شکریہ کے الفاظ کی اثر پذیری ہمیشہ خوشگوار ہوتی ہے مگر جب یہی شکریہ وہاں سے موصول ہو جہاں سے خیر کی خبر خال ہی ملتی ہو تو خوشی کا اظہار تعجب سے بھرپور ہوتا ہے۔ حال ہی میں ایسا ہی معاملہ پاکستان کیساتھ ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکن کانگریس سے خطاب کے دوران دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے نمایاں کردار اور تعاون کو سراہتے ہوئے برملا پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ویسے تو ہم نائن الیون کے بعد سے اس پرائی لڑائی میں حصہ دار بنے ہوئے اور بہت سے ایسے مواقع بھی آئے کہ ہماری قربانیوں کو ”ڈُو مور“ کہہ کر مزید کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اب کی بار ایک انسانیت دشمن مکروہ کردار کی گرفتاری پر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری پر امریکی صدر نے اقوام عالم پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر کوئی بھی بڑی سے بڑی طاقت خواہ امریکہ ہی کیوں نہ ہو کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بطور پاکستانی میرے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ عالمی سطح پر میرے ملک کی تعریف ہو یا میرے وطن کی قربانیوں اور عالمی امن کی بابت مثبت طرز عمل کو سراہا جائے۔ یہ امر ہم جیسے پاکستانیوں کیلئے اس لیے بھی حیران کن ہے کہ ا مریکی رجیم چینج کے بعد پاکستان میں رجیم چینج کے مارے ہوئے، معدودے چند عاقبت نا اندیشوں نے مفروضوں کا جہاں آباد کر رکھا تھا اور گلی گلی نگر نگر ”ظالمو! قاضی آ رہا“ کی ہم قافیہ ہاہا کار مچا رکھی تھی کہ ٹرمپ آ گیا ٹرمپ آ گیا اب ٹیلیفون کی گھنٹی بجے گی اور اڈیالہ جیل کے پھاٹک فٹافٹ کھل جائیں گے۔ کچھ زیادہ زیرک اور ذو معنی فہم و دانش کے علمبردار تو دو چار قدم آگے جا کر اسی خام خیالی کو حکومت اور وزیراعظم کیلئے دھمکی بنائے بیٹھے تھے کہ بس اب انکا من چاہا کردار آزاد ہونے کو ہے، اور وہ یہ یقین لیے بیٹھے
تھے بلکہ اپنے جعلی ٹرولز کے ذریعے اس کا پرچار کر رہے تھے کہ امریکی صدر کی سب سے پہلی ترجیح ایک ایسے شخص کو آزاد کرانا ہے جو بزعم خود انہی کو ایبسولوٹلی ناٹ کہہ چکا ہے، امریکی سازش جیسے بیانئے اورجھوٹے پراپیگنڈے کا موجد ہے اور اب کرپشن، اختیارات سے تجاوز سمیت متعدد سنگین مقدمات کے تحت جیل میں بیٹھا اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے۔ ان سادہ لوح بے چارے کلٹ فالورز کو باور کرا دیا گیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد صدر ٹرمپ فوری طور پر پاکستانی حکومت پر چڑھ دوڑیں گے اور اسی غلط فہمی بلکہ گمراہی میں وہ ناچ ناچ دیوانے ہوئے جا رہے تھے کہ دن مہینے میں بدل گئے اور اب بات مہینوں سے بھی آگے نکلتی دکھائی دے رہی ہے ہنوز وہ ٹیلیفون کے انتظار میں ہیں جو نہ آنا تھا اور نہ آیا۔ البتہ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ مائیکل والٹز نے دہشت گردی خلاف پاکستانی کوششوں پر امریکی صدر کی جانب سے باضابطہ شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکی مشیر قومی سلامتی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے حکومت پاکستان کا پالیسی موقف ان تک پہنچایا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت ٹرمپ انتظامیہ اور امریکہ کیساتھ وسیع البنیاد تعلقات استوار کرنے کی خواہاں ہے۔ یک نہ شد دو شد کے مصداق دوہری خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے تعاون اور دہشت گردی کے خلاف کردار کی مستند رپورٹ جار ی کرنے والی امریکی سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر بھارتی نژاد کاش پٹیل کو چاہتے نہ چاہتے پاکستان کی تعریف کرنا پڑی۔ اس طرح بھارت کا یہ واویلا بھی رائیگاں گیا کہ پاکستان دہشت گردی کی خلاف تعاون نہیں کرتا۔ امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کے کردار اور حمایت کو تسلیم کرنے اور سراہنے پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے شکریہ ادا کرتے ہوئے خیر سگالی جذبات کا اظہار بھی کیا ہے اور دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ بھی کیا۔ وزیراعظم نے بجا طور پر واضح کیا کہ ہم ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں اور اس حوالے سے صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تاریخ اور میڈیا گواہ ہے کہ اس عملی تعاون کی پاداش میں پاکستان کے 80 ہزار سے زائد بہادر جوانوں، سکیورٹی اہلکاروں و افسروں سمیت عوام الناس نے اپنے جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے نام جوابی پیغام میں کھل کر کہا کہ ہم علاقائی امن و استحکام کی خاطر امریکہ کیساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھیں گے۔ شکریہ اور جوابی شکریہ کے اس تبادلے نے اندرون و بیرون ملک بسنے والے محب وطن پاکستانیوں اور پاکستان کے بدخواہوں کے درمیان ایک اور لکیر کھینچ دی ہے۔ ملکی وقار کی بڑھوتری پر شادیانے بجانے والوں اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر لابنگ فرمز ہائر کرنے کے باوجود ناکام رہنے والوں میں اب ایک واضح فرق سامنے آ چکا ہے۔ اسے محض اتفاق سمجھ لیجئے یا قدرت کا کرنا کہ ابھی چند دن قبل جب اسی ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو اپنے پاس بلا کر بے عزت کیا تو رہ رہ کر خیال آ رہا تھا اور بارگاہِ ایزدی میں صد شکر بجا لانے کے جذبات تھے۔ 1998 میں جب پاکستان نے اپنی ایٹمی صلاحیت کا اظہار کیا اور اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دھمکی آمیز ٹیلیفون سمیت ہر طرح کے لالچ و منفعت کو پس پشت ڈال کر اقوام عالم میں وطن عزیز پاکستان کا جھنڈا بلند کرنے کا فیصلہ کرنے والے وزیراعظم اور فیصلے میں شریک پوری قیادت کو آج ایک مرتبہ پھر خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے کہ اگر اس وقت کی سیاسی قیادت جھوٹ موٹ کا ایبسلوٹلی ناٹ کہہ دیتی تو ہم آج خدانخواستہ یوکرین جیسی صورتحال کا شکار ہوتے۔