پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف تینT-20 میچز پر مشتمل سیریز کے لئے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا۔ وائٹ بال کی یہ سیریز 20 سے 24 جولائی ڈھاکہ کے شیر بنگال نیشنل سٹیڈیم میں کھیلی جائے گی۔ اس ٹیم میں حارث رؤف، شاداب خان، وسیم جونیئر اور نسیم شاہ فٹنس مسائل کے باعث حصہ نہیں لے رہے جبکہ ان کی جگہ اوسط درجے کی پیسر احمد دانیال اور PSL میں صرف دو میچز کی پرفارمنس پر پیسر سلمان مرزا کو چانس دیاگیا جبکہ علی رضا اور عاکف جاوید ان دونوں سے بہتر چوائس تھی۔ لیفٹ آرم سپنر محمد نواز کو شاداب کی جگہ سلیکٹ کیا گیا جبکہ محمد نواز کی پچھلے دو سال سے PSL اور ڈومیسٹک میں پرفارمنس نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی جگہ نوجوان فیصل اکرم ، عرفات منہاس، مبصر خان یا مہران ممتاز میں سے کسی ایک کو کھلاتے تاکہ مستقبل میں تینوں فارمیٹ کے لئے سپنرز کا فلیٹ مکمل ہوتا۔ ٹیسٹ میں نعمان علی اور ساجد خان کے متبادل سپنرز کیسے تیار ہوں گے؟ یہ بڑا اچھا موقع تھا کہ صفیان مقیم اور ابرار کے ساتھ ایک تیسرا ریگولر سپنر گرومنگ کے لئے بنگلہ دیش بھیجتے۔ اسی طرح فیوچر پلاننگ میں بھی مدد ملتی ۔ پوری دنیا میں سلیکشن میرٹ اور حریف ٹیم کی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نئی ٹیمیں بھی بہترین رزلٹ دیتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں حسن نواز، محمد حارث اور صاحبزادہ فرحان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے اپنی بہترین پرفارمنس سے ٹیم میں جگہ بنائی۔T-20 کرکٹ میں نئے اور باصلاحیت کرکٹرز کو مسلسل چانس دیں محمد نواز ، فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کھلانے سے وننگ کمبی نیشن نہیں بن سکتا۔ ان کی جگہ نئے آل راؤنڈرز کو چیک کریں تاکہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ایک خطرناک کمبی نیشن تیار ہو۔ اس وقت ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں صائم ایوب، فخرزمان، صاحبزادہ فرحان، کپتان سلیمان علی آغا، محمد حارث اور حسن نواز بہترین فارم میں ہیں اور بنگلہ دیش کی سیریز اپنے نام کرسکتے ہیں۔ بیٹنگ کی حد تک ٹیم کی سلیکشن شفاف اور میرٹ پر کی گئی۔ اسی طرح ریگولر سپنرز میں ابرار احمد اور صفیان مقیم بہترین چوائس ہے۔ ٹیم کے کپتان سلیمان علی آغا پارٹ ٹائم آف سپنر کا رول بخوبی نبھا سکتے ہیں۔ محمد نواز اور خوشدل شاہ دونوں لیفٹ آرم سپنر ہیں۔ بنگلہ دیش کی ٹیم میں بائیں ہاتھ کے بیٹرز زیادہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں کی کیمسٹری چلنے والی نہیں۔ خوشدل شاہ سپن ٹریک پر بیٹنگ اچھی کرتا ہے شائد اس کی سلیکشن اسی وجہ سے کی گئی۔ مستقبل میں ٹیم کی ضرورت کے مطابق عبد الرزاق ، شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے آلراؤنڈرز تلاش کریں تاکہ شاہین الیون ہر بڑی ٹیم کو ٹف ٹائم دے سکے۔