یہ 2014 کے مشہور و معروف دھرنوں کا زمانہ تھا جب چہار سو میرے قائد انقلاب کی جے جے کار تھی ہر روز شام کو جب میلہ سجتا تو میرے قائد انقلاب ایمپائر کی انگلی کا ذکر کرنا نہیں بھولتے تھے کیونکہ انھیں اس وقت بھی عوام کو دھرنے میں لانے کے لئے اپنی مقبولیت سے زیادہ ایمپائر کی انگلی پر بھروسہ تھا لیکن وہ انگلی کبھی اٹھ نہ سکی اور میرے قائد محترم 126 دن کے ریکارڈ دھرنوں کے بعد ناکام و نا مراد واپس لوٹے اس وقت پورے میڈیا پر ایک بات کا تذکرہ اپنے عروج پر تھا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی اپنا وزن دھرنوں کے حق میں ڈال دے تو نواز لیگ کی حکومت خطرے میں پڑ جائے گی سب نظریں آصف علی زرداری پر تھیں اور کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ہماری نظر میں وہ ایک بڑے سیاسی مدبر ہیں انھوں نے بی بی صاحبہ کی شہادت کے موقع پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اپنی حب الوطنی کا ناقابل تردید ثبوت دیا تھا تو ان دھرنوں کے حامیوں کو ان سے جو توقعات تھیں انھیں یکسر رد کرتے ہوئے اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالا تھا لیکن اصل بات وہ حقیقت تھی کہ جس کی طرف جناب آصف علی زرداری نے اشارہ کیا تھا کہ اگر پانچ دس ہزار کے جتھوں کے دباو¿ میں آ کر اس ملک میں حکومتیں بدلنے کی روایت پڑ گئی تو پھر اس ملک میں جتھے اکٹھا کر کے لانے اور انھیں دھرنے کی صورت بٹھانے کی سب سے زیادہ صلاحیت مذہبی انتہا پسند گروہوں میں ہے لہٰذا اس رجحان کی کسی صورت پذیرائی نہیں ہونی چاہئے اور جو بھی مسائل ہیں انھیں پارلیمنٹ میں عوام کے منتخب فورم پر حل ہونا چاہئے۔
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ کشمیر میں حالات سب OK OK ہیں تو یہ بات درست نہ ہو گی لیکن اب حالات اتنے بھی خراب نہیں ہیں کہ جس طرح کی تصویر کشی انڈین میڈیا اور پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا کر رہا ہے ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ اس جماعت کے ساتھ مسئلہ کیا ہے کہ اپنی جانب سے دی گئی احتجاج کی تمام کالز ناکام ہونے کے بعد اب یہ "ہر جمعہ جنج نال" کے مصداق ہر احتجاج کے ساتھ ہو جاتی ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی نے دس جون کو ہڑتال کی کال دی جو پورے کشمیر میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی اب وہ مختلف شہروں سے لانگ مارچ کر کے لوگوں کو مظفر آباد پہچانے کی کوشش کر رہی ہے اور وہاں اگر قابل ذکر تعداد میں لوگ پہنچ جاتے ہیں تو پھر وہی جتھوں کے ذریعے دباو¿ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروانے کی کوشش کرے گی حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس سے بھی بہترین حل موجود ہے کہ اب تو کشمیر میں الیکشن کی تاریخ بھی آ چکی ہے اور 27 جولائی کو وہاں پر الیکشن ہیں کالعدم ایکشن کمیٹی کو اگر اپنی عوامی حمایت و مقبولیت پر بھروسہ ہے تو جہاں اتنا انتظار کیا ہے وہاں ڈیڑھ دو ماہ اور انتظار کر لیں اور اپنے ووٹ کا پہرہ دے اگر عوام اس کو دو تہائی اکثریت سے ووٹ دے دیتے ہیں تو وہ منتخب ہو کر حکومت بنائے اور اپنی دو تہائی اکثریت کے بل پر ایک آئینی ترمیم کے ذریعے مہاجرین کی بارہ سیٹیں ختم کر دے اس لئے کہ بارہ سیٹوں کے حق اور مخالفت دونوں اطراف دلائل ہیں جو لوگ ان سیٹوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کی تھی تو اب وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ اب ان کی تیسری چوتھی نسل ہے اور یہ سب پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں اس لئے یہ مہاجر نہیں ہیں اور پھر یہ پاکستان میں جب جنرل الیکشن ہوتے ہیں تو اس میں۔ بھی ووٹ ڈالتے ہیں تیسری بات کہ کشمیر کی کل نشستیں 53 ہیں جن میں سے پانچ خواتین کی اور تین علماءو مشائخ یا ٹیکنوکریٹ کی ہیں جبکہ 45 پر براہ راست الیکشن ہوتا ہے اب ان 45 میں سے 12 کا عدد ایک بڑا عدد ہے اور ان 12 میں سے 9 یا 10 سیٹیں پنجاب میں ہیں جہاں پر جو پارٹی اکثریت لے جاتی ہے تو اس کا کشمیر کے انتخابات پر بہت زیادہ اثر پڑے گا اور پھر مہاجر ہونے کی تصدیق کا عمل بھی کوئی بہت زیادہ شفاف نہیں ہے بلکہ اگر ایک ایم ایل اے اپنے لیٹر پیڈ پر تصدیق کر دے تو اسے مہاجر کا اسٹیٹس مل جاتا ہے دوسری جانب جو لوگ ان نشستوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ان کے دلائل میں بھی وزن ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ان سیٹوں کو ختم کر دیا گیا تو ایک تو اس سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بھائیوں سے ہمارا رشتہ ٹوٹ جائے گا اور ان کشمیری مہاجرین نے پاکستان کے لئے بے بہا قربانیاں دی ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ ان کی لازوال قربانیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان سے ان کے ووٹ کا حق اور کشمیری شناخت چھین لی جائیں اور اس کے علاوہ انتہائی اہم یہ کہ اگر ہم ان سے ان کا کشمیری ہونے کا اسٹیٹس چھین لیتے ہیں تو مقبوضہ کشمیر میں مسلمان اور ہندو آبادی کا تناسب بدل جائے گا جس سے مستقبل میں اگر اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کا انتظام کرتی ہے تو ہندوستان اسے خوشی خوشی تسلیم کر لے گا اور ہندو آبادی زیادہ ہونے کے سبب اس کے نتائج پاکستان اور مظلوم کشمیری عوام کی بجائے غاصب ہندوستان کے حق میں جانے کے خدشات پیدا ہو جائیں گے اس لئے ان سیٹوں کو کسی طور ختم نہیں کیا جا سکتا یہ دونوں اطراف کے دلائل ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے جو بھی مطالبات ہیں انھیں مذاکرات سے حل ہونا چاہئے یا پھر اگر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا ہی ہے تو پھر آئین اور قانون تو صرف پر امن احتجاج کی اجازت دیتے ہیں لیکن جس طرح کالعدم ایکشن کمیٹی کے دو ارکان کی آڈیو کال سامنے آئی ہے تو اس سے تو صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کی نیت بالکل بھی نیک نہیں ہے بلکہ یہ لاشیں گرا کر کشمیر کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں اور یہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق رائے دہی بھی نہیں دینا چاہتے۔