نمرود اپنے وقت کا طاقتور ترین بادشاہ تھا۔ وہ طاقت کے نشے میں خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اسے اس دعوے کی سزا یوں ملی کہ اس کی موت ایک مچھر کے ہاتھوں ہوئی۔ چھوٹا سا مچھر اس کی ناک میں گھس گیا اور دماغ تک پہنچ گیا۔ نمرود نے بہت سر پٹخا لیکن اس مچھر کو باہر نہ نکال سکا پھر ایک وقت آیا جب مچھر اسے کاٹتا تو خدائی کا دعویٰ کرنے والے بادشاہ کے سر پر جوتے برسائے جاتے، جوتوں کی ضربات سے اسے قدرے سکون ملتا یوں جوتے کھاتے کھاتے اس کی موت واقع ہو گئی۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ وقت کے دو نمرودوں کی ناک میں ایران گھس گیا ہے۔ دونوں کے پاس اس سے نجات کا کوئی راستہ نہیں۔ دونوں گرم ہوتے موسم میں ایران کے برسائے جانے والے میزائلوں کی آگ تاپنے پر مجبور ہیں۔ وہ کبھی قطر کو فون کرتے ہیں۔ کبھی روسی صدر سے کہتے ہیں کہ ایران سے کہہ سن کر جنگ بند کرا دیں اور ہماری جان چھڑا دیں۔ آج امریکہ اور اسرائیل تاریخ کی حیرتناک، عبرتناک اور شرمناک شکست کو بہت قریب سے دیکھ کر بوکھلا اٹھے ہیں۔ امریکہ کے سات اڈوں پر موت کا رقص ہے۔ اسرائیل کے شہروںپر قیامت ٹوٹ چکی ہے، اس کا دارالحکومت ہڑپہ اور موہنجوڈارو کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ حیفہ کے شہر اور بندرگاہ پر موت کا سکوت طاری ہے۔ ڈیمونہ کا ایٹمی پلانٹ تباہ ہو چکا ہے۔ بیت الشمس کی بلند و بالا عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں۔ یروشلم ہر شب نئے میزائلوں کا ذائقہ چکھتا ہے۔ اشکلون اور بعض دیگر شہروں میں بنائے گئے زیر زمین پناہ گاہوں تک وہ میزائل پہنچ گئے ہیں جو اپنے ہدف کو پہلے نشانہ بناتے ہیں، ان کی آواز بعد میں آتی ہے۔ عراد، ہولون، راحت، بیرشیوا، اشدود اور کریات گیٹ کے علاقوں میں کثیرالمنزلہ عمارات کی پارکنگ میں سیکڑوں زخمی پڑے ہیں جہاں ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کے سبب ایمرجنسی میں ہسپتال قائم کئے گئے ہیں۔ پورے اسرائیل میں لاکھوں اسرائیلی ایسے ہیں جنہوں نے خود کو پناہ گاہوں میں مقید کر رکھا ہے جہاں ہر ایک گھنٹے بعد خطرے کا سائرن بجتا ہے اور میزائلوں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔ موت کے خوف نے شہریوں کے رنگ اجاڑ دیئے ہیں اور نیند چھین لی ہے۔ بے خوابی اور اعصابی تنائو کے باعث لوگ نیم پاگل پن کا شکار نظر آتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے کو کتے کی طرح کاٹنے کے لئے دوڑتے ہیں۔ پناہ گاہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، یہاں آنے والے ہر مرد اور عورت کو تن پر پہنے ہوئے لباس کے علاوہ فقط ایک جوڑا ہمراہ لانے کی اجازت ہے۔ پناہ گاہیں کم پڑ گئی ہیں، پناہ لینے والے ان کی نسبت بہت زیادہ ہیں لہٰذا سیدھا لیٹنے کے لئے بمشکل جگہ ملتی ہے۔ کروٹ بدلیں تو یوں لگتا ہے جیسے زمانہ امن ہے اور آپس میں بہت پیار کرنے والے میاں بیوی ڈبل بیڈ پر لیٹے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی جھپی ڈل جاتی ہے۔ اسرائیل ایک آزاد و بے حجاب معاشرہ ہے۔ موت کے خوف سے پناہ گاہوں میں جانوروں کی طرح موسم سرما میں ایک دوسرے سے چپکے ہوئے مرد و زن یوں پڑے ہیں کہ کسی کا سر کسی کی گود میں ہے، کسی کا سر دوسرے کی ٹانگوں میں نظر آتا ہے۔ بن گورین اور دوسرے ائیرپورٹ بند ہیں، نہ کوئی پرواز فضا میں بلند ہوتی ہے، نہ کسی جہاز کے پہیے زمین کو چھو سکتے ہیں۔ میزائلوں نے رن وے پر جا بجا گہرے گڑھے بنا دیئے ہیں، یوں کوئی رن وے قابل استعمال نہیں بعض شہروں اور خصوصاً تل ابیب میں بجلی گھر اڑا دیئے گئے ہیں لہٰذا سورج غروب ہوتے ہی سب کچھ اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔ میزائل حملوں سے بچنے کے لئے بنائی گئی پناہ گاہیں کبھی فائیوسٹار تھیں۔ آج وہاں تاروں کی روشنی بھی میسر نہیں، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ کچھ لوگوں کے لئے اندھیرا بڑی غنیمت ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں کسی کونے میں پڑ کر ایک چادر اوڑھ کر سکون تلاش کر لیتے ہیں۔ درجنوں اسرائیلی کمانڈر اور بعض اہم سیاسی شخصیات موت کے گھاٹ اتر چکی ہیں۔ یہ اطلاعات جب عام آدمی تک پہنچتی ہیں تو اس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔ پناہ گاہوں میں آنے والے کمسن بچے جب رونے لگتے ہیں تو مائیں انہیں چپ کرانے کے لئے ان سے زیادہ شور مچانے لگتی ہیں، ایسے میں جب اچانک خطرے کا سائرن بجتا ہے تو موت کا سکوت چھا جاتا ہے۔ کسی شہر میں انفراسٹرکچر نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ کئی دہائیاں قبل کے مناظر آج ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو کسی اور انداز میں دہرا رہے ہیں۔ کویت پر حملہ ہوا تو اس کے تیسرے دن کویت میں موجود مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے بے سروسامانی کے عالم میں نکل کھڑے ہوئے، ائیرپورٹ بند تھے لہٰذا جس کے پاس گاڑی تھی وہ اپنی گاڑی میں جو بے کار تھا، وہ پیدل ہی کسی محفوظ مقام کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ہزاروں افراد اپنے آپ کو گھسیٹتے کسی انجانی منزل کی طرف دوڑتے نظر آتے تھے۔ آج اسرائیل میں یہی منظر ہے۔ بڑے شہروں کو چھوڑ کر دور دراز اور کم اہم علاقوں کی طرف انسانوں کے غول کے غول سفر کرتے نظر آتے ہیں اور وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ ایران نے ایسے قافلوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی نہیں اپنائی، دکانیں، مارکیٹیں ڈھونڈنے سے نظر نہیں آتیں، لوگ اسی طرح قطاروں میں لگ کر اشیائے ضرورت حاصل کرتے ہیں جیسے غزہ کے بے سروسامان زخموں سے نڈھال مرد ، خواتین اور بچے ہاتھوں میں پلیٹیں اور خالی گلاس پکڑے نظر آتے تھے۔ آج کی لگی قطاریں محفوظ ہیں۔ ان پر میزائل نہیں برس رہے جبکہ غزہ میں ان نہتے افراد پر بم برسائے جاتے تھے اور ہسپتالوں تک کو نہ بخشا گیا۔
دنیا نے سٹیلتھ طیاروں کا بہت سن رکھا تھا۔ ایران نے سٹیلتھ ڈرون میدان میں اتارا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حربی سائنسدان اس ایجاد کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن ان کے پاس فی الحال اس سے بچائو کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ اسرائیلی اور امریکی جرنیل ابھی اس شاک سے باہر نہیںآسکے جو انہیں ایران کی طرف سے طویل ترین جنگ کے لئے آمادگی کی خبروں سے پہنچا ہے۔ اسرائیلی سپاہ کے بعد اب امریکی فوجی محاذ پر جانے سے بچنے کے لئے بہانے تراشنے لگے ہیں، انہیں احساس ہو گیا ہے انہیں پرائی جنگ کا ایندھن بنانے کے لئے چنا گیا ہے، ایسی جنگ جس کا کوئی جواز نہ تھا، ایسی جنگ جسے روکا جا سکتا تھا۔ سب سے زیادہ نازک حالت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جو جنگ کے اول روز جیت کا کریڈٹ لینے کے لئے بے قرار نظر آتے تھے۔ آج شکست کو دیکھ کر جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری اپنے وزیروں اور مشیروں پر ڈال رہے ہیں، جنگ ختم ہوتے ہی وار زون سے امریکہ کا بوریابستر گول ہو جائے گا۔ ساتھ ہی ٹرمپ کا اقتدار بھی ختم جبکہ نیتن یاہو کی موت کی خبر بھی آسکتی ہے۔ نمرود اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔