راجہ عمران حسین کا سفر 2002ءمیں شروع ہوا جب انہوں نے پاکستان میں معذور افراد کے سیاسی حقوق کے لیے سیاسی پلیٹ فارمز پر مسلسل آواز بلند کی۔ اُس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں معذور افراد کے لیے نہ تو کوئی مخصوص ڈیسک موجودتھا اور نہ ہی کوئی مخصوص ونگ۔ سیاسی جماعتیں معذوری کو اہم مسئلہ نہیں مانتی تھیں اور لوگوں میں معذوری کے لفظ کے بارے میں شعور بھی کم تھا۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک جامع قانونی مسودہ پیش کیا جس میں معذور افراد کے سیاسی، سماجی اورمعاشی حقوق کو آئینی طور پر تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی جس میں ان پر زور دیا کہ وہ معذور افراد کے لیے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دیں۔ راجہ عمران حسین نے 2010ءکے بعد تمام صوبائی وزراءاعلیٰ سے بھی ملاقاتیں کیں کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد تمام صوبے آزاد اداروں کے طور پرکام کر رہے تھے۔ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ فعال طور پر منسلک رہے جہاں انہوں نے معذور افراد اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز پر توجہ مرکوز کرنے والے ایک مخصوص گروپ کے قیام کے لیے اقدامات کےے۔ وہ اب بھی اس گروپ کے رکن ہیں۔ وہ خاص طور پر معذور افراد کے حقوق کے حمایتی بن گئے۔ وہ کارساز بم دھماکے اور بینظیر بھٹو پر ہونے والے حملے میں بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ان ذاتی قربانیوں اور غیرمتزلزل کوششوں کے باوجود معذور افراد کے لیے قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلیوں میں کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی۔ نہ ہی معذورافراد کے حقوق کے بل پر اب تک کوئی خاص پیش رفت ہوئی ہے۔ راجہ عمران حسین معذوری کے ساتھ پاکستان کے پہلے قومی و صوبائی اسمبلی امیدوار بن گئے اور انہوں نے بغیر کسی سیاسی پارٹی یاحکومتی حمایت کے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ انہوں نے نہ صرف نظامی کمزوریوں کا انکشاف کیا بلکہ سیاسی بے حسی اور تضحیک کا بھی بہادری سے سامنا کیا۔ راجہ عمران حسین جس سیاسی جماعت سے رابطہ کرتے وہ آسانی سے ان کی حمایت حاصل کرلیتے لیکن جب اسمبلیوں میں معذور افراد کی نمائندگی کی بات آتی تو انہیں نہ تو مخصوص نشست کی پیشکش کی گئی اور نہ ہی پارٹی ٹکٹ کے لیے ان کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ انہوں نے 2013ءکے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے لیکن ان کی امیدواری کے کاغذات واپس کردیئے گئے۔ اس غیرمنصفانہ سلوک کے باوجود انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور نواز شریف کی نوتشکیل شدہ حکومت کے دوران ایک جامع قانون سازی کا مسودہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا۔ اس مسودے کو پرائیویٹ ممبرز بل کے طور پر مختلف وزراءاور اراکین پارلیمنٹ کے ذریعے قومی اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا۔ آج کے خودساختہ حقوق کے جنگجوﺅں نے کبھی کسی پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کے اس بنیادی مسئلے کو حل نہیں کیا۔ جب راجہ عمران حسین کی تنہا آواز بلند ہوئی تو اسے سیاسی حلقوں کے طرف سے طنز اور تضحیک کے ساتھ ساتھ بے حسی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے ان تمام چیلنجز کا لچک کے ساتھ مقابلہ کیا اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ ان کی قیادت، استقامت اور ویژن نے معذور افراد کے سیاسی حقوق کو اب قومی گفتگو کا موضوع بنادیا ہے۔ سال 2018ءاور 2024ءپاکستانی انتخابی تاریخ کے ان لمحات کی نشاندہی کرتے ہیں جب راجہ عمران حسین نے مکمل طور پر انتخابی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اِن مہمات نے نہ صرف ہرقسم کی معذوری کو موضوع بحث بنایا بلکہ معاشرے کے متنوع طبقات کے لیے بصری، الیکٹرانک اور اشاروں کی زبان پر مبنی مواد بھی تیار کیا۔ اشاروں کی زبان میں مواد اُن افراد کے لیے بنایا گیا جو سماعت اور گویائی سے محروم ہیں جبکہ بریل میں معلوماتی پوسٹرز ان لوگوں کے لیے تیار کیے گئے جو بصارت سے محروم ہیں۔ یورپی یونین کے مبصرین نے ان کی کوششوں کو سراہا اور ان کی تجاویز کو اپنی انتخابی رپورٹ میں شامل کیا۔ جہاں راجہ عمران حسین اپنی معذوری کو تحریک اور ترقی میں تبدیل کرتے رہے وہیں پاکستان میں سیاسی جماعتیں معذور افراد کو محض ووٹ بینک کے طور پر دیکھتی ہیں۔ جب بھی کسی پارٹی سے ٹکٹ کے لیے رابطہ کیا گیا تو انکار کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پارٹیوں نے اپنے منشور میں معذور افراد کی فلاح و بہبود کے نعرے شامل کیے ہیں لیکن انہوں نے کبھی عملی اقدامات نہیں کیے۔ آج بھی بڑی سیای جماعتیں جن میں مسلم لیگ ن، پی پی پی، پی ٹی آئی اور دیگر شامل ہیں معذور افراد کی انتخابی عمل میں باقاعدہ حصے داری کو ترجیح نہیں دیتیں۔ راجہ عمران حسین نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو باضابطہ تحریری سفارشات پیش کیں جن میں سیاسی جماعتوں میں معذور افراد کے لیے علیحدہ ونگ بنانے اور خصوصی انتخابی سہولیات کی فراہمی شامل تھا۔ یہ دونوں تجاویز قبول کرلی گئیں لیکن معذور افراد کے لیے اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں جیسا کوٹہ سسٹم اور نامزدگی فیس کی معافی کو ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ راجہ عمران حسین نے قومی اسمبلی میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق ایک جامع بل بھی پیش کرایا جسے 2020ءمیں پی ٹی آئی حکومت کے دوران قانونی زبان میں حتمی شکل دی گئی تاہم بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باعث یہ بل ابھی تک سردخانے میں پڑا ہے جوکہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں معذور افراد کے حقوق کو حقیقی انسانی حقوق کی بجائے سیاسی ہتھیار کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ بل 2023ءمیں بننے والی پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کے سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو بھی پیش کیا گیا۔ آج راجہ عمران حسین کی قیادت ان تمام نام نہاد انسانی حقوق کے محافظوں کے لیے ایک مثال اور چیلنج کے طور پر کھڑی ہے جو خود کو بیان بازی تک محدود رکھتے ہیں۔ وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے ایسے معاملات پر عملی اقدامات کیے جہاں زیادہ تر این جی اوز، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاست دان اب بھی عمل کرنے سے کتراتے ہیں۔