Wed, September 16, 2026

خیبر پختونخوا لاوارث ہو چکا؟

خیبر پختونخوا لاوارث ہو چکا؟


 جو شخص اپنے دشمن سے رحم کی توقع رکھے وہ کبھی قابل ِ رحم نہیں ہوتا ۔ جب ریاست ِپاکستان نے بارہا بآواز بلند بتادیا کہ طالبان ہمارے کھلے دشمن ہیں تو پھر طالبان کے سہولت کاروں کو جانتے بوجھتے رعایت دینا انتہائی غیر عقلی فیصلہ ہے۔ طالبان جب بھارت کے ساتھ مل کر حملہ آور ہو ں گے انہیں پاکستان کے جغرافیے سے دور ہی نیست و نابود کردیا جائے گا لیکن اُس سے پہلے کرنے والے بہت سے کام ہیں جن سے نہ جانے کیوں ہم چشم پوشی کر رہے ہیں اور جانتے بوجھتے اپنے دشمنوں کے دوستوں کو ہر رعایت فراہم کر رہے ہیں ۔ سیاسی حکومتوں کی سو مصلحتیں ہو سکتی ہیں لیکن موجود سیاسی حکومت کو تو کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ جب اُن کے سامنے سیاست نہیں ریاست بچانے کا عظیم الشان مقصد موجود ہے ۔ ممکن ہے عمران نیازی دنیا کا سب سے پاپولر انسان ہو لیکن وہ پاکستان سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا کہ پاکستان سے اہم کچھ بھی نہیں ہے ۔ پھر اس میں بسنے والوں کو جانتے بوجھتے مصیبت میں مبتلا رکھنا کونسی انسانیت ہے ؟سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ کے پی کے کے پاس پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی عہدہ نہیں ہے ۔ میری عمر سیاست میں گزر گئی اور پی ٹی آئی بنانے کے جرم و گناہ میں تو زندگی کے چوبیس سال گزار دیئے لیکن یہ سمجھ سے باہر ہے کہ سہیل آفریدی کس حیثیت میں دوسرے صوبوں میں احتجاجی تحریک کی قیادت کر رہا ہے یا دوسرے صوبوں میں خوار ہو رہاہے ؟ جبکہ کے پی کے میں اس وقت لا تعداد آتش فشاں زیر زمین پھٹنے کوتیار ہیں ۔ سہیل آفرید ی اس وقت صرف لسانیت کی بنیاد پر پنجاب اور سندھ میں مزدوری کرنے والے پختونو ں کو ورغلانے کیلئے سرگرم ہے ۔ گو کہ اُسے ابھی تک کہیں سے کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی لیکن کیا ہم اُس وقت تک انتظار کریں گے جب تک وہ کامیاب نہیں ہو جاتا؟کے پی کے اور بلوچستان کے بارڈز افغانستان کے ساتھ ملتے ہیں لیکن وہ کے پی کے کو مکمل لاوارث چھوڑ کر صرف ایک شخص کیلئے تین کروڑ سے زائد انسانوں کو اپنی بدترین حکومتی کارکردگی کے عذاب میں جھونکنا چاہتا ہے ؟ بلوچستان میں اُس کا کام زیر زمین چل رہا ہے کیونکہ وہاں وہ ملک دشمنوں کے رابطے میں ہے ۔ جس کے شواہد پاکستان کے محافظوں کے پاس ہیں لیکن اِس کے باوجود کوئی اُسے پوچھنے والا نہیں ¾ آخر ایسا کیوں ہے ؟گڈ گورنس توچھوڑیں ¾کے پی کے میں اس وقت حقیقت میں طالبان کی حکومت ہے جو سب کچھ سمیٹ کرافغانستان لے جانا چاہتی ہے اور کے پی کے حکومت کے وزیر اعلیٰ اور اُن کے حواری اس وقت اُن کی مکمل سہولت کاری کر رہے ہیں ۔ کچھ خدا کا خوف ہوناچاہیے ¾ سیاسی معاملات چلتے رہتے ہیں لیکن ایسا تو کبھی نہیں ہوتا کہ ایک سزایافتہ شخص کے عشق میں مبتلا ہو کر کراچی کے بے وجہ دورے پر نکل کر کسی دھرنے کا حصہ بن جائیں ۔ سہیل آفریدی کو اگر وزیر اعلیٰ کے پی کے بنایا گیا ہے تو اُس کے پاس صرف وہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں اپنی بہترین گورننس کے ذریعے آسانیاں پیدا کرنا ہے نہ کہ دوسرے صوبوں میں موجود اپنے قبیلے کے لوگو ں کو انتشار کیلئے تیار کرنا ۔ کوئی بھی وزیر اعلیٰ اپنے صوبے کے وسائل کسی غیر سیاسی عمل یا کسی سزایافتہ مجرم کی رہائی کیلئے پریشر بنانے کیلئے کیسے استعمال کرسکتا ہے ؟نہ جانے کون لوگ ہیں جنہیں یہ غیر مناسب اور ناقابل ِ قبول اقدامات قبول و منظور ہیں ۔باغ جناح کراچی میں روپوں کا آدھا ارب صرف ایک جلسے کے انتظامات کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری خزانے سے جاری کیا گیا جبکہ دوسری طرف دیوالیہ ہونے کے قریب اس صوبے کے نوجوان پنجاب میں بوٹ پالش کر رہے ہیں یا پھر خشک میوہ جات کی ریڑھیاں لگائے بدترین سردی میں جلا وطنی گزار رہے ہیں ۔اڈیالہ کے بدنام قیدی سے ملاقاتوں اوردوروں کیلئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال روکنے والا کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔یونیورسٹیز کے پاس تنخواہیں ادا کرنے کیلئے کچھ نہیں ¾ سکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہونے کی وجہ سے بھوت بنگلے بنے ہوئے ہیں اور صحت کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کے پی کے کی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح صرف انتشار پھیلانے میں کامیابی کے حصول کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ یہ سب کچھ پی ٹی آئی کے انتشاری ایجنڈے پر ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ جن قوتوں نے ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے وہ ابھی تک ان کامنہ کیوں دیکھ رہی ہیں ؟ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا چکی ہے لیکن چیف منسٹر کے پی کے لاہور ¾ کراچی اور اڈیالہ کے درمیان ویگن کی طرح چل رہا ہے ۔دوستوں کا خیال ہے کہ وہ آنے والے وقت کے بارے میں سوچ نہیں رہا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ آنے والے وقت کیلئے ہی یہ راہ ہموار کر رہا ہے تاکہ اپنی غیر اعلانیہ سپاہ ”طالبان “کو خوش آمدید کہہ سکے کیونکہ افواج ِ پاکستان کو تو وہ اپنا بدترین دشمن سمجھتا ہے اور اِس کیلئے عملی اقدامات کر رہا ہے ۔ میں ریاست ِ پاکستان کے ذمہ داران سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر سوال نہ اٹھائیں بلکہ جواب طلب کریں کہ ایسا سب کچھ کیوں ہو رہا ہے ؟ ہمارے لوگوں کو زندگی کی ضرورتوں سے محروم کرکے کیوں ریاست کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے جب کہ ریاست اپنے تمام وسائل صوبے کے حوالے کر رہی ہے اور یہ وسائل کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہیں کہ تماشبینوں کی طرح اپنے کسی مجرم معشوق کے عشق پر اڑا دئیے جائیں ۔ 
یہ کروڑوں لوگوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے اور اس سوال کاجواب ابھی مانگ لینا چاہیے ۔اس سے پہلے انسانوں کا کوئی بڑا گروہ طالبانی سیاستدانوں کے پروپیگنڈا کا شکار ہو کر ریاست پر سوال اٹھا دے کہ تم نے ہماری مساجد میں کتے کیوں باندھے ؟ تم نے ہمیں وسائل فراہم کیوں نہیں کیے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں کر سکے ¾ ہمارے بزرگ ہماری آنکھوں کے سامنے زندگی بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتے رہے ہیں ۔ ہمارے بچوں کو اپنے دیس میں پردیسی بنا کر ان کے کندھوں پر بوٹ پالش کرانے کا سامان کیوں رکھا گیا تھا ؟ سوچ لیں کہ یہی سب کچھ مجیب الرحمان نے بھی کیا تھا اور ہم پروپیگنڈا کا شکارہو کر بدترین حالات سے دوچار ہو گئے تھے ۔اللہ نہ کرے کہ ہم مجیب الرحمان کو آئیڈیلائز کرنے والے لیڈر کے چیلے چماٹوں سے شکست کھاجائیں لیکن جو شخص اپنے دشمن سے رحم کی توقع رکھتا ہے وہ کبھی قابل ِ رحم نہیں ہوتا ۔ سیاست کی بچھی بساط پرچور چال لگائے پیادے شاہ کو مات دینے کیلئے اُسے غیر سیاسی پروپیگنڈا میں الجھا رہے ہیں ۔ ریاست کو اپنی اصل شکل میں ملک دشمنوں کے سامنے آنا ہو گا ورنہ 
گزشتہ جنگ میں تو پیکر جلے مگر اس بار 
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں

ٹیگز: