دس اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن منایا گیا، جس کا مقصد دماغی صحت کے بارے میں آگاہی دینا اور ذہنی امراض سے متعلق معاشرتی خاموشی کو توڑنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دس تا انیس سال کی عمر کے ہر سات میں سے ایک بچہ ذہنی مسائل کا شکار ہے، جن میں اعصابی خلل، ذہنی دباؤ اور اختلالِ جذبات نمایاں ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی بچوں میں ذہنی مسائل چودہ سال کی عمر سے پہلے ظاہر ہو جاتے ہیں جبکہ نصف مسائل اٹھارہ سال کی عمر سے قبل نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ان اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوعمر افراد کو فراہم کی جانے والی ذہنی صحت کی خدمات ناکافی ہیں اور دنیا بھر کی حکومتوں کو اس ضمن میں فوری اور ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔لیکن افسوس کہ ہمارے جیسے معاشروں میں ذہنی صحت پر بات کرنا آج بھی شرمندگی سمجھا جاتا ہے۔ ذہن کے زخم دکھائی نہیں دیتے مگر یہ جسم کے ہر درد سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنی آواز سننے سے قاصر ہو جائے تو وہ دوسروں کے شور میں اپنا وجود کھو دیتا ہے۔ یہی شور ہمارے گھروں، دفاتر اور رشتوں میں گونجتا رہتا ہے اور یہی شور ذہنی سکون کو خاموشی کے قید خانے میں بدل دیتا ہے۔ ہم جسم کے بخار پر دوا کھا لیتے ہیں مگر دماغ کے بخار کو تعویذ میں لپیٹ دیتے ہیں۔
اگر کوئی شخص ڈپریشن میں مبتلا ہو جائے یا خاموشی اختیار کر لے تو اسے فوراً "نماز کی کمی" یا "ایمان کی کمزوری" سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت بے چینی یا گھبراہٹ کی شکایت کرے تو اسے "ہسٹیریا" کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان زندگی سے مایوس ہو تو اسے "ناشکرا" قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہم ہر احساس کو مذہب یا اخلاقیات کے پیمانے سے ناپتے ہیں مگر انسانی ذہن کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم اسے جنات کا مسکن قرار دیتے ہیں یا کسی سائیں کے آستانے پر بھیج دیتے ہیں، جہاں دھونی، دھاگے اور دم کے ساتھ اس کے روحانی مسائل اور ارتقاء کو مزید الجھا دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ صرف جہالت نہیں بلکہ ایک اجتماعی کم فہمی ہے۔ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ذہنی صحت جسمانی صحت جتنی ہی ضروری ہے۔ ایک خوف زدہ، شرمندہ یا تھکا ہوا ذہن جسم کی تمام قوتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اسے اب بھی ایک مغربی تصور یا طبقاتی تعیش سمجھا جاتا ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ ذہنی توازن ہی زندگی کی اصل توانائی ہے اور ذہنی بیماری کا علاج بھی وہی سائنسی عمل ہے جو جسمانی بیماری کا ہوتا ہے۔ہمارے گھروں میں بولے جانے والے معمولی جملے اکثر کسی کے ذہن میں عمر بھر کی تکلیف بن جاتے ہیں۔ "ابھی تک رشتہ نہیں آیا؟، "اس عمر میں یہ رنگ اور فیشن زیب نہیں دیتا۔"، " شادی کو دس سال ہوگئے، بچہ نہیں ہوا؟'۔۔ "کو اتنا پڑھ لکھ کر بھی ابھی نوکری نہیں ملی؟"، "اس کا رنگ کالا ہے نصیب بھی کالے ہوں گے۔" ایسے جملے جو ہم روزمرہ گفتگو کا حصہ سمجھ کر بول دیتے ہیں، کسی کے اندر اعتماد کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں۔ یہی زخم وقت کے ساتھ اضطراب، ڈپریشن اور خود سے نفرت میں بدل جاتے ہیں۔ پاکستان میں نفسیاتی علاج کے نظام کی حالت بھی انہی سماجی رویّوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ہسپتالوں میں نفسیاتی وارڈز محدود ہیں، ماہرِ نفسیات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور جنہیں مدد کی ضرورت ہو وہ سماج کے خوف سے چپ رہتے ہیں۔ اگر کوئی ہمت کر کے ڈاکٹر کے پاس چلا بھی جائے تو اسے کہا جاتا ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" یہی جملہ سب سے خطرناک زہر ہے۔ ہم لفظوں سے لوگوں کے خوابوں کو دفن کرتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ نئی نسل مایوس کیوں ہے۔
معاشرتی دباؤ ہمارے گھروں سے نکل کر سکولوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر تک پھیل چکا ہے۔ ہم زندگی کو صرف کامیابی، شادی، دولت یا سماجی مقام کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ خوش رہنا اب ایک جرم بن چکا ہے۔ اگر کوئی شخص خاموشی چاہے تو اسے مغرور کہا جاتا ہے، اگر کوئی عورت اپنی حدود طے کرے تو اسے ضدی سمجھا جاتا ہے۔ ہم ہر شخص کو بدلنے کی کوشش میں اس کی اصل کو مٹا دیتے ہیں۔ذہنی صحت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماننا ہوگا کہ انسان صرف جسم نہیں بلکہ احساسات اور خوفوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے دکھ ہمیشہ ظاہری نہیں ہوتے۔ بعض اوقات وہ ایک جملے، ایک نگاہ یا ایک بے حسی میں چھپے ہوتے ہیں۔ صبر اور دعا اپنی جگہ درست ہیں مگر دماغی بیماری کے لیے دوا، تھراپی اور ماہرِ نفسیات سے علاج ناگزیر ہے۔ جیسے دل کے مرض کے لیے ماہرِ امراضِ قلب کے پاس جانا ایمان کی کمزوری نہیں، ویسے ہی دماغ کے مرض کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا بھی کمزوری نہیں ہونا چاہیے۔ہم نے جسم کا علاج سیکھ لیا مگر ذہن کا علاج بھلا دیا۔ آج بھی کئی گھروں میں جب کوئی فرد ذہنی دباؤ یا نفسیاتی خلل کا شکار ہوتا ہے تو اسے پیروں فقیروں کے پاس لے جایا جاتا ہے، جہاں دم، دھاگے اور تعویذ کے ذریعے علاج کی کوشش کی جاتی ہے۔ مذہبی رسومات اپنی جگہ محترم ہیں مگر انہیں سائنسی علاج کا متبادل بنا دینا ظلم ہے۔ یہ طریقے اکثر مریض کو مزید اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں، کبھی جسمانی طور پر، کبھی روحانی طور پر۔
ذہنی صحت دراصل انسان کے احترام کا دوسرا نام ہے۔ یہ سوال ہے کہ ہم کسی دوسرے کے احساس کو کس سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسا معاشرہ بنا لیا ہے جہاں بولنے والا گستاخ اور خاموش رہنے والا کمزور سمجھا جاتا ہے۔ جہاں دکھ سنانے پر طنز کیا جاتا ہے اور مدد مانگنے پر شرمندگی دلائی جاتی ہے۔ یہی وہ زمین ہے جہاں ذہنی بیماری پنپتی ہے، وہ دکھ جو زبان سے ادا نہ ہو سکے، ایک دن شور بن جاتا ہے۔اگر ہم واقعی صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں کا علاج کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ذہنی تندرستی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ رونا کمزوری نہیں، مدد مانگنا شرم نہیں اور تھراپی کوئی مغربی عیاشی نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے۔ سکون ایک نعمت ہے اور وہ تبھی ممکن ہے جب ہم سننا، سمجھنا اور قبول کرنا سیکھیں۔ذہنی صحت کا مطلب صرف پاگل پن سے بچنا نہیں بلکہ خود کو پہچاننا، اپنی حدود کو جاننا اور اپنے اندر توازن قائم رکھنا ہے۔ ایک متوازن ذہن ہی انصاف کر سکتا ہے، محبت کر سکتا ہے اور معاشرے کو بہتر بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر ذہن خوف، بیزاری یا تنہائی میں ڈوب جائے تو پورا معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی بیماری کے مریض ہیں مگر اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے دل سے معافی مانگیں، ان تمام فتووں، طنزوں اور زہریلے جملوں کے لیے جن سے ہم نے دوسروں یا خود کو زخمی کیا۔ ذہنی صحت کوئی مغربی تصور نہیں،یہ انسان ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ جب تک ہم اسے نہیں سمجھیں گے، ہم زندہ تو رہیں گے، مگر اندر سے مسلسل ٹوٹتے رہیں گے۔