Wed, September 16, 2026

بھارت-بنگلہ دیش تعلقات میں کشیدگی، کھیل اور سیاست متاثر

بھارت-بنگلہ دیش تعلقات میں کشیدگی، کھیل اور سیاست متاثر

نیویارک: بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل کشیدگی دیکھی جا رہی ہے، جس نے سفارتی، تجارتی اور کھیلوں کے میدان تک اثر ڈالا ہے۔

نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق، یہ تنازع سیاسی الزامات سے شروع ہوا اور جلد ہی سفارتی اور تجارتی اقدامات کی شکل اختیار کر گیا۔ 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں برطرفی کے بعد حالات مزید خراب ہوئے۔ شیخ حسینہ، جو بھارت کی حمایت حاصل تھیں، ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئیں، جبکہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے نئی دہلی پر تنقید کی کہ وہ سابق وزیراعظم کو واپس بھیجنے سے گریزاں ہے۔

بھارت نے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے خلاف تشدد اور سیاسی جماعتوں کے سخت بیانات پر احتجاج کیا۔ گزشتہ ماہ چٹاگانگ میں بھارتی سفارت خانے پر حملے کے بعد بھارت نے ویزا خدمات معطل کر دیں، جس کے جواب میں بنگلہ دیش نے نئی دہلی میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزا خدمات روک دی۔

کھیلوں میں بھی کشیدگی نظر آ رہی ہے۔ بھارت میں دائیں بازو کے ہندو گروہوں کے احتجاج کے بعد ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو انڈین پریمیئر لیگ میں حصہ لینے سے روک دیا گیا، جبکہ بنگلہ دیش نے اعلان کیا کہ وہ اگلے کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت میں شرکت نہیں کرے گا اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا کہ میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں آئندہ انتخابات کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، کیونکہ سیاسی جماعتیں اسے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ بھارت کے لیے یہ صورتحال جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ عوامی سطح پر سخت بیانات دیے جا رہے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے دونوں ممالک تعلقات کو محدود رکھنے اور مستقبل میں بہتری کے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ تعلقات کی سمت بنگلہ دیش کی نئی قیادت اور بھارت کی علاقائی حکمت عملی پر منحصر ہوگی۔

ٹیگز: