پاکستانی معاشرے میں طلاق کی شرح خطرناک حد تک بڑھنے لگی ہے۔ طلاق یا خلع کے لیے رجوع کرنے والے دونوں فریقین میں سے زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ یہ ٹرینڈ ایک طرف خواتین کے با اختیار ہونے کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف فیملی سسٹم کے بگاڑ کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے۔ پاکستان میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح تشویش کا باعث ہے۔ طلاق نہ صرف افراد بلکہ خاندانوں اور مجموعی طور پر معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں گیلپ سمیت مختلف سروے ہوئے ہیں۔ 48 سے 54 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ طلاق کی شرح گزشتہ دہائی کی بہ نسبت اب انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں طلاق کی شرح میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کی فیملی کورٹس، گارڈین کورٹس اور سول عدالتوں میں سال 2024 کے دوران دائر پسند کی شادی، طلاقوں، خلع، نان نفقہ اور بچوں کی حوالگی کیسوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ پانچ سال میں یہ شرح 423 فیصد بڑھ گئی ہے، ان کیسز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ملازمت کرنے والی خواتین کی شرح زیادہ ہے۔ سال 2024 کے
دوران 1 لاکھ 47 ہزار 520 کیسز دائر ہوئے ہیں، جبکہ 2018 سے 2022 میں دائر کیسوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 4 رہی۔ گزشتہ برس کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو ہر گھنٹے میں تقریباً 50 کیسز طلاق اور خلع کے دائر ہو رہے ہیں۔ طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے روایتی خاندانی نظام میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ خاندان ٹوٹنے سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی ذہنی، جذباتی اور معاشی ڈویلپمنٹ پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کے بے راہ روی کا شکار ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں، ان کے اندر خود اعتمادی کا بھی فقدان ہوتا ہے۔ لہٰذا مرد اور عورت دونوں جدا ہونے سے قبل بچوں کے احساسات اور مستقبل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں ریاست کہاں بچوں کی ذمہ داری لیتی ہے؟
معاشی دباؤ، بدلتے ہوئی ثقافتی اقدار، مغربی ثقافت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اور بھی بہت سے اہم عوامل ہیں جو طلاق کا باعث بنتے ہیں۔ رپورٹ میں جب پڑھا کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کا طلاق کی طرف زیادہ رجحان ہے۔ تو اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ ایسا کیوں؟ محبت کی شادی میں نہ جانے لوگ کیا کیا وعدے کر بیٹھتے ہیں خاص طور پر مرد حضرات۔ جب شادی ہو جاتی ہے، زندگی کی حقیقت کھلتی ہے تو محبت کی شمع آہستہ آہستہ بجھنے لگتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ایک دوسرے کی توقعات اور وعدوں پر پورا نہ اترنا ہے۔ پسند کی شادی میں برداشت کی قوت زیادہ ہونی چاہیے لیکن زیادہ تر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ جب معاملہ برعکس ہوتا ہے تو پھر خلیج بننا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اگر شادی کے بعد عدم توجہ، معاشی تنگدستی یا پھر عہد وفا کے معاملات ہوں تو رشتہ آخری سانسیں لینے لگتا ہے۔ محبت کی چاشنی جب کھٹائی میں بدلتی ہے تو رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تو کونسلنگ کا نظام اتنا پائیدار نہیں۔ پسند کی شادی پر ماں باپ بھی طعنے دینے لگتے ہیں کہ شادی مرضی سے کی ہے تو اب بھگتیں بھی۔ ہمارے معاشرتی اقدار اور رویے بھی ازدواجی رشتوں کو بچانے میں مددگار نہیں۔ موجودہ دور کی پریشانیوں نے عدم برداشت کو تقویت دی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تو مالی دباؤ ہی اتنا زیادہ ہے کہ آبادی کا زیادہ تر حصہ اپنے اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دن رات ایک کشمکش میں مبتلا رہتا ہے، مہنگائی، بے روزگاری نہ جانے ہر روز کتنے گھر اجاڑ دیتی ہے۔ جب ایک مرد گھر کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس مسلسل معاشی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے ازدواجی تعلقات خراب ہونے لگتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر میاں بیوی جھگڑنے لگتے ہیں۔ رشتے سے عزت و احترام اور محبت اٹھ جاتی ہے۔ موجودہ دور میں چونکہ طلاق کو اتنا معیوب نہیں سمجھا جاتا جس طرح آج سے کچھ دہائیوں پہلے تھا، اب طلاق یافتہ ہونا عورت کے لیے اتنا بڑا داغ نہیں رہا۔ عورت مشکلات کی زندگی کو گلے سے لگائے رکھنے کی بجائے آزادی کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ زمانہ کی پروا کیے بغیر پڑھی لکھی اور معاشی طور پر خودمختار خواتین اب مرد کے سخت اور متشددانہ رویے کو برداشت نہیں کر رہیں۔ تاہم آج بھی لاکھوں ایسی خواتین ہیں جو شوہروں اور سسرال کی جانب سے بہیمانہ تشدد برداشت کر رہی ہیں۔ بات آپشنز کی بھی ہے ۔ خواتین کی کثیر تعداد اپنے بچوں یا معاشی طور پر آزاد نہ ہونے کے باعث ایک گھٹن زدہ رشتے میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے معاشرے میں شادی شدہ جوڑوں کی زندگی میں سسرال یا ماں باپ کی جانب سے بے جا دخل اندازی بھی ازدواجی زندگی میں بہت بڑی خرابی کا باعث ہے۔ شادی ہوتے ہی مرد کے والدین یا بہن بھائی اس مرد کو بیوی سے کتنا اور کیسا تعلق رکھنا ہے کہ لیکچرز دینا شروع کر دیتے ہیں جیسے اس نے ابھی ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہو۔ شادی کے بعد اس مرد کی تربیت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ میاں بیوی کو تو موقع ہی نہیں دیا جاتا کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں، ایک دوسرے کی عادات، ضروریات اور خواہشات کا ادراک کر سکیں۔ زمانہ قدیم سے ہی برصغیر پاک و ہند میں مرد کو عورت کو نیچے لگا کر رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ عورت کو برابری کا حق نہ دینا بھی خاندانی مسائل کو بڑھا رہا یے۔ میرا ماننا ہے کہ آج کی عورت مرد سے زیادہ محنت کش ہے۔ وہ معاشی طور پر بھی مرد کا ساتھ دے رہی ہے، نوکری کرتی ہے، بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ عورت تو اجرت کے بغیر ہی اتنی مزدوری کرتی ہے کہ جس کا مقابلہ مرد نہیں کر سکتا۔ پھر بھی عورت کو اپنے حق کے لیے بولنے کی اجازت نہ ملنا بھی رشتے کو کمزور کر دیتا ہے جہاں انہیں عزت اور محبت میسر نہ ہو۔ ہم لباس اور طرز زندگی تو مغرب والا اپنانا چاہتے ہیں لیکن اپنی سوچ اور افکار کو مغربی روایات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتے۔ یہ ہمارے معاشرے کے دوغلے معیار ہیں ۔ ایک تو وسائل کی کمی اور دوسری رشتے داروں کی بے جا دخل اندازی بڑھتے ہوئے خلع کے کیسز کی بڑی وجوہات ہیں۔ اب انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا نے بھی خواتین پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔ خواتین کو اپنے حقوق بارے زیادہ آگاہی ملی ہے۔ ان کی دنیا اب صرف گھر کی چار دیواری نہی رہی۔ خواتین شوہر کا بے جا دبا اور رعب برداشت کرنے سے انکاری ہیں۔ لہٰذا اب ازدواجی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کے باعث رشتے زبردستی قائم رکھنے کی بجائے ان سے آزادی حاصل کرنا اہم ہو گیا ہے۔ پاکستان میں بکھرتے ہوئے فیملی سسٹم کو قابو میں رکھنے کے لیے اہم اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جوڑوں کی کونسلنگ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اتنا اہم فیصلہ کرنے سے قبل غور و فکر کر سکیں۔ خاص طور پر ایسے جوڑے جن کے بچے ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کے راستے تلاش کر سکیں، ایک دوسرے کے حالات کو سمجھ سکیں۔ ماں باپ کے الگ ہونے سے بچوں کو پہنچنے والی تکلیف اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے طلاق کی بڑھتی شرح کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو آگے بڑھ کر ماں کا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ معاشرے کو بکھرنے سے بچایا جا سکے۔