Wed, September 16, 2026

قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ، 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا امکان

قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ، 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا امکان

اسلام آباد :  قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ منعقد ہو گا، جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری دی جائے گی۔ گزشتہ روز سے اس پر بحث جاری ہے اور آج اس کے مکمل طور پر منظور ہونے کا قوی امکان ہے۔

حکومت کو اس ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں، جب کہ حکومت کے پاس 237 ارکان کی حمایت موجود ہے، جس سے اس ترمیم کے پاس ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت اس ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی خواہش رکھتی ہے، اور صدر مملکت کے دستخط ہوتے ہی اس کے قیام کے لیے عملی اقدامات شروع کیے جا سکتے ہیں۔

اگر آج قومی اسمبلی میں ترمیم منظور ہو جاتی ہے، تو امکان ہے کہ کل (جمعرات) وفاقی آئینی عدالت کے ججز سے حلف لیا جا سکتا ہے، جس کے ساتھ ہی عدالت عملی طور پر قائم ہو جائے گی۔ اس ترمیم کے مطابق، صدر مملکت وزیراعظم کی مشاورت سے وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کا تقرر کریں گے، اور یہ بل پہلے ہی سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے۔

دوسری طرف، اپوزیشن نے بھی اپنی ترامیم قومی اسمبلی میں جمع کرائی ہیں اور انہیں الگ فہرست میں پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے مسترد کر دیا جائے گا، اور وہ آج کے اجلاس میں ترمیم کی باآسانی منظوری کی توقع رکھتی ہے۔

گزشتہ روز اسمبلی کی کارروائی شور شرابے کی نذر ہو گئی تھی، تاہم وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ "ازخود نوٹس کا اختیار ماضی میں ایک عفریت بن چکا تھا، اور اب اس ترمیم سے عدالتوں کے اختیارات کی حد بندی ہو گی، جس سے انصاف کا عمل مزید شفاف اور مؤثر ہوگا۔" وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی اس ترمیم کی حمایت کی اور کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ نظامِ انصاف کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے اس ترمیم کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا، جب کہ جے یو آئی (ف) کی شاہدہ اختر علی نے اس ترمیم میں شامل کئی نکات پر عوامی مشاورت نہ ہونے کا الزام عائد کیا۔

ٹیگز: