اپنا خیال رکھیں کے عنوان سے گزشتہ ہفتے کالم لکھتے ہوئے بہت سی باتیں صرف یہ سوچ کر چھوڑ دی تھیں کہ بری باتوں کا ذکر بھی اچھا نہیں ہوتاورنہ اس وقت آتش زدگی سے ہونے والے بہت سے واقعات بھی ذہن میں آ رہے تھے۔وہ کالم ہفتے کے روز شائع ہوا اور اگلے ہی دن اتوار کی صبح اسلا م آباد میں آتش زدگی کا ایسا دل خراش واقعہ رونما ہواکہ دل اب تک خون کے آنسو رو رہا ہے۔چنانچہ اس تحریر کو بھی گزشتہ کالم ہی کا تسلسل سمجھا جائے۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو کے ایک گھر میں اتوار کی صبح زوردار دھماکا ہواجس سے گھر کی عمارت زمین بوس ہو گئی اور ملبے تلے دبنے سے آٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ درجن بھر افراد زخمی بھی ہوئے۔دھماکے سے پڑوس کے کچھ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔اول تو دھماکے سے ایک پورے گھر کا تباہ ہو جانا اور آٹھ مکینوں کا ایک ساتھ مارے جاناہی بہت بڑا المیہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ جو گھر تباہ ہوا ، اس گھر میں شادی کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔ابھی رات ہی تو وہ دلہن بیاہ کر لائے تھے۔ مہمان بھی گھر میں موجود تھے اور دھماکے والے دن ولیمے کی تقریب ہونا تھی۔ سب سے زیادہ دل کو چیرنے والی بات یہ ہے کہ مرنے والوں میں دلہا دلہن بھی شامل ہیں جنھوں نے ابھی اپنی زندگی کی پہلی رات ہی اکٹھے بسر کی تھی جو ان کی زندگیوں کی آخری رات ثابت ہوئی۔
ابتدا میں کہا گیا کہ دھماکا سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہے، پھر پتا چلا کہ گھر والوں نے سردی سے بچاﺅ کے لیے رات کو چولہا یا کوئی ہیٹر جلایا تھا اور اسے جلتا چھوڑ کر ہی سو گئے۔ رات کے کسی پہر گیس بند ہوئی تو چولہا بھی بجھ گیا۔کچھ دیر بعد گیس دوبارہ بحال ہوئی تو چولہے سے نکل کر کمرے میں جمع ہوتی رہی۔ صبح جب گھر کی خواتین نیند سے
بیدار ہوئیں اور ناشتہ بنانے کے لیے دیا سلائی سلگائی تو کمرے میں جمع گیس نے فورا آگ پکڑی اور پھر اتنا زور دار دھماکا ہوا کہ پورا علاقہ ہلا کر رکھ دیا ۔ گھر ملبے کا ڈھیر بن گیا اور اس کے بیشتر مکین اسی ملبے تلے دب کر زندگی کی بازی ہار گئے۔
یہ واقعہ جہاں بہت زیادہ اندوہ ناک ہے ، وہاں اس میں غورو فکر کے کئی پہلو بھی ہیں۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، ایسے واقعات ہر سال رونما ہوتے ہیں اور اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات یہ ہماری اپنی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ لوگ سخت سردی سے بچنے کے لیے کمروں کے اندرلکڑی کی انگیٹھیاں، تیل کے چولھے یا بجلی اور گیس کے ہیٹر جلاتے ہیں اور پھر انھیں چلتا چھوڑ کر ہی سو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سے جان لیوا واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
بعض اوقات چولہے کو جلتا چھوڑنے سے کوئی چنگاری اڑ کر کسی کپڑے وغیر ہ پر گرتی ہے اور وہ کپڑا آگ پکڑ لیتا ہے۔ پھر یہ آگ دوسری چیزوں کو لپیٹ میں لیتے لیتے پورے گھر میں پھیل جاتی ہے اور جب تک گھر کے مکینوں کی آنکھ کھلتی ہے آ گ ہر چیز کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا چکی ہوتی ہے بلکہ اکثر اوقات تو گھر والوں کو بیدار ہونے کی مہلت بھی نہیں ملتی اور آگ انھیں بھی جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔بجلی کے ہیٹر کو چلتا چھوڑنے کے نتیجے میں شارٹ سرکٹ ہونے کے واقعات کی خبریں بھی کئی بار سامنے آتی ہیں ۔ ایسے واقعات میں بھی پورا پورا کنبہ جل کر کوئلہ ہو جاتا ہے۔کئی بار ایسے واقعات بھی سننے میں آئے کہ گیس کے چولھے کو جلتا چھوڑ دیا اور سب لوگ سو گئے۔ کسی وجہ سے چولھا بجھ گیا اور اس میں سے گیس خارج ہو کر کمرے میں جمع ہوتی رہی اور کمرے میں موجود تمام لوگ دم گھٹ کر مر گئے۔
اس قسم کے بیشتر واقعات اکثر اوقات ہماری اپنی بے پروائی کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم لوگوں میں احتیاط کی عادت بالکل بھی نہیں ہے۔ زندگی کے بیشتر معاملات میں ہم بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بے احتیاطی اب ہمارا عمومی مزاج بن چکی ہے۔ یہاں اس ضمن میں بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن بات کسی اور طرف نکل جائے گی ۔ابھی صرف اتنا کہنا ہے کہ ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں احتیاط کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔ خاص طور پر ایسے امور میں کہ جن کا انجام موت کی شکل میں سامنے آ سکتا ہو بلکہ موت سے بڑھ کر قیامت جیسے مناظر کی صورت میں نمودار ہو سکتا ہو۔
اب یہ کیا قیامت سے کم ہے کہ شادی کی خوشیاں مناتا ایک ہنستا بستا گھرانہ اپنے مہمانوں سمیت پلک جھپکتے میں موت کی وادی میں اتر گیا۔ ایک ہی گھر سے دلہا دلہن سمیت آٹھ افراد کے جنازے اٹھنا قیامت نہیں تو اور قیامت کیا ہو گی۔
ذرا سوچیں تو اس گھر کے جو افراد زندہ بچ گئے ہیں ، ان کی آئندہ زندگی کیسے گزرے گی ۔جو ایک دو افراد زندہ بچے ہیں وہ کس کے سہارے زندگی گزاریں گے ۔ جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے وہ تو کبھی واپس نہیں آئیں گے ۔ اور پھر گھر ، جو تباہ ہو گیا، وہ دوبارہ کیسے بنے گا۔کیا آج کے دور میں گھر بنانا آسان ہے۔ تعمیراتی سامان سے لے کر مستریوں اور مزدوروں کی اجرت تک ہر چیز کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔اس پر مستزاد یہ کہ اپنا سارا کام کاج چھوڑ کر گھر بنانے کے لیے وقت نکالنا اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ جب پورے گھرانے کی موت کے غم کا پہاڑ سر پر ٹوٹا ہوا ہو۔
اس تمام تر صورت حال کی اگر وجہ جاننے کی کوشش کی جائے تو اس کے پیچھے گھر کے کسی نہ کسی فرد کی بے احتیاطی کا عنصر ہی کارفرما ہو گا۔ کسی نے رات کو چولہا جلایا اور پھر سونے سے پہلے اسے بند کرنا ہی بھول گیا۔ اگر چولہا بند کر دیا جاتا تو اتنا بڑا حادثہ رونما نہ ہوتا۔
ایسے واقعات میں ہم سب کے لیے سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی میں احتیاط کی عادت اپنائیں کیونکہ بعض اوقات ذرا سی غفلت بھی کسی بہت بڑے اور ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔