Wed, September 16, 2026

مدر ڈے

مدر ڈے


اگلے روز مدر ڈے پر میرے ایک بیوروکریٹ دوست نے اپنی ماں کے ساتھ تصویر اپنی فیس بُک وال پر لگا کے ساتھ ماں کی شان میں اتنے خوبصورت الفاظ لکھے مجھے رشک آیا میں نے سوچا ایسے خوبصورت الفاظ کاش میں بھی لکھ سکتا، اتفاق دیکھئے اُسی روز اُس بیوروکریٹ دوست کی والدہ کی مجھے کال آئی کہنے لگیں ”میرے افسر پُتر نُوں آکھیں میں بیمار آں آ کے مینوں مل جائے“، میں نے سوچا ہمارے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے، یہ تضاد ماں کے رشتے میں نہیں ہے، دُنیا میں سارے رشتے دو طرفہ مفاد کے ہیں، سوائے دو رشتوں کے، ایک اللہ کا اپنے بندے سے دوسرا والدین کا اپنی اولاد سے، بندہ، اللہ کی عبادت کرے نہ کرے، اُس کے احکامات پر من و عن عمل کرے نہ کرے، اللہ اُسے نوازتا جاتا ہے، کم از کم رزق کے دروازے اُس پر بند نہیں کرتا، دُنیا کا شاید ہی کوئی بندہ ایسا ہو گا جو کبھی بھوکا سویا ہو، انسان تو پھر اشرف المخلوقات ہے اللہ پتھروں میں کیڑوں کو رزق پہنچا دیتا ہے، دوسرا یک طرفہ رشتہ والدین کا اولاد سے ہے، آپ اپنے والدین کی خدمت کریں نہ کریں، اُن سے محبت کریں نہ کریں، اُن کی عزت کریں نہ کریں، اُن کا خیال رکھیں نہ رکھیں، وہ آپ کے لیے ہمیشہ دعائیں ہی کرتے ہیں، کبھی آپ کا بُرا نہیں چاہتے، خصوصاً ماں کے رشتے کا تو کوئی نعم البدل ہی نہیں ہے، ابھی پچھلے دنوں لاہور کے علاقے اچھرہ میں ماں کے نام کی ایک چُڑیل نے اپنے تین چھوٹے بچوں کو قتل کیا، مجھے ابھی تک اس سانحے کا یقین ہی نہیں آ رہا، اس علاقے کے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن قمر عباس شاعر ادیب آدمی ہیں، میرا اُن سے دیرینہ تعلق ہے، وہ مجھ سے غلط بیانی نہیں کر سکتے، مگر میں نے اس سانحے کی جب اُن سے تفصیل سُنی مجھے یقین ہی نہیں آیا، میں نے کچھ اور بااعتماد سینئر پولیس افسروں سے رابطہ کیا، اُنہوں نے وہی بتایا جو قمر عباس نے بتایا تھا، مجھے پھر بھی یقین نہیں آیا، میں ابھی تک یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوں کوئی ماں ڈائن سے بھی بدتر ہو سکتی ہے، مجھے اب بھی یہی لگتا ہے یہ پولیس کی اپنی کوئی روایتی کہانی ہے جو عموماً کسی واردات کے اصل ملزمان کی گرفتاری میں ناکامی کے بعد گھڑی جاتی ہے، جانوروں میں رشتوں کی تمیز نہیں ہوتی، مگر جانوروں اور پرندوں کی مائیں بھی اپنے بچوں کے لیے وہی احساس رکھتی ہیں جو انسانوں کے ہوتے ہیں، میرے بچپن کا واقعہ ہے، ہمارے گھر کے ساتھ ایک خالی پلاٹ میں ایک مُرغی اپنے چُوزوں کے ساتھ دانہ چُگ رہی تھی، اچانک ایک چیل آئی اور اُس کا ایک چوزہ اُٹھا کے اُڑ گئی، مُرغی اُس چیل کے پیچھے اُڑی، میں دیکھ رہا تھا وہ چیل کے پیچھے ایسے اُڑتی جا رہی ہے جیسے وہ خود چیل ہو، میں حیران تھا مُرغی کی اتنی اُڑان کیسے ہو سکتی ہے؟ پھر میں نے سوچا یہ مُرغی نہیں یہ اصل میں ماں اُڑی ہے، یہ وہی ماں ہے جس کے لیے ہمارے شاعر عباس تابش نے ہمیشہ زندہ رہ جانے والا شعر کہا
اک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
اپنی مخلوق کی فکر میں اللہ سوتا ہے نہ ماں اپنی اولاد کی فکر میں سوتی ہے، بس آنکھیں بند کر لیتی ہے، عمیر نجمی کا ایک شعر ہے
گھبرا کے اگر دل میں بھی کہہ دُوں ماں جی
فوراً کسی جانب سے جواب آتا ہے ہاں جی
اللہ کی کس کس نعمت کا ہم شُکر ادا کریں؟ یہ نعمت کم ہے اُس نے ماں کا رشتہ بنایا، مجھ سے ایک انٹرویو میں کسی نے پوچھا ”آپ کی نظر میں دُنیا کا بدترین انسان کون ہے؟“ میں نے عرض کیا ”میری نظر میں دُنیا کا بدترین انسان وہ بھی ہے جس کے والدین زندہ ہوں اور وہ اُن کی عزت یا خدمت میں کوئی کسر چھوڑ دے“، ابھی پچھلے دنوں ہم نے اللہ کے ترس سے ڈی ایچ اے لاہور میں گھر بنایا، بیگم اور بچوں نے جس محنت اور محبت سے اسے سجایا ایک طرف میں وہ دیکھ دیکھ کے خوش ہو رہا تھا دوسری طرف اس شدید اُداسی اور محرومی کا شکار تھا آج میرے والدین زندہ ہوتے کتنا خوش ہوتے، میری ماں نے اپنی وفات سے صرف دو روز پہلے خاص طور پر مجھے اپنے پاس بُلایا، کہنے لگیں ”پُتر ساہڈے زیادہ تر رشتے دار مالی لحاظ نال بڑے ماڑے نے، تُوں اپنا گھر اینی دُور نہ بنائیں جتھے تیرے رشتے دار پہنچ ای نہ سکن، تے جے تُوں کدھرے دُور گھر بنا لیا فیر اوہناں نُوں ملن آپ جایا کریں یا اپنی گڈی ڈرائیور بھیج کے اوہناں نُوں کول بلا لیا کریں، تے جے اوہ آپ آ جان اوہناں نُوں آن جان دی سواری دا کرایہ دیا کریں“۔ اب بچوں کی خواہش پر مجھے شہر سے ذرا دُور ڈی ایچ اے فیز سیون میں گھر بنانا پڑا مگر ماں کے اس حکم یا وصیت کی تعمیل کی میں پوری کوشش کرتا ہوں، دُور دراز علاقوں میں رہنے والے رشتہ داروں سے خود ملنے چلے جاتا ہوں، یا گاڑی ڈرائیور بھیج کر اُنہیں پاس بُلا لیتا ہوں، اور اگر وہ خود تشریف لے آئیں اُن کی سواری کو آنے جانے کا کرایہ لازمی ملتا ہے، البتہ اپنی اس محرومی سے میں نجات حاصل نہیں کر پا رہا کہ سرکاری گھر جی او آر تھری میں قیام کے دوران اپنے دن کا آغاز میں روزانہ اپنے والدین کی قبروں پر حاضری سے کرتا تھا، قبرستان میرے گھر کے بالکل قریب تھا، اب بچوں نے میرا دفتر بھی ڈی ایچ اے گھر پر ہی بنا دیا ہے، اب حاضری کا موقع صرف جمعہ کو ملتا ہے، پہلے میں روزانہ پانچ سے دس منٹ اُن کی قبروں پر رہتا تھا، اب روزانہ نہ جا سکنے کا ازالہ میں اس طرح کرنے کی کوشش کرتا ہوں جمعہ کو ایک گھنٹے سے زائد وقت وہاں گزارتا ہوں، والدین کی یادیں اور باتیں ختم ہی نہیں ہوتیں، دعا ہے جن کے والدین دُنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اللہ اُنہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور جن کے والدین حیات ہیں اللہ اُنہیں صحت تندرستی والی خوبصورت زندگی عطا فرمائے۔

ٹیگز: