واشنگٹن:صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ تہران کی جانب سے پیش کی گئی امن کی پیشکش کو "احمقانہ" قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اب ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اوباما اور بائیڈن دور کی "رعایتوں کی پالیسی" اب دفن ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے دستبرداری کی "ٹھوس ضمانت" نہیں ملتی، ایران پر "زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ" جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے درج ذیل بڑے اقدامات کا اشارہ دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی بحری طاقت اور تجارتی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے "پراجیکٹ فریڈم" کو دوبارہ فعال کرنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ صدر نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تجویز پر غور کے لیے آج قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ٹرمپ نے پچھلی انتظامیہ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ماضی میں ایران کو دی گئی چھوٹ امریکی مفادات کے خلاف تھی۔ ہم اب کسی ایسی تجویز کو تسلیم نہیں کریں گے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی پر سمجھوتہ کرے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے قومی سلامتی میٹنگ میں "جنگ" کے آپشن پر غور کرنا خطے میں ایک بڑی فوجی مہم جوئی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھائیں تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور خلیجی خطے میں باقاعدہ جنگ چھڑنے کا شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔