Wed, September 16, 2026

وینزویلین صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد

وینزویلین صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد

جنوری 2026 کے اوائل میں وینیزویلا میں جو کچھ ہوا وہ محض امریکہ اور لاطینی امریکہ کے تعلقات کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کا ایک اور باب نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک ایسا واقعہ ہے جو آنے والی دہائیوں تک آزاد ممالک کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کی تعریف بدل دے گا۔
3 جنوری کی علی الصبح ایک غیر معمولی فوجی کارروائی میں امریکی خصوصی کمانڈوز دستوں نے وینزویلا کی سرزمین پر حملہ کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو دارالحکومت کاراکاس سے اغوا کیا اور انہیں فوجداری الزامات کے تحت نیویارک منتقل کر دیا۔ واشنگٹن نے اس کارروائی کو انسدادِ منشیات اور دہشت گردی کے خلاف ایک قانونی اقدام قرار دیا ہے جبکہ یہ ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دنیا کا کوئی قانون اس بربریت کی اجازت دیتا ہے نہ اسکی حمایت کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کارروائی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی کوئی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ یہ محض ایک چھاپہ مار حرکت تھی جس کے دوران وینزویلا کے درجنوں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے اور وینزویلا کے صدر اور انکی اہلیہ کو اغوا کر لیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش پھیل گئی۔ کسی منتخب صدر کو زبردستی گرفتار کر کے ایک دوسرے ملک منتقل کرنا ایک غیر قانونی, غیر معمولی اور خطرناک قدم ہے جس نے سفارتی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرینِ قانون، حکومتیں اور انسانی حقوق کے ادارے اب اس اقدام کے قانونی اور اخلاقی نتائج پر غور کر رہے ہیں، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام کی بنیادوں کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس بحران کا مرکزی سوال یہ ہے کہ آیا یہ ریاستی خودمختاری کی پامالی ہے یا مبینہ جرائم کا احتساب؟ ٹرمپ انتظامیہ اس کارروائی کو ایک ضروری قانون نافذ کرنے والا اقدام قرار دیتی ہے اور وینزویلا کی حکومت کو ”منشیات سے جڑی مجرمانہ ریاست“ قرار دیتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ امریکہ وینزویلا کے سیاسی انتقالِ اقتدار اور معاشی استحکام کی نگرانی کرے گا تاکہ ایک ”محفوظ، مناسب اور منصفانہ“ مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔ یعنی امریکہ کو عالمی سطح پر ہر قسم کا تماشا برپا کرنے کی کھلی چھوٹ ہے۔ ایسا ہی ڈھونگ امریکہ نے عراق, لیبیا اور شام میں رچایا۔
تاہم عالمی برادری کی بڑی تعداد اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر، درجنوں ممالک اور بین الاقوامی قانون کے ممتاز ماہرین کے مطابق یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، جو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال سے سختی سے منع کرتا ہے۔ یہ اصول 1945 سے عالمی استحکام کی بنیاد رہا ہے، جو اب واضح طور پر متزلزل ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ خطرہ صرف وینزویلا تک محدود نہیں۔ اگر طاقتور ممالک انصاف یا سلامتی کے نام پر یکطرفہ فوجی کارروائیوں کو معمول بنا لیں گے تو کون سا اصول باقی رہ جائے گا؟ کیا یہی منطق بھارت, چین، روس, برطانیہ, آسٹریلیا, فرانس اور دیگر طاقتوں کو کہیں اور مداخلت اور قبضوں کا جواز فراہم نہیں کرے گی؟ کاراکاس میں قائم کی گئی یہ نظیر بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک دروازہ کھول سکتی ہے۔
اس بحران نے اقوامِ متحدہ کی کمزوریوں کو بھی بری طرح سے بے نقاب کر دیا ہے۔ ہنگامی اجلاسوں اور سخت بیانات کے باوجود، جب کوئی مستقل رکن خود کارروائی کرے تو پتہ چلتا ہے کی اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کے پاس مو¿ثر نفاذی اختیارات موجود ہی نہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی طاقتوں کو لگام ڈالنے کے لیے عالمی سطح پر نافذالعمل نوعیت کی فوری اصلاحات نہ کی گئیں اسی لیے اقوامِ متحدہ کا ادارہ محض تماشائی بن کر رہ گیا اور وہ اصول جن کا وہ محافظ ہے، طاقتور ریاستوں کے ہاتھوں مسلسل پامال ہوتے چلے گئے۔ مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے صرف مذمت کافی نہیں۔ طاقتور ملکوں کو لگام ڈالنے کے لئے اقوامِ متحدہ کو واقعی عملی طور پر مضبوط بنانا ہو گا.... امن مشنز کے اختیارات بڑھا کر، سفارتی ثالثی کے مو¿ثر نظام قائم کر کے، اور ایسی جوابدہی یقینی بنا کر جو طاقتور ممالک پر بھی یکساں طور پر لاگو ہو کمزور ممالک کی خود مختاری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اجتماعی سلامتی کا تصور ختم ہو جائے گا۔
اس بحران میں عالمی طاقتوں کا کردار فیصلہ کن ہے۔ چین اور روس نے امریکی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے صدر مادورو کی رہائی اور مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیا ہے۔ ان کا مو¿قف یکطرفہ فوجی مداخلت کے خلاف ایک کثیر قطبی عالمی نظام کے تصور کو تقویت دیتا ہے۔
یورپی طاقتیں.... برطانیہ، فرانس اور جرمنی.... زیادہ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بین الاقوامی قانون پر تشویش اور سفارتی حل کی بات کی ہے، مگر امریکہ کے خلاف کسی سخت اقدام کی حمایت نہیں کی۔ مغرب کے اندر قانون کی بالادستی کو جغرافیائی سیاست پر ترجیح دینے میں ان کا کردار نہایت اہم ہوگا۔
سعودی عرب اور ترکی، جو عالمِ اسلام اور گلوبل ساو¿تھ میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، معاشی تعاون اور انسانی امداد کے ذریعے استحکام پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور دیگر ابھرتی ہوئی ریاستوں کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ ایک نئے عالمی معاہدے کی وکالت کریں جس میں خودمختاری اور جوابدہی کے درمیان توازن قائم ہو اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے اداروں کو حقیقی اختیارات حاصل ہوں۔
ایک گہرا خدشہ یہ ہے کہ دنیا دوبارہ اثر و رسوخ کے دائروں میں تقسیم نہ ہو جائے.... امریکہ براعظم امریکہ میں، چین ایشیا میں اور روس یورپ میں۔ اگر بین الاقوامی قانون کمزور پڑ گیا تو چھوٹی ریاستیں بڑی طاقتوں کے درمیان مہرے بن جائیں گی۔
وینزویلا کا بحران عالمی سطح پر ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر عالمی اصولوں کو نافذ نہ کیا گیا تو طاقت، اصولوں پر غالب آ جائے گی۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی اصلاح، قانون کی مساوی عمل داری، اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ یہ لمحہ یا تو ایک تاریک دور کا آغاز بن سکتا ہے یا عالمی تعاون کے نئے باب کا۔ فیصلہ یکطرفہ طاقت سے نہیں بلکہ اجتماعی عالمی ارادے سے ہوگا۔ دنیا کی بقا اسی میں ہے کہ عالمی برادری مل کر دنیا کو امریکہ کے لیے عالمی چراہ گاہ بننے سے بچائے۔

ٹیگز: