Wed, September 16, 2026

عنایہ بنام وزیراعلیٰ مریم نواز

عنایہ بنام وزیراعلیٰ مریم نواز


لاہور کے علاقے گجرپورہ میں سات سالہ عنایہ عثمان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہمارے معاشرتی المیے کی عکاسی کرتا ہے۔ آقا کریمﷺ کے یومِ ولادت کے موقع پر خوشیوں کی محفلیں سج رہی تھیں کہ اچانک گولیوں کی تڑ تڑاہٹ نے ان خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ ننھی عنایہ گلی سے گزرتے ہوئے یکدم زمین پر گر پڑی۔ اطلاع ملی تو اہل خانہ باہر نکلے اور بچی کو خون میں لت پت پایا۔ فوری طور پر اسے قریبی ہسپتال اور بعد ازاں جنرل ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز کے مطابق گولی اس کے سر میں پیوست ہو چکی تھی اور حالت تشویش ناک تھی۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک معصوم جان کی زندگی کو خطرے میں ڈال گیا بلکہ یہ معاشرے کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں ہوائی فائرنگ تو بدقسمتی سے عام ہے، مگر یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوگ یومِ ولادتِ رسولﷺ جیسی مبارک گھڑی منا رہے تھے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم خوشیوں کے اظہار میں کب تک اسلحے کا سہارا لیتے رہیں گے؟ ایسے مواقع جو رحمت و امن کا پیغام دیتے ہیں، وہاں اسلحے کی نمائش اور فائرنگ ہماری جہالت اور قانون شکنی کا کھلا ثبوت ہیں۔ عنایہ کے والد محمد عثمان، جو میزان بینک کی ڈی ایچ اے فیز 6 برانچ میں آفیسر ہیں، نے بتایا کہ ان کی بچی گلی میں جا رہی تھی کہ اچانک گر پڑی۔ کسی کو ابتدا میں کچھ سمجھ نہ آیا مگر قریب پہنچنے پر دیکھا تو خون بہہ رہا تھا۔ یہ منظر کسی بھی والدین کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ والدین کی بے بسی اور خوف کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس واقعے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے انتہائی تاخیر سے بچی کے والد سے رابطہ کیا گیا، ویسے تو راہ جاتے لوگوں کے منہ سونگھتے پھرتے ہیں، شام کو اہل خانہ کے ساتھ گھروں سے نکلنے والی کاروں میں ٹارچ لائٹ مارتے ہیں، یہ رویہ ہمارے نظامِ انصاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب ریاست شہریوں کے جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہو اور 
پھر ایسے افسوسناک واقعات کے بعد بھی لاتعلق رہے تو عوام کس سے امید لگائیں؟ اندھی گولی کا شکار ہونے کے واقعات پاکستان میں نئے نہیں۔ ہر سال درجنوں لوگ شادیوں، کھیلوں کے جشن یا مذہبی تہواروں کے دوران ہوائی فائرنگ یا جرائم پیشہ عناصر کی فائرنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔ کئی بچے اور عورتیں ان گولیوں کی لپیٹ میں آ کر یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا زندگی بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔ یہ امر اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دے۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز عوام کے مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوائیں گی بلکہ اسلحے کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کریں گی۔ اسلحہ لائسنس کے قوانین مزید سخت کیے جائیں تاکہ عام افراد کے ہاتھ میں جان لیوا ہتھیار نہ پہنچ سکیں۔ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بہتر تربیت، جدید وسائل اور جوابدہی کا سخت نظام ضروری ہے۔ اکثر اوقات پولیس اہلکار فائرنگ کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے جس کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ ہر ہوائی فائرنگ کے واقعے کو معمولی جرم سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ کھلا قتل خطا ہے۔ عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ خوشی کے اظہار کے لیے فائرنگ بہادری نہیں، بلکہ ایک خطرناک اور غیر انسانی عمل ہے۔ والدین، اساتذہ اور مذہبی رہنما معاشرے میں یہ پیغام عام کریں کہ اسلحے کے ساتھ جشن منانا سراسر جہالت ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اجاگر کرے، متاثرین کی کہانیاں بیان کرے اور عوام کو یہ باور کرائے کہ ایک گولی کی قیمت ایک انسان کی پوری زندگی ہے۔ اندھی گولی کے متاثرین کی زندگی اذیت ناک ہو جاتی ہے۔ اگر وہ زندہ بچ جائیں تو مستقل معذوری اور ذہنی صدمے کا شکار رہتے ہیں۔ علاج کے اخراجات اور نفسیاتی دباو¿ پورے خاندان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ معصوم عنایہ کے اہلِ خانہ پر بھی اس وقت یہی کیفیت طاری ہے۔ والد محمد عثمان ایک طرف اپنی بچی کی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف انصاف کے لیے دربدر ہیں۔ یہ وقت ہے کہ صوبائی حکومت فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔ اندھی گولی کے واقعات کی روک تھام کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے۔ ہر تھانے کو ہدایت دی جائے کہ شادی، مذہبی اجتماع یا کسی بھی عوامی تقریب میں ہوائی فائرنگ کی اطلاع پر فوری گرفتاری عمل میں لائے۔ قانون میں اس جرم کے لیے سخت سزائیں متعین کی جائیں تاکہ کوئی شخص ایسی حرکت کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔ مزید برآں، عدالتوں کو ایسے کیسز کے لیے تیز رفتار ٹرائل کا اختیار دیا جائے۔ گواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرہ خاندان انصاف کے حصول میں رکاوٹوں سے نہ گزرے۔ جب تک مجرموں کو فوری اور مثالی سزا نہیں ملے گی، تب تک معاشرے میں قانون کا خوف پیدا نہیں ہو گا۔ عنایہ عثمان کا واقعہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک پیغام ہے کہ ہم نے کب تک اپنی خوشیوں کو خون میں رنگنے دینا ہے۔ اگر ہم اب بھی نہیں جاگے تو آنے والے دنوں میں مزید معصوم زندگیاں اس جہالت کا شکار ہوتی رہیں گی۔ ہمیں اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم اپنے تہواروں، خوشیوں اور مذہبی تقریبات کو حقیقی امن و محبت کا پیامبر بنائیں گے یا انہیں بارود اور خون سے آلودہ کرتے رہیں گے۔ آخر میں وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز سے یہی درخواست ہے کہ معصوم عنایہ کے لیے فوری انصاف یقینی بنائیں۔ یہ اقدام نہ صرف ایک بچی کی جان بچانے کی کوشش ہو گی بلکہ پورے معاشرے کو ایک واضح پیغام دے گا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر اندھی گولی کے اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ کوئی اور ماں اپنی بچی کو خون میں لت پت نہ دیکھے اور کوئی باپ اپنے دل میں انصاف کی آس لیے دربدر نہ پھرے۔

ٹیگز: