Wed, September 16, 2026

بجٹ بنانے والے اور بیواﺅں کی بددعائیں

بجٹ بنانے والے اور بیواﺅں کی بددعائیں

 لوگ کہتے ہےں کہ سونے چاندی کے برتنوں مےں کھانے والے غرےبوں کے بجٹ کے بارے مےں کےا جانتے ہوں گے؟ مگرہمارے غریب پرور وفاقی وزےر خزانہ بالکل بھی اےسے نہےں ہےں۔ آپ کا کےا خیال ہے؟ چلئے بس آپ اپنا خیال اپنے تک ہی رکھیے ہمیں نہ بتائیے کیونکہ وہ کہتے ہیں ناں کہ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔ لوگ کہتے ہےں کہ جب کوئی وزیر خزانہ ملک کا بے تاج بادشاہ ہو اور اسے حمایت بھی حاصل ہو تو وہ لکشمی دےوی کو اپنے قابو میں کرنے کا گُر تو جانتا ہوگا لیکن غریب عوام کو مہنگائی کے جن کے پنجوں سے چھڑانے کا گُر کتنا جانتا ہوگا اِس بات کا پتا نہیں۔ آپ کا کےا خیال ہے؟ لوگ کہتے ہےں کہ پاکستان کے سب مالدار اپنی دولت کو ملک سے باہر بھےج کر پاکستان کو غرےب کرنے کا باعث بنے ہےں مگرہمارے وفاقی وزےر خزانہ ایسے مالداروں کا پکا بندوبست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ کا کےا خےال ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ بجٹ ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے۔ اس کے عملی فائدے گفتگو کی حد تک ہی ہوتے ہیں مگر ہمارے وفاقی وزیر خزانہ بالکل بھی ایسے نہیں ہیں۔ آپ کا کےا خےال ہے؟ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دس فیصد اور سرکاری پنشنروں کی پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین، قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں ڈھائی لاکھ سے ایک دم بڑھا کر اکیس لاکھ سے زائد تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ یقینا یہ غریب پروری کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس بات پر اعتراض کرنے والوں کو ہمارے غریب پرور پڑھے لکھے وفاقی وزےر خزانہ نے جواب دیا کہ 2016ءسے لے کر اب تک مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہوا جبکہ سینیٹ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین، قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں اب تک اضافہ نہیں ہوا تھا۔ اگر اضافہ ہوا ہوتا تو بات یہیں تک پہنچتی۔ ہمارے غریب پرور پڑھے لکھے وفاقی وزےر خزانہ سے پوچھنا چاہئے کہ کیا باقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں بھی مہنگائی اور افراط زر کی مناسبت کے مطابق اسی رفتار سے اضافہ کیا گیا ہے؟ آپ کا کےا خیال ہے؟ سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد متوفی کی پنشن اس کے شریک حیات کو تاحیات ملتی تھی لیکن اب غریب پروری کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے متوفی کے شریک حیات کو صرف دس سال تک متوفی کی پنشن ادا کی جائے گی یعنی یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ دس سال کے بعد متوفی کے شریک حیات کی آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا اور وہ پنشن جیسی بھیک کو خود ہی مسترد کردے گی یا کردے گا یا متوفی کے شریک حیات دس سال بعد بیماری، کسمپرسی یا غربت کے ہاتھوں خودبخود مرجائیں گے یا خودکشی کرلیں گے، اس طرح ریاستی خزانے پر بوجھ ختم ہو جائے گا۔ متوفی کے شریک حیات کی پنشن کے لیے دس سال کا عرصہ مخصوص کردینا بے رحمی اور ظالمانہ پن کی انتہا ہوسکتی ہے لیکن یہ کسی معمولی فلاحی ریاست کا بھی کام نہیں ہوسکتا۔ پاکستان میں بہت کم ایسے اقدامات ہیں جو صحیح معنوں میں فلاحی ریاست کے زمرے میں آتے ہیں، ان میں سے ایک سرکاری ملازم کی وفات کے بعد متوفی کی پنشن کا اس کے شریک حیات کو تاحیات ملنا تھا اور اب یہ بجٹ 2025ءمیں ہمارے غریب پرور پڑھے لکھے وفاقی وزےر خزانہ نے ختم کردیا ہے۔ خدارا بیواﺅں سے اِس قسم کی بددعائیں تو نہ لیں۔ آپ کا کےا خےال ہے؟ بجٹ میں سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری کے لیے متوجہ کرنے والی پالیسیوں کو دیکھ کر اےک پرانی کہانی یاد آتی ہے۔ اےک مرتبہ اےک بستی میں بندروں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ مقامی لوگ بندروں سے بہت تنگ آگئے تھے۔ انہیں بندروں سے جان چھڑانے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آتا تھا۔ اےک دن اچانک اےک سرمایہ دار بستی میں آےا۔ اس نے اعلان کےا کہ وہ فی بندر سو روپے کا خریدے گا۔ مقامی لوگ بہت حیران ہوئے اور خوش بھی۔ حیران اس لئے کہ بندر جیسے فضول اور بدتمیز جانور اس سرمایہ دار کو کےا فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ خوش اس لیے کہ نہ صرف بندروں سے ان کی جان چھوٹ رہی تھی بلکہ پیسے بھی مل رہے تھے۔ دےکھتے ہی دےکھتے مقامی لوگوں نے سب بندر پکڑے اور سرمایہ دار کو فروخت کر دیئے۔ سرمایہ دار نے بڑی ایمانداری سے ہربندر کے عوض سوروپے ادا کئے۔ پوری بستی میں اب کوئی بندر باقی نہیں بچا تھا۔ سرمایہ دار نے اعلان کےا کہ اب جو بھی بندر لائے گا اسے دگنی قیمت ادا کروں گا۔ لوگ اردگرد پھیل گئے اور بچے کھچے چند بندر بھی پکڑ لائے۔ سرمایہ دار نے انہیں فی بندر دوسو روپے دے دیئے۔ اس سرمایہ دار نے پھر اعلان کےا کہ اب جو بندر لائے گا اسے پانچ سو روپے فی بندر دوں گا۔ بستی کے لوگ بندروں کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے مگر پورے علاقے میں اب کوئی بندر نہیں بچا تھا۔ جب لوگ سرمایہ دار کے پاس مایوس لوٹے تو اس نے لوگوں کو روشن مستقبل کا انتظار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ میں اےک ہفتے کے لیے بستی سے باہر جارہا ہوں تم بندروں کی تلاش جاری رکھو۔ جب واپس آﺅں گا تو دوہزار روپے کا فی بندر خریدوں گا۔ مقامی لوگوں نے دن رات بندروں کی تلاش شروع کردی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اسی دوران ان میں سے اےک باشندے نے کہیں سے اےک بندر حاصل کرلےا۔ لوگوں کے پوچھنے پر اس نے ےہ راز بتاےا کہ سرمایہ دار نے ہم سے جو بندر خریدے تھے وہ اےک پنجرے میں بند ہیں۔ اس کے چوکیدار نے مجھے ان بندروں میں سے اےک بندر ایک ہزار روپے لے کر دے دےا ہے۔ اب میں ےہی بندر دوہزار روپے کا سرمایہ دار کو بیچ دوں گا۔ اس طرح مجھے ایک ہزار روپے کا نقد منافع ہوگا۔ لوگوں نے جونہی جدید معیشت کی ےہ تھیوری سنی تو 
چوکیدار کی طرف دوڑ لگا دی اور اس کی منتیں کرنے لگے۔ چوکیدار نے سردمہری والے کاروباری لہجے میں کہا کہ میں تمہاری خوشحالی کے لیے ےہ بے ایمانی کرلےتا ہوں، جاﺅ پیسے لے کر آﺅ۔ غریب لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اکٹھی کی اور چوکیدار کے پاس پہنچ گئے۔ چوکیدار نے ہراےک سے ایک ایک ہزار روپے لیے اور ہراےک کو اےک اےک بندر کی رسی پکڑا دی۔ بندروں کا پنجرہ بالکل خالی ہو گیا۔ بستی والے بندروں کو لے کر اپنے اپنے گھر آگئے اور ان کی خوشی خوشی خدمت کرنے لگے کہ چند دنوں بعد وہ ہر بندر کے عوض ایک ہزار روپے منافع کمائیں گے۔ اےک ہفتے بعد جب لوگ اپنے اپنے بندروں کو لے کر سرمایہ دار کے دفتر پہنچے تو وہاں نہ سرمایہ دار تھا، نہ چوکیدار اور نہ ہی بندروں کا پنجرہ تھا۔ اِس طرح اُس چالاک سرمایہ دار نے لوگوں سے دوسو روپے کے عوض ایک بندر خریدا اور وہی بندر ایک ہزار روپے کے عوض انہی لوگوں کو بیچ دیا۔ یعنی آٹھ سو روپے فی بندر مفت میں منافع کما لیا۔ کہانی ختم ہوئی لیکن آپ اب یہ بتایئے کہ بجٹ میں سرمایہ کاری کی پالیسیوں کے بارے میں آپ کا کےا خےال ہے؟ چلئے بس آپ اپنا خیال اپنے تک ہی رکھیے ہمیں نہ بتائیے کیونکہ وہ کہتے ہیں ناں کہ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔

ٹیگز: