گڈوبیراج : پنجند پر سیلاب کی دوسری خطرناک لہر آ پہنچی ہے، جس کے بعد پنجاب اور سندھ کے کئی علاقے شدید متاثر ہو گئے ہیں۔ دریا چناب، ستلج اور سندھ میں طغیانی کے باعث پانی نے بستیاں، فصلیں اور سڑکیں سب بہا دیں۔
جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات پنجند پر پانی کا بہاؤ 7 لاکھ کیوسک سے بھی تجاوز کر گیا، جس سے حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ حکومت الرٹ ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
منچن آباد کے قریب ایک کشتی الٹنے کے بعد دو نوجوان ڈوب گئے تھے، جن کی لاشیں بستی مموں کا کے قریب سے مل گئیں۔دریائے چناب میں شدید پانی کے دباؤ کے باعث شجاع آباد اور دھوندو میں حفاظتی بند ٹوٹ گئے، جس کے نتیجے میں 138 بستیاں زیر آب آگئیں۔ دھوندو کے مقام پر 80 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جسے بند کرنے کی کوشش کے دوران 3 مزدور پانی میں بہہ گئے، جن میں سے 2 کو بچا لیا گیا، ایک کی تلاش جاری ہے۔
پنجاب اور سندھ کی سرحدی پٹی میں کئی دیہات کا زمینی رابطہ ختم ہو چکا ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی گنا، کپاس، چاول اور سبزیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ مقامی لوگ اپنے طور پر بند بنا کر گھروں اور فصلوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
علی پور کے علاقے خیر سادات میں پانی چھوڑنے کے معاملے پر دو گروپوں میں جھگڑا ہو گیا۔ دونوں طرف سے لاٹھیاں چلیں، پولیس نے مداخلت کر کے صورتحال پر قابو پایا۔
پنجاب سے نکلنے والا سیلابی ریلا اب سندھ میں داخل ہو چکا ہے۔ کشمور میں کچے کے علاقوں سے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے نکالا جا رہا ہے، جبکہ دادو میں کچھ لوگوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔
حب ڈیم میں پانی کی سطح 338 فٹ تک پہنچ گئی ہے اور صرف ایک فٹ کی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ حب ندی کے اطراف رہنے والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دریائے سندھ پر گڈو بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب چھٹے روز بھی برقرار ہے۔ پانی کی آمد 5 لاکھ 12 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے کئی قریبی دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ علاقوں سے مزید 500 سے زائد افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ تاہم کئی علاقوں میں اب بھی امداد کی اشد ضرورت ہے۔