Wed, September 16, 2026

معاشی امن کے پچیس سو دشمن اور فیلڈ مارشل

معاشی امن کے پچیس سو دشمن اور فیلڈ مارشل

امن نہ ہو تو سرمایہ دوڑ جاتا ہے ،امن ہو تو سرمایہ کار بھاگتے آتے ہیں۔پاکستان میں 2500 کے لگ بھگ ایسے کیڑے مکوڑے ہیں جنہوں نے ملک کا امن تبا ہ کر رکھا ہے۔ ہمارا وہ پڑوسی جو خود کو سپر پاور سمجھنے لگ گیا تھا، اسے ہم نے چند گھنٹوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تو کیا وجہ ہے، کیا خرابی ہے، کیا مسائل ہیں کہ کچے کے چوروں اور ڈاکوئوں کو پٹا نہیں ڈال سکے؟ پاکستان میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں غنڈوں اور بدمعاشوں نے نو گو ایریاز بنا رکھے ہیں، جہاں عام آدمی تو دور کی بات پولیس بھی نہیں جا سکتی۔ کیا یہ ہمارے لیے باعثِ شرم نہیں ہے؟ مجھے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے یہ کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا سے لے کر کراچی تک ایک جنرل کی نگرانی میں چھ سات بریگیڈیئرز کی ڈیوٹی لگا دیں۔ پھر دیکھیں کہ معاملات ٹھیک ہوتے ہیں یا نہیں۔ 
میں یہاں اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرنا چاہوںگا۔ یہ 1988-89کی بات ہے، ہم نے کامونکی میں ایک امن کمیٹی بنائی تھی۔ اس وقت میری عمر 24 یا 25 سال ہو گی۔ جنگ اخبار کے چیف رپورٹر مقصود احمد بٹ عرف سودی بٹ اس کمیٹی کے صدر اور میں جنرل سیکرٹری تھا۔ اس کمیٹی کی ایک میٹنگ میں اس وقت کے ایم پی اے چودھری عبدالوکیل خان مرحوم، ڈی ایس پی، اے ایس پی، متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور میرے جیسے کئی سوشل ورکر بیٹھے ہوئے تھے۔ محرم کا مہینہ تھا اور سوال یہ تھا کہ کیسے شہر میں امن قائم رکھا جائے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو؟ سب نے اپنی اپنی رائے دی۔ مجھے بات کرنے کا موقع ملا تو میں نے ایم پی اے، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ اس شہر (کامونکی کی آبادی اس وقت ایک لاکھ سے اوپر تھی) میں چار پانچ لوگ ہیں جو امن کو تباہ کرتے ہیں۔ آپ ان کو پکڑ لیں، شہر میں امن ہو جائے گا۔ یہی لوگ ہر بار حالات کو خراب کرتے ہیں اور پھر ضمانت پر رہا بھی ہو جاتے ہیں، آپ ان پر ہاتھ ڈالیں، سب ٹھیک ہو جائے گا اور محرم میں بھی امن تباہ نہیں ہو گا۔ واضح کر دوں کہ میں جب بولتا ہوں تو میری آواز خاصی اونچی ہوتی ہے اور میں دوٹوک بات کرتا ہوں۔ کمیٹی کے اجلاس میں میری باتیں سن کر سب نے تالیاں بجائیں کہ بالکل درست بات کی ہے۔ 
المیہ ہے کہ یہاں وہ بندے آزادانہ پھر رہے ہیں جن کے خلاف ستر ستر اسی اسی ایف آئی آرز ہیں۔ کیا عدلیہ نے آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے؟ جناب سپہ سالار، آپ کو اس معاملے میں مداخلت کرنا پڑے گی۔ اس کے بعد یہ ملک پْر سکون ہو جائے گا اور اس طرح چلے گا جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رحمت نازل ہو گئی ہے۔ 
یہاں میں ایک اور واقعہ بیان کرنا چاہوں گا۔ دس سال پرانی بات ہے ایک چودھری صاحب سے ملاقات ہوئی جو رائے ونڈ کے گائوں کے رہنے والے تھے۔ شام چھ سات بجے کے لگ بھگ ہم کہیں بیٹھے ہوئے تھے اور باتوں میں مصروف تھے کہ چودھری صاحب کو ایک فون آیا۔ دوسری طرف ان کا بیٹا تھا۔ بیٹے نے بتایا کہ ان کے ڈیرے پر کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا اور تین بندے قتل ہوگئے ہیں۔ بیٹے سے بات کرنے کے بعد چودھری صاحب بڑے اطمینان سے بیٹھے سگار پیتے اور باتیں کرتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ چودھری صاحب اتنا بڑا واقعہ ہو گیا لیکن آپ پھر بھی اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، پہلی بات یہ ہے کہ جو کچھ ہونا تھا، ہو گیا، اب اس پر پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں، دوسری بات یہ ہے کہ یہ ہمارے ہاں روٹین کے معاملات ہیں، ایسا ہوتا رہتا ہے۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہہ دیا ہے کہ ڈیرے پر میلہ لگ جائے گا تم نکل جائو۔ میں نے پوچھا کہ میلہ سے ان کی کیا مراد ہے تو وہ بولے کہ اب پولیس والے آتے رہیں گے، کھانے کھائیں گے، تفتیش کریں گے، دوسرے لوگ بھی آئیں گے، اس طرح میلہ لگا رہے گا۔یہ کہہ کر انہوں نے بے فکری سے آرڈر دیا کہ بہترین قہوہ اور ساتھ دیسی گڑ لے کر آئو۔ میں سوچنے لگا کہ میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوں اور یہ سن کر مجھے پسینہ آ گیا ہے کہ تین بندے قتل ہو گئے ہیں لیکن انہیں کوئی فکر ہی نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ نے بیٹے سے کہا ہے کہ ڈیرے سے نکل جائیں، وہ کیسے نکلے ہوں گے، تین قتلوں کی وجہ سے پولیس تو فوراً حرکت میں آ گئی ہو گی، ناکے لگ گئے ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم دشمن دار لوگ ہیں، ہم نے راستے بنائے ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ کیسے؟ چودھری صاحب بولے: میں نے اس سے کہا تھا کہ دوسرے راستے سے نکل جائو تو دوسرا راستہ تیسرے گھر سے جا کر دوسری طرف نکلتا ہے۔ وہاں پہلے ہی گاڑی کھڑی ہو گی۔ وہ اب تک نکل چکے ہوں گے۔ پولیس آئے گی، ادھر ادھر سے پوچھے گی اور چلی جائے گی۔
اس واقعہ کے بعد کچھ دیر ہم ساتھ رہے اور پھر میں وہاں سے چلا آیا۔ بعد میں پتا چلا کہ ان کے بیٹے عام بسوں میں بیٹھ کر چوبیس گھنٹوں کے اندر علاقہ غیر میں جا چکے تھے۔ وہ چھ سات ماہ وہاں رہے۔ کوئی ایک سال بعد چودھری صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ اس کیس کا کیا بنا؟ کہنے لگے: صلح ہو گئی تھی۔ میں نے پوچھا کہ صلح کیسے ہو گئی؟ ان کے تین بندے قتل ہو گئے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ان کے پہلے 24 گھنٹے اہم ہوتے ہیں کہ کوئی گرفتاری نہ ہو۔ جب ہمارے بندے نکل جاتے ہیں تو پھر ہمیں سکون ہو جاتا ہے۔ ہمارے لوگوں کو اشتہاری قرار دے دیا جاتا ہے تو دوسری پارٹی کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں کہ اس کے لوگوں پر حملہ نہ ہو جائے۔ حملے کے خوف سے لوگ بھی ان سے دور دور رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری پارٹی کورٹ کچہریوں میں جاتی ہے۔ ہم دوسری پارٹی کو مختلف حوالوں سے دھمکیاں دیتے ہیں اور ممکنہ خطرات سے آگاہ بھی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسری پارٹی صلح پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ہمارے بچے پیش ہو جاتے ہیں۔ وہاں ہم نے پورا انتظام کر رکھا ہوتا ہے۔ بندہ آرام سے گھر آ جاتا ہے۔ چودھری صاحب نے بتایا کہ ایسا واقعہ کبھی کبھار ہی ہوتا ہے زیادہ تر ہمارا ٹیلی فون ہی چلتا ہے۔ 
ایسے لوگ پورے پاکستان میں کتنے ہوں گے؟ میرے خیال میں 2000 سے زیادہ نہیں ہوں گے لیکن انہوں نے پورا سکون تباہ کیا ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے سیاسی قوتیں بھی ڈرتی ہیں۔ ان کو کنٹرول کر لیا جائے تو پورا ملک ٹھیک ہو سکتا ہے میرا خیال ہے کہ یہ کام سپہ سالار سید عاصم منیر ہی کر سکتے ہیں۔

ٹیگز: