Wed, September 16, 2026

کبھی نہ ختم ہونے والے دُکھ

کبھی نہ ختم ہونے والے دُکھ


انسان کی زندگی میں بیشمار دُکھ ایسے آتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتے ہیں پر اپنے کسی خونی رشتے کے انتقال کا دُکھ، خاص طور پر اچانک انتقال کا دُکھ ایسا ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت بڑھتی جاتی ہے، زندگی ایک پل میں انسان کو پتہ نہیں کہاں سے کہاں لے جاتی ہے جس کا انسان نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا، اسی لیے کہتے ہیں جو وقت اچھا گزر جائے اُس پر اللہ کا شُکر ادا کریں اور اُس بات کا بھی شکر ادا کریں غم انسان کی زندگی میں مستقل نہیں رہتے، خوشیاں بھی مستقل نہیں رہتیں، یہ نظام کائنات ہے اور یہی نظام قدرت بھی ہے، ایک وقت میں درختوں سے تمام پتے جھڑ جاتے ہیں، شاید اسی وقت کے بارے میں خوبصورت شاعر مرحوم اختر حسین جعفری نے کسی رخصت ہو جانے والے کے لیے کہا تھا۔
تُجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں؟ 
تو جُدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں
درختوں کے ہاتھ خالی ہونے سے شاعر کی مُراد وہ وقت ہے جب درختوں سے سارے پتے جھڑ جاتے ہیں، پھر نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں، نئی شاخیں نکلتی ہیں، درخت دوبارہ ہرے بھرے ہو جاتے ہیں، اُنہیں پھر نئی زندگی مل جاتی ہے، یہی معاملہ رات کا ہے، رات طویل ہو سکتی ہے مستقل نہیں ہو سکتی، انسانی معاملات بھی ایسے ہی چلتے ہیں، کبھی خوشی کبھی غم، کچھ غم مگر ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ کی رضا سمجھ کر یا شُکر سے برداشت کرنے کے لیے اس شعر جیسا جگرا چاہیے۔
جناں دکھاں وچ دلبر راضی
تے اُناں تو سکھ وارے
دُکھ قبول محمد بخشا
تے راضی رہن پیارے
یعنی اگر میرا رب میرے دُکھوں میں راضی ہے میں نے سُکھ لے کے کیا کرنے ہیں؟ یا جیسے واصف علی واصف سے کسی نے پوچھا تھا ”خوش قسمت کون ہے؟“ وہ بولے ”جو اپنی قسمت پر خوش ہے“۔ اپنی قسمت پر ہر حال میں وہی خوش ہو سکتا ہے جس کا ایمان اپنے رب پر بڑا مضبوط ہو، جیسے میرے محترم بھائی میاں عادل رشید نے اپنے اکلوتے بیٹے احمد جاوید کے قتل پر ایک آنسو نہیں بہایا، وہ شُکر کے مقام پر رہے جو صبر کے مقام سے بڑا ہے، اگلے روز مری میں پھر ایک حادثہ ہو گیا، کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے مری حادثات کی آماجگاہ بنتی جا رہی ہے، ملتان کا ایک خاندان سیر و تفریح کے لیے مری جا رہا تھا راستے میں موت نے گھیر لیا، وین کو آگ لگ گئی خاندان کے دس سے زائد افراد انتقال فرما گئے، بیشمار زخمی بھی ہیں، کاشف نامی ایک شخص کی والدہ، بیوی اور پانچ بچے بھی انتقال فرما گئے، میں سوشل میڈیا پر اُس کی آہ و بکا سُن رہا تھا، میرا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا، اتنا بڑا سانحہ اچانک ہو گیا، یہ خاندان اپنی طرف سے چار دن مل بیٹھ کر خوش ہونے کے لیے گُزارنے جا رہا تھا، ساری عمر کا دُکھ وہاں سے لے آیا ہے، اللہ لواحقین کو صبر دے، دُنیا سے رخصت ہو جانے والوں کے لیے کوئی کہتا ہے وہ مر گئے، کوئی کہتا ہے فوت ہو گئے، کوئی کہتا ہے جاں بحق ہو گئے، میرے نزدیک اصل لفظ ”انتقال“ ہے، یہ لفظ ”منتقل“ سے نکلا ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو انتقال کہتے ہیں، سو انتقال فرما جانے والے اللہ کے پاس چلے جاتے ہیں جو ستر ماو¿ں سے بڑھ کر اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے، مرتے پیچھے رہ جانے والے ہیں اور وہ پل پل مرتے ہیں، احمد ندیم قاسمی کا شعر ہے
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاو¿ں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاو¿ں گا
اصل موت اُن کی واقع ہوتی ہے جو ساری عمر سمندر کنارے کھڑے ہو کر اپنے اپنے پیارے ”دریاو¿ں“ کی راہ تکتے رپتے ہیں، مری اور دیگر پہاڑی علاقوں میں حادثات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ابھی پچھلے دنوں میری بیگم کی ایک دوست غزالہ زاہد کی فیملی کے ساتھ بھی ایک حادثہ ہوا، جانی نقصان الحمد للہ کوئی نہیں ہوا مگر زخمیوں کی حالت ابھی تک نہیں سنبھل سکی، ہمارے بیشتر پہاڑی علاقوں میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، سڑکوں کے جال بہت بچھائے جا رہے ہیں مگر بہت کم ایسے ہسپتال ہیں جہاں کسی حادثے میں شدید زخمیوں کی جان بچانے کے مکمل انتظامات ہوں، بس ناقص سی فوری طبی امداد دے کر ایسے مریضوں کو بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں بھیج دیا جاتا ہے، بیشمار مریض منتقلی کے دوران ہی انتقال فرما جاتے ہیں، افسوس کا مقام ہے ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات ہی اور ہیں، وہ ایسی آئینی ترمیموں میں اُلجھے ہوئے ہیں جن کا کوئی فائدہ براہ راست عوام کو نہیں ہونا، ایک اور حادثہ یاد آ رہا ہے، ایک صاحب اپنی بیگم اور دو بچوں کے ساتھ مری جا رہے تھے، گاڑی اُس وقت ”چڑھائی“ پر تھی، گاڑی میں موجود ایک بچے نے سڑک پر پاپ کارن کا ٹھیلہ دیکھا اُس نے کہا میں نے پاپ کارن کھانے ہیں، اُن صاحب نے گاڑی کو ہینڈ بریک لگائی اور باہر نکل کر ”پاپ کارن“ خریدنے لگا، اُن کی بیگم گاڑی میں فون پر کسی سے محو گفتگو تھی، اس دوران بچے نے گاڑی کی ہینڈ بریک نیچے کر دی جس سے گاڑی لُڑھکتی ﺅئی گہری کھائی میں جا گری، وہ صاحب دیکھتے رہ گئے، اُن کا کچھ نہیں بچا، ایسے سانحات کا ذکر کرنا میرے لیے بہت مشکل ہوتا ہے، میرا دل بھر آتا ہے، مگر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں ہم جب سفر پر ہوتے ہیں ہمارا پورا دھیان سفری معاملات پر ہونا چاہیے، دوران سفر موبائل سُننے کا جو عذاب ہم نے پالا ہوا ہے وہ بھی بڑے حادثات کا باعث بن رہا ہے، موت برحق ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکتا، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر رہنی ہے، جتنے سانس دُنیا میں اللہ نے لکھے ہیں اُن میں کمی بیشی ممکن نہیں، یا جتنا رزق اللہ نے دُنیا میں کسی انسان کا لکھا ہے وہ اُس نے پورا کرنا ہے، مسئلہ یہ ہے کچھ لوگ موت کو خود دعوت دیتے ہیں، ”آ موت مجھے مار“، یہ بھی ایک ”خود کشی“ ہوتی ہے، جیسے بیشمار لوگوں کو اللہ بہت خوش شکل بناتا ہے مگر وہ اپنے جسموں کو اپنی شکلوں کے مطابق نہیں رکھتے، یہ ”کفران شکل“ ہے، بڑے بڑے خوبصورت چہروں والے اپنے جسموں کو ایسا بھدا، موٹا یا بے ڈھنگا بنا لیتے ہیں اُن کا خوبصورت چہرہ اُن کے بھدے اور موٹے جسموں تلے چُھپ جاتا ہے، دعا ہے اللہ ہم سب کو حادثات و آفات سے محفوظ فرمائے، اپنی یادوں سے جوڑے رکھے، اور اُس راستے پر چلائے جو اُس کا پسندیدہ راستہ ہے۔

ٹیگز: