Wed, September 16, 2026

سلامتی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر حملے کی مذمت

سلامتی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر حملے کی مذمت

نیویارک / دوحہ / اسلام آباد :  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ اگرچہ بیان میں اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا، مگر واضح طور پر قطر کی خودمختاری پر حملے کو قابلِ تشویش قرار دیا گیا۔ یہ مذمتی بیان پاکستان کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔

بیان برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا اور حیران کن طور پر امریکہ سمیت تمام 15 رکن ممالک نے اس کی حمایت کی، جو عام طور پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف کسی بھی اقدام کو ویٹو کر دیتا ہے۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب، عاصم افتخار نے اجلاس میں کہا کہ یہ حملہ نہ صرف قطر پر تھا بلکہ یہ عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی ایک خطرناک کوشش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ حملہ منگل کے روز اس وقت ہوا جب اسرائیل نے دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا۔ حملے میں حماس رہنما خلیل الحیا کے بیٹے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، لیکن حماس کی مرکزی قیادت بچ گئی۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اس حملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سفارتکاری کی توہین کی ہے اور اس حملے کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ قطر جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری طرف امریکہ نے دوہرا مؤقف اختیار کیا۔ ایک طرف دوحہ پر حملے کو "افسوسناک" کہا، لیکن ساتھ ہی اسرائیل کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ "حماس کا پیچھا کرنا ایک جائز ہدف ہے۔" امریکی سفیر ڈوروتھی شیا نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار ڈالے اور یرغمالیوں کو فوری رہا کرے۔یہ پہلا موقع ہے کہ سلامتی کونسل نے کسی اسرائیلی حملے پر متفقہ طور پر مذمتی بیان جاری کیا، اور پاکستان کا اس عمل میں اہم کردار رہا۔

ٹیگز: