بنگلہ دیش کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوا اور توقع کے عین مطابق ہوا۔ ملک کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی نے میدان مار لیا۔ بی این پی اور اس کی تحادی جماعتوں نے 299 میں سے مجموعی طور پر 212 نشتیں جیت لی ہیں جن میں سے 151 نشستیں اکیلی بی این پی نے حاصل کی ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار بی این پی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم مرحومہ خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان نے ڈھاکا اور بوگرہ سے دو نشستوں پر انتخاب لڑا اور دونوں نشستیں جیت گئے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں کو 70 نشستوں پر کامیابی ملی ہے، جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے۔ نیشنل سیٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ جلاوطن سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی کے باعث انتخابات میں حصہ ہی نہیں لے سکی۔
بنگلہ دیش کے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو چند چیزیں قابل توجہ ہیں۔ بی این پی کی کامیابی عوام کی شیخ حسینہ سے نفرت کا نتیجہ ہے۔ وہ 2008 میں برسراقتدار آئی تھیں اوراگست 2024تک مسلسل تین انتخابات جیت کر سولہ سال برسر اقتدار رہیں۔ ان سولہ برسوں میں انھوں نے اتنی نفرت کمائی کہ اپنی جان بچانے کے لیے ملک سے فرار ہونا پڑا۔ انھوں نے اپنے طویل دور حکومت میں عام لوگوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند رکھے جس کے نتیجے میں عوام کے اندر شدید قسم کی بے یقینی اور اضطراب پیدا ہو گیا، یہاں تک کہ جون 2024میں عوام سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ تحریک جولائی میں پرتشدد مظاہروں کی شکل اختیار کر گئی۔ اس دوران کئی لوگ مارے گئے
اور بالآخر یہ تحریک حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے اور ملک سے فرار پر ختم ہوئی، شیخ حسینہ اس وقت سے بھارت میں ہیں اور ان کی جماعت پر پابندی لگ چکی ہے۔ یہ اس ظلم و ستم کا نتیجہ ہے جو انھوں نے اپنے عوام اور خاص طور پر مخالفین پر روا رکھا۔ حسینہ واجد کا اتنا خوف تھا کہ ان کے انتقام کے ڈر سے طارق رحمان نے بھی جلاوطنی اختیار کر لی تھی۔ حسینہ واجد کی ان پالیسیوں اور مظالم کو کامیاب بنانے میں بھارت کا بھی خفیہ طور پر پورا پورا ہاتھ رہا کہ شیخ حسینہ کے بھارت کے ساتھ مثالی تعلقات تھے۔ حسینہ کے ساتھ جو ہوا اس پر قابل اجمیری کا یہ شعر پوری طرح منطبق ہوتا ہے:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں کہ بی این پی کو پاکستان دوست جماعت سمجھا جاتا ہے اور مخالف اتحاد جس کی قیادت جماعت اسلامی کے ہاتھ میں ہے وہ بھی پاکستان سے محبت رکھتی ہے جبکہ اس کے برعکس حسینہ واجد کی جماعت بھارت نواز تھی۔ اسی وجہ سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات بھی مثالی نہیں تھے۔ بی این پی کے برسراقتدار آنے سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات یقینا مزید مستحکم ہوں گے، اگرچہ ان تعلقات کے مستحکم ہونے کا سلسلہ اگست 2024میں حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے اور گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے معرکہ حق کے بعد اس میں مزید تیزی آ گئی ہے بلکہ حال ہی میں پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش بورڈ کی جرات مندانہ حمایت اور ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے نتیجے میں اس کے مالی مفادات پر پڑنے والی زد کو روکنے کی کامیاب کوشش نے ان تعلقات کو اور زیادہ مضبوط کر دیا ہے۔
پاکستان کے لیے بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج ایک خوش آئند اشارہ ہے۔ اس وقت خطے میں طاقت کا توازن بڑی حد تک بدل چکا ہے۔ بھارت کبھی جو خود کو ایشیا کی سپر پاور سمجھتا تھا گزشتہ سال ہونے والے معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ مودی سرکار کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کے بعد بھارت کی قدرو قیمت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں "ٹکے ٹوکری" ہو چکی ہے اور پاکستان دنیا میں طاقت کا ایک نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ معرکہ حق کے بعد سے دنیا بھر کے ممالک کا جھکاو¿ پاکستان کی طرف ہو رہا ہے، ایسے میں بھارت کے پڑوسی ملکوں میں پاکستان کے حق میں ہوائیں چلنا خدا کی خاص رحمت ہے۔
بنگلہ دیش کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے شکست کو تسلیم کر کے ایک بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ جماعت کے قائد ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کریں گے بلکہ عوام کے مفاد میں سیاست کریں گے۔ جماعت اسلامی کا یہ طرز عمل تو خاص طور پر قابل تقلید ہے ورنہ اپنے یہاں تو بالعموم سیاسی جماعتیں شکست کو آسانی سے قبول ہی نہیں کرتیں اور وقتا فوقتا ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتی رہتی ہیں جبکہ ایک جماعت نے تو ان الزامات کو اپنا اوڑھنا بچھونا ہی بنا لیا ہے۔ اس کے کارکن دن رات، سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے یہی راگ الاپتے رہتے ہیں۔
انتخابات میں شاندار کامیابی پر بی این پی اور بنگلہ دیش کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یقینا اب بنگلہ دیش میں بی این پی کی حکومت بنے گی اور طارق رحمان وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوں گے جو یقینا اپنے ملک میں اچھی حکمرانی کی مثال قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مستحکم بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔