واشنگٹن: امریکی حکام کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے امکان ہے کہ گوگل جلد اپنے مقبول ترین ویب براؤزر کروم کو فروخت کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اگرچہ اس کے عمل کا وقت واضح نہیں، لیکن گوگل کو اس حوالے سے ایک غیر معمولی پیشکش موصول ہو چکی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی کمپنی Perplexity AI نے گوگل کو کروم براؤزر کی خریداری کے لیے 34.5 ارب ڈالر کی پیشکش دی ہے، جو کہ ایک حیران کن پیشکش ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ Perplexity AI کی کل مالیت تقریباً 18 ارب ڈالر ہے، مگر اس نے کروم کی قیمت سے دوگنا رقم کی آفر کی ہے۔ کروم کی مارکیٹ ویلیو کے بارے میں حتمی معلومات تو نہیں، تاہم اندازے کے مطابق یہ رقم 20 سے 50 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔
Perplexity AI کو زیادہ تر اس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ انجن کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن حال ہی میں اس نے ایک AI بیسڈ براؤزر "کومٹ" بھی لانچ کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ Perplexity AI کو مختلف سرمایہ کاروں اور وینچر کیپیٹل فرموں کی حمایت حاصل ہے، جس کی بدولت اس نے کروم کی خریداری کے لیے یہ پیشکش کی ہے۔ اس کے علاوہ، اوپن AI نے بھی گوگل کروم کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف اجارہ داری کے الزامات پر مقدمہ دائر کیا تھا اور اس میں گوگل کو شکست ہوئی تھی۔ تاہم اب تک عدالت نے فیصلہ نہیں دیا کہ گوگل کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ گوگل کروم کو دنیا بھر میں تقریباً 3.5 ارب سے زائد صارفین استعمال کرتے ہیں اور یہ براؤزر عالمی مارکیٹ میں تقریباً 60 فیصد کا حصہ رکھتا ہے۔