”توغنی از ہردو عالم من فقیر “یہ علامہ اقبالؒ کی ایک فارسی رباعی کا پہلا مصرع ہے ۔ پوری رباعی اور اس کا ترجمہ اس طرح ہے۔
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
در حسابم راتو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفی پنہاں بگیر
”اے خدا تو دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک درماندہ فقیر ہوں تیرا کرم ہو گا کہ قیامت کے دن میری معافی قبول کر لے اور مجھے بخش دے اور اگر تو کسی وجہ سے میرا حساب کتاب کرنا اور میرے اعمال نامے کا جائزہ لینا ضروری خیال کرے تو اتنا کرم فرمانا کہ میری فرد گناہ آقائے دو جہاں حضرت محمدﷺ کی نگاہوں سے چھپا کر رکھنا“۔
علامہ اقبال کی یہ رباعی اُن کے کسی شاعری کے مجموعے میں شامل نہیں ہے اس لیے کہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت محمد رمضان عطائی جس کے دل میں عشق رسول کی لو بھڑکتی تھی اور وہ اقبالؒ اور کلام اقبالؒ کا بھی عاشق تھا اُس نے علامہ اقبال سے یہ رباعی مانگ لی اور علامہ نے اپنی یہ رباعی اُسے عنایت ہی نہ کردی بلکہ اسے اپنی شاعری کے کسی مجموعے میں بھی شامل نہیں کیا۔ مجھے آج اس رباعی کی یاد ایسے آئی ہے کہ اگلے دن مکرم و محترم جبار مرزا جو ملک گیر شہرت کے حامل ایک معروف قلمکار ہیں، نے ایک ویڈیو یا فوٹو بھجوائی ۔ یہ ویڈیو یا فوٹو اسلام آباد ایچ الیون قبرستان کے پلاٹ نمبر 22 کی ہے جہاں ہمدم دیرینہ برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور مدفون ہیں۔ محترم جبار مرزا کا یہ معمول ہے کہ وہ ہر روز صبح فجر کی نماز کے بعد ایچ الیون قبرستان میں جاتے ہیں جہاں اُن کی اہلیہ محترمہ رانی جبار مرزا کی قبر بھی ہے ۔ وہ اُن کی قبر پر فاتحہ کے بعد عرفان صاحب کی قبرپر آتے ہیں ، یہاں بھی فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور گاہے گاہے عرفان صاحب کی قبر کی ویڈیو بنا کر گروپ میں جس کا میں بھی ایک رُکن ہوں بھیج دیتے ہیں۔
10 نومبر 2025 ءکو عرفان صاحب کا
انتقال ہوا تو ایچ الیون قبرستان میں جنازہ گاہ کے ساتھ سڑک کے پار پلاٹ نمبر 22 میں اُن کو دفن کیا گیا ۔ اُن کی قبر کچی رہی پھر قبر کی پختگی کاکام بھی شروع کر دیا گیا۔ ایک ڈیڑھ ماہ قبل بڑھیا قسم کے سنگ ِ مر مر سے پختہ قبر جس میں درمیانی جگہ کچی رکھی گئی ہے تیار ہو گئی تاہم قبرکے سرہانے لوح نہ لگائی گئی ۔ اس دوران میری عرفان صاحب کے بڑے صاحبزادے عزیزِ گرامی عمران خاور صدیقی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ابو (عرفان صاحب) کی قبر کی لوح کی تیاری کے لئے میں نے لاہور میں کسی سے بات کر رکھی ہے اور جلد ہی لوح تیار ہو جائے گی۔
جناب جبار مرزا کی تازہ ویڈیو دیکھی تو پتہ چلا کہ برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کی قبر پر سنگ مر مر کی لوح نصب کر دی گئی ہے ۔ اللہ کریم کے حضور برادرِ مکرم و محترم کی مغفرت، بخشش اور بلندی درجات کی دعا سب سے مقدم ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی تاہم عرفان صاحب کے اہلِ خانہ (اُن کے بچوں) نے اُن کی قبر یا مرقد کے لئے جو لوح نصب کرائی ہے بلا شبہ اپنی عبارات ، خوبصورتی اور قدرو منزلت میں بے مثال ہے۔ اس لوح کی پشت پر درمیان میں عربی رسم الخط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نیچے دائیں طرف اُردو میں سینیٹر عرفان الحق صدیقی ولد عبدالحق اور نیچے تاریخ پیدائش ۱۹دسمبر ۱۹۴۳ءاور تاریخ وفات ۱۰ نومبر ۲۰۲۵ءکے الفاظ یا لائنیں کندہ ہیں تو بائیں طرف انگریزی میں اسی ترتیب سے ان الفاظ یا لائنوں کو کندہ کیا گیا ہے۔ لوح کی سامنے والی سمت یا قبر کے سرہانے والے رُخ پر دائیں طرف علامہ اقبالؒ کی یہی رباعی جو اُوپر لکھی گئی ہے کندہ ہے تو بائیں طرف اس کا اُردو میں ترجمہ لکھا گیا ہے اور نیچے ایک لائن میں ۱۹ دسمبر ۱۹۴۳ء۔۔۔ ۱۰ نومبر ۲۰۲۵ءکے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب اتنا خوبصورت اور دل آویز ہونے کے ساتھ ایک طرح کا تقدس سمیٹے ہوئے ہے کہ روح جھوم اُٹھتی ہے۔
عرفان صاحب کی لوح مرقد کاذکر ہوا تو اب واپس علامہ اقبالؒ کی اُوپر لکھی رباعی کی طرف آتے ہیںکہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے محمد رمضان عطائی جو گورنمنٹ ہائی سکول ڈیرہ غازی خان میں انگریزی کے اُستاد تھے ۔ انہیں یہ رباعی کیسے عطا ہوئی ، اس کے لئے ہم برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے کالموں کے مجموعے ”جو بچھڑ گئے“ سے استفادہ کرتے ہیں۔ محمد رمضان عطائی انگریزی کے اُستاد ہونے کے ساتھ فارسی اور اُردو کے شاعر اور علامہ اقبالؒ کے عشاق میں سے تھے۔ انہوں نے علامہ کے کئی اشعار پر تضمین کہی جو علامہ نے بہت پسند کی۔ اُن دنوں ڈیرہ غازی خان میں مولانا محمد ابراہیم ناگی سب جج کی حیثیت سے تعینات تھے وہ بھی علامہ اقبال کے عشاق میں سے تھے اس طرح عطائی اور ناگی کے درمیان گہری قربت کا رشتہ قائم تھا ۔ انہی دنوں مولانا ابراہیم ناگی لاہور آئے واپسی پر شام کی محفل میں اُن کی عطائی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عطائی کو کاغذ کا ایک پُرزہ دکھایا جس پر علامہ اقبال ؒ کی یہ رباعی لکھی ہوئی تھی۔ مولانا ناگی نے یہ رباعی پڑھی تو اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگر گوں ہو گئی۔ رباعی اُن کے دل پر نقش ہو گئی حج پر گئے تو وہاں بھی درود و وظائف کے ساتھ علامہ کی رباعی پڑھتے رہے ۔ حج سے واپس آئے تو اُن کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش یہ رباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی ۔ اس پر انہوں نے علامہ اقبالؒ کے نام خط لکھا جس میں علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے فارسی اشعار کا حوالہ دے کر یہ درخواست کی کہ فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رباعی فقیر کویعنی مجھے عطا فرما دیں۔ کچھ دن بعد انہیں علامہ اقبالؒ کی طرف سے جوابی خط ملا جس میں لکھا ہوا تھا کہ شعر کسی کی ملکیت نہیں آپ بلا تکلف وہ رباعی جو آپ کو پسند آ گئی ہے اپنے نام سے مشہور کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
علامہ نے یہ رباعی اپنی نئی کتاب ”ارمغان ِحجاز “کے لئے منتخب کر رکھی تھی۔ عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انہوں نے اسے کتاب سے خارج کر دیا اور تقریباً اسی مفہوم کی حامل ایک نئی رباعی کہی جو ”ارمغانِ حجاز “ میں شامل ہے۔ محمد رمضان عطائی کی خوش نصیبی کہ وہ فوت ہوئے تو ڈیرہ غازی خان کی نواحی بستی میں اُن کی قبر کی لوح پر یہ رباعی کندہ ہے تو اب برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی کی قبر پر بھی اُن کی پسند کی یہ رباعی کندہ ہے۔