Wed, September 16, 2026

بدامنی کی نئی لہر اور طالبان قیادت

بدامنی کی نئی لہر اور طالبان قیادت

وقت کے ساتھ طالبان پر شبہات میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہوا ہے لیکن ایسے کوئی اِشارے نہیں ملتے کہ دنیا کی تشویش کا طالبان کوبھی احساس ہے بلکہ ان کی بے نیازی ظاہرکرتی ہے کہ دنیاکے بڑھتے شبہات کی اُنھیں پروا ہی نہیں حالانکہ ترقی الگ تھلگ نہیں جڑے رہنے سے ممکن ہے شاید طالبان کو یقین ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دنیا کی ضرورت بن کر مال بٹورتے رہیں گے فوجی انخلا کے بعد کابل میں سی آئی اے کے دفتر کے صلے میں نیروبی کے راستے امریکہ 160ملین ڈالرماہانہ افغانستان کو اداکرتارہا ہر منگل کو ایک جہاز چالیس ملین ڈالر لیکرکابل آتا اور اتنی مالیت کی افغان کر نسی لے کرچلا جاتا اب تک اِس طرح ہونے والی ادائیگی کاتخمینہ اٹھارہ ارب ڈالر ہے وصول شدہ رقم سے طالبان کو ملک میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے میں مددملی لیکن ٹرمپ نے ادائیگی کا یہ سلسلہ بندکردیاہے طالبان کو دوسری بڑی مالی مدد بھارت سے ملتی ہے جو رقم کے علاوہ ہتھیاروں کی شکل میں ہوتی ہے تا کہ طالبان مجاہدین کو کشمیرکارُخ نہ کرنے دیں اور پاکستان کوغیر مستحکم کرنے میں معاونت کریں آمدنی کا تیسرا ذریعہ چین ہے انتہاپسندوں کوچینی علاقوں میں کارروائیوں سے روکنے کے عوض طالبان کو پیسے دیئے جاتے ہےں پاکستان کو بھی ابتدا میں پیشکش ہوئی کہ بیس ارب روپے اداکر دیں تو ٹی ٹی پی کو پاکستانی سرحد سے دور بسا دیں گے مگر پیشکش نہ ماننے پر اب ٹی ٹی پی کے مددگار بن چکے ہیں جس سے بھارت خوش ہے پاک افغان بڑھتی کشیدگی ختم کرنا طالبان کی نظر میں بلیک میلنگ ہے حالانکہ اِس طرح خطے میں بڑی طاقتوں کو مداخلت کاجواز مل سکتا ہے طالبان ایسے دوراہے پر ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انھیں بلیک میلنگ سے نظامِ مملکت چلانا ہے یا معیشت کو بہتر کرنا ہے طورخم سرحد کی مسلسل بندش سے بظاہر تو یہی نظرآتا ہے کہ طالبان کوملکی معیشت سے کوئی دلچسپی نہیں ۔
طالبان طرزِ عمل سے پاکستا ن ہی نہیں اکثر ہمسایہ ممالک شاکی ہیں چاہتے ہیں کہ جب بیرونی افواج کا انخلا ہوچکاتو مہاجرین اب واپس چلے جائیں لیکن طالبان قیادت ایسا نہیں چاہتی مخدوش ملکی صورتحال کی وجہ سے مہاجرین بھی واپس نہیں جانا چاہتے اِس بناپر طالبان عبوری انتظامیہ کے پاکستان اور ایران سے تعلقات کشیدہ ہےں آٹھ لاکھ افغانوں کو ملک سے بے دخل کرنے کے بعد ایرانی وزیرِ داخلہ سکندرمومنی کہتے ہیں کہ مزید افغان مہاجرین کو ملک میں جگہ دینے سے قاصر ہیں۔ پاکستان ایسا ملک ہے جس نے ہمیشہ افغانوں کاساتھ دیاوہ بھی بقیہ افغان مہاجرین جن کی تعداد چالیس لاکھ کے قریب ہے کو واپس وطن بھیجنا چاہتاہے کیونکہ اِن میں سے اکثر دہشت گردانہ کارروائیوںکے ساتھ منشیات اور اسلحہ فروخت میں ملوث ہیں اب تو یہ ملکی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بننے لگے ہیں اسی بناپرپاکستان نے تمام افغان مہاجرین کو اکتیس مارچ تک ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے عدم تعمیل کی صورت میں گرفتاری وزبردستی ملک بدری کا لائحہ عمل بنالیا ہے یہ صورتحال ہر گز جنم نہ لیتی اگر مہاجرین قوانین کی پاسداری کرتے ، ،پُرامن رہتے مزیدیہ کہ طالبان حکومت غیر سنجیدگی اورلاپروائی کی روش چھوڑ دیتی ۔
پاک فوج ایک پیشہ ور فوج ہے یہ تربیت اور تکنیک میں بہت عمدہ ہے جس نے قلیل وسائل کے ساتھ بھی اَن گنت جانی ومالی قربانیوں کی تاریخ رقم کی یہ کئی عشروں سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مصروف ہے داعش اور ٹی ٹی پی جیسے جنگجوﺅں کے آگے ناقابل تسخیر دیوار ہے اسی بناپر مذکورہ تنظیمیں جدیدترین اسلحہ اور وسائل کے باوجود ہنوزناکام ہیں اور پاکستان کو عراق اور شام جیسے انجام سے دوچار نہیں کر سکیں پاک فوج نے دہشت گرد اور شدت پسند گروہوں کوپیش قدمی سے روک رکھاہے لیکن طالبان کی حماقتیں اور عالمی سازشیں خطے کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے قریب ہیں امریکہ نے پاکستان سے داعش کمانڈر محمد شریف اللہ عرف جعفرکی گرفتاری کے لیے مدد طلب کی اورپھر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنی پہلی ہی تقریر میں شکریہ اداکرنے سے پاکستان کو داعش اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی طرف سے بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا سامنا ہوسکتاہے یہ تنظیمیں طالبان کے تعاون سے مزید فعال ہو کر پاکستان اور ایران پرحملے کرسکتی ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ممالک ہیں اور عسکری لحاظ سے طاقتور بھی،اسی لیے امریکہ اورمغرب کا خاص طورپرنشانہ ہیں حالات کے خدوخال کاتقاضاہے کہ نہ صرف پاک ایران قیادت محتاط رہے اور مشترکہ کارروائیوں کا طریقہ کاربنائے بلکہ طالبان کو بھی چاہیے کہ ایسی کسی سرگرمی کاحصہ نہ بنےں جس سے مسلم امہ کے اثاثے متاثر ہوں۔
ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ دنیا سے جنگوں کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن دنیا سے جنگوں کے خاتمے پر یقین رکھنے والا امریکہ ایشیا میں امن نہیں چاہتا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ چین کو کسی ایسی بڑی جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے جس سے نہ صرف اُس کے وسائل کا زیاں ہو بلکہ معیشت و تجارت سے بھی توجہ ہٹ جائے بھارت کی سرپرستی اور تعاون اسی سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ گزرے 75برسوں کے دوران چین نے کسی ملک سے کوئی بڑی اور طویل جنگ نہیں لڑی وسائل کا بڑا حصہ شہریوں کو غربت سے نکالنے اور صنعت و زراعت پرصرف کرنے کی وجہ سے ہی آج ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے اُس دہانے پر ہے کہ اگر آئندہ دوعشروں میں سپر پاورہونے کا اعلان کرتا ہے تو کسی ملک میں اتنی سکت نظر نہیں آتی کہ اُسے روک سکے دنیا بھر میں فوجی اِڈے بنا نے اور ہر تنازع کا حصہ بننے سے امریکہ کی خلائی ودفاعی تحقیقات اورمعاشی ترقی کی رفتارمتاثر ہوچکی ہے اب جنگوں کے خاتمے کی باتوںسے عیاں ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے وسائل صرف چین کے مقابلے پر صرف کرناچاہتاہے جس کا ادراک کرتے ہوئے چین کی ذمہ داری ہے کہ پاک ایران قیادت سے مل کر ایسا متفقہ لائحہ عمل بنائے جس سے نہ صرف خطے کا امن و امان تباہ کرنے کی عالمی سازشیں ناکام ہوں بلکہ ترقی وخوشحالی کا جاری سفر مزیدتیز ہو طالبان قیاد ت کا تعاون داعش اور ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کے جلدخاتمے میں مددگارہوسکتا ہے اِس طرح نہ صرف خطہ عدمِ استحکام کا شکارہونے سے بچ جائے گا بلکہ طالبان کو ملک میں اپنی رٹ مستحکم کرنے میں بھی مددملے گی اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان امن کی بحالی کے راستے پرچلتے ہیں یا مال بٹورنے کو ہی مقصدِ حیات رکھتے ہیںمستقبل قریب میں اِس کادرست جواب مل جائے گا۔

ٹیگز: