کی خباثتوں سے آگاہ کرنے کیلئے ایک نئی کتاب شائع کرے جس کا عنوان گاندھی کی بجائے ’’مودی کی چالبازیاں‘‘ ہو۔