پناہ گاہ بستی پہ زوروں کا میزائل داغا گیا، کہیں دور تک ریت مٹی اڑی اور اس ریت کے ساتھ لاچار بے گھر فلسطینی بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے اڑے۔۔ آپ نے سر پہ عمامہ سجایا اور کسی انگریز کا ایجاد کردہ مائک لگا کر فنِ جوشِ خطابت میں دشمن کے کشتوں کے پشتے لگا دیے، ادھر ایک کمسن فلسطینی بچہ بڑی مشکلوں سے آٹے کا تھیلا کندھوں پہ اٹھائے لڑھکتا جا رہا تھا، کئی خشک لبوں پہ زبان پھیر کر عرش کی جانب خالی خالی نظروں سے تکتے رہے کہ بار الہا تو تو پتھر کے نیچے دبے کیڑے کو رزق دیتا ہے توْ تو شاخ پہ سوئے پرندے کو گرنے نہیں دیتا، یہاں میرا گھر زمین بوس ہو گیا، مارے بھوک کے میری انتڑیاں سکڑ گئیں، اور ادھر آپ نے حلوے کا تھال اپنے قریب کھسکایا اور آن کی آن میں نگل لیا، ڈکار مار کر گھی سے لبالب ہاتھ داڑھی پہ ملے اور شکر کے لیے ہاتھ اٹھا کر پوری امتِ مسلمہ کی سلامتی کی دعا مانگ چھوڑی۔ پھر کہیں کوئی انگریز کوئی عرب کوئی پاکستانی کوئی ترک مل بیٹھے اور اس قتلِ عام کو رکوانے کی کوشش کرنے لگے، بالآخر معاہدہ طے پایا، کم و بیش تمام فلسطینی سجدہِ شکر میں گر گئے، پوری دنیا میں انسانیت کے نام پہ جشن منائے گئے اور آپ نتھنے پھْلائے ، کف اڑاتے ، ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑے باہر سڑکوں پہ نکل آئے کہ جی ہم اسرائیل کو نہیں مانتے، آپ کو ہم ‘‘بیگانی شادی میں دیوانہ ‘‘ نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ آپ کو ہم شر پسند عناصر نہ لکھیں تو اور کیا لکھیں؟ ۔
کیا آپ نے اس وقت کوئی ریلی نکالی جب فلسطینی گاجر مولی کی طرح کاٹے جا رہے تھے؟ نہیں کیا آپ نے اس وقت کوئی بھوک ہڑتال کی جب فلسطینی بچے بھوک سے بلک رہے تھے؟ نہیں میٹا کے وٹس ایپ اور فیسبک پہ اسرائیل مخالف پوسٹس لگانے کے سوا آپ نے کیا ہی کیا تھا؟ اور دھرنے دیجیے بصدِ شوق دیجیے آپ کا آئینی حق ہے، لیکن اپنا مقصد عوام کو سمجھایئے۔۔۔ کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ اگر تو بات فلسطینیوں کی جانوں کی حفاظت کی ہے تو پھر ریلی کا حق ادا کیا ہے جماعتِ اسلامی نے۔۔۔ ایک پر امن عوام کا جمِ غفیر لے کر اپنی آواز انہوں نے اس وقت بلند کی جب مقصد فلسطینیوں کے حق میں احتجاج ریکارڈ کروانا تھا، جب ان پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، اب جب وہاں شانتی ہو رہی ہے لوگ شکر ادا کر رہے ہیں تو اللہ جانے آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ آپ لاہور سے چلے ہیں اور پورے پنجاب کو مفلوج کر کے بیٹھ گئے ہیں، اللہ جانے آپ کے اس احتجاج کی وجہ سے کتنی ایمبولینس کا رستہ رکا ، کتنے مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے جان کی بازی ہار گئے، کتنے بچوں کی تعلیم کا حرج ہوا اور کس قدر معیشت کا پہیہ رکا، ان باتوں کا ادراک شاید ان بھولے بھالے لوگوں کو نہ ہو جنہیں آپ بہلا پْھسلا کر ساتھ لے آئے اور یہ جو حق کا علم آپ آج اٹھائے پھر رہے ہیں پہلے کہاں تھا، آپ کا کبھی ہاتھ نہ کانپا وٹس ایپ استمال کرتے سمے؟ یا آپ اس وقت کونسی بوٹی سونگھ کر سو رہے تھے جب عمارتوں کے ملبے تلے سے کسی معصوم کے ننھنے پاؤں جھانک رہے تھے یا جب کوئی معصوم ماں کی لاش کے ساتھ گم سْم بیٹھا تھا؟ اب جب سب سر جوڑ کر بیٹھے اور مسئلے کا پر امن حل نکالا ، اب جب یہ طے ہو گیا کہ اب سے مزید کسی عمارت پہ کوئی بم نہیں برسائے جائیں گے، اب مزید کوئی فلسطینی روٹی کو نہیں ترسائے جائیں گے، اب مزید کسی ہسپتال کو کھنڈر میں نہیں بدلا جائے گا تو آپ دندناتے ہوئے سڑکوں پہ نکل آئے۔ کیا آپ تک غزہ پہ بمباری کی اطلاع ابھی پہنچی؟ یا آپ کی سمجھ دانی اتنی چھوٹی ہے کہ آپ کو سال لگ گیا بمباری اور تباہ کاری کا مطلب سمجھنے میں یا پھر۔۔۔۔۔ اس گھناؤنی حرکت کے پیچھے آپ کے کچھ اور مذموم مقاصد ہیں؟ (ٹی۔ایل۔پی) تحریکِ لبیک پاکستان والوں کو دو سال بعد یاد آیا فلسطین میں جنگ ہو رہی ہے کوئی اسے بتائو وہاں جنگ بندی ہو چکی اپنی دوکان بند کرو ڈالر کوئی نہیں ملنے، اب جب جب مْلک میں سرمایہ کاری آنے لگتی ہے تب تب فسادی جتھوں کے پٹے کھل جاتے ہیں,اس بار پنجاب کو نشانہ بنایا گیا ہے, کیونکہ پنجاب بولا ہے پہلے وفاق بولتا تھا تو وفاق پر چڑھائی ہوتی تھی,پنجاب حکومت یہ مضبوط اعصاب کی جنگ ہے,دونوں اطراف سے بیک وقت حملہ آور ہونا سمجھ آتا ہے تکلیف کہاں کہاں پہنچی ہے۔
قرآن کہہ رہا ہے ‘‘لا تفسدو فی الارض’’ پھر کہہ رہا ہے لا اکرہ فی الدین’’ اور آپ کہہ رہے ہیں جلاؤ گھیراؤ۔۔۔۔ مجھے حیرت ان لوگوں پہ ہے جو آپ کے پیچھے چل پڑے، ایسی بھی کیا اندھی تقلید کہ انسان منطق ، عقل مندی اور ہوش سب کھو بیٹھے۔ ارے میرے بھائیوں سو بار دو دھرنے لیکن جب جب کوئی انتشاری اپنے کسی غلیظ مقصد کے تحت آپ کو سڑکوں پہ نکالے تو آپ سوال کریں، پہلے اپنے ضمیر سے اور پھر اس شریر سے جو بیگانی شادی میں دیوانہ بنا پھر رہا ہے۔ جب فلسطینی بذاتِ خود سجدہ شکر میں گرے ہیں تو جس فسادی کے پیچھے آپ لگے ہیں کبھی سوچا آپ نے کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اول تو احتجاج ہے کس بات کا؟ جنگ بندی کا؟ اور پھر اگر احتجاج پر امن ہی ہے تو پھر ڈنڈے سوٹے اور کیمیکل کس لیے؟ میری اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ ان فسادیوں کو سی سی ڈے کے حوالے کرے یا پھر انہیں بھیجے جنہیں فساد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ہنر آتا ہے، انہوں نے پہلے سندور والے ٹھنڈے کیے اور پھر تندور والے اب جلوس والے سہی۔۔۔!!!