Wed, September 16, 2026

اور سزا سنا دی گئی

اور سزا سنا دی گئی

کسی طاقتور ترین شخصیت کو سزا ملنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو سزا سنائے جانے سے لگ رہا ہے کہ ملک کے معاملات درست سمت میں چل نکلے ہیں۔ اس فیصلے پر دو قسم کا عوامی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طبقہ تو اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہا ہے اور اسے جمہوریت کے لیے اچھا شگون قرار دے رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاست میں مداخلت اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے والوں کے لیے ایک سبق ہے۔ دوسرا طبقہ اس فیصلے سے ناخوش ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سزا دینی ہے تو ان سب کرداروں کو دی جائے جو پاکستان بننے سے لے کر اب تک سیاست میں مداخلت کرتے اور جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارتے رہے۔ دوسرے لفظوں میں اس طبقے کا مدعا یہ ہے کہ فیض حمید کو بھی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی حمایت و اعانت کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ اس طبقے کا کہنا ہے کہ فیض حمید نے ایسا کیا مختلف کیا کہ انھیں سزا سنا دی گئی۔ 
اگر دیکھا جائے تو دونوں طبقوں کا رد عمل اپنی جگہ درست ہے لیکن اس عمل کا کہیں نہ کہیں سے تو آغاز ہونا ہی تھا۔ سو فیض حمید کی سزا کو بارش کا پہلا قطرہ سمجھنا چاہیے۔ جہاں تک فیض حمید کے جرائم کا تعلق ہے تو ان کی تفصیل بہت طویل ہے۔ اس سلسلے کی ابتدا شاید عدالتی فیصلوں میں مداخلت سے ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد عزیز صدیقی اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کی مداخلت کا براہ راست سامنا کرنا پڑا۔ نہ صرف سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑے۔ دونوں معزز ججوں کے علاوہ بہت سے سیاسی رہنما بھی قہرِ فیض کا شکار ہوئے۔ پی ٹی آئی دور میں مخالف سیاستدانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات اسی قہر کا نتیجہ تھے۔ 
فیض حمید نے نہ صرف بطور سربراہ آئی ایس آئی اپنی حمایت یافتہ سیاسی جماعت کو مضبوط کرنے اور اس کے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہرجائزو ناجائز طریقہ اختیار کیا بلکہ اس عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی اپنے اثرورسوخ کے ذریعے اس جماعت کو اقتدار میں رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ یہ جماعت اقتدار میں رہے اور انھیں آرمی چیف بنائے لیکن ان کی یہ مراد بر نہ آئی اور وہ 2022 کے آخر میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو گئے۔ سبکدوشی کے بعد بھی سیاسی عمل میں ان کی مداخلت کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے تقریبا پانچ ماہ بعد9مئی 2023 کو ہونے والے افسوس ناک واقعات میں بھی انھی کا ہاتھ کارفرما تھا۔ یہیں سے اندازہ لگا لینا چاہیے کہ وہ ملک کے سیاسی معاملات میں کس قدر دخیل تھے۔
کہا جا سکتا ہے کہ فیض حمید تحریک انصاف کی حمایت میں ہر حد سے تجاوز کر گئے۔ ان کا کردار اگرچہ کچھ تاخیر سے منظرعام پر آیا کیونکہ اس سے پہلے تحریک انصاف کو ایک بڑی سیاسی قوت بنانے اور اس کے بانی کو دیوتا کے منصب پر فائز کرنے میں تو کچھ دوسرے کردار ملوث تھے جنھوں نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا اور پھر خاموشی سے منظر سے باہر نکلتے گئے لیکن فیض حمید تاخیر سے شامل ہونے کے باوجود منظر کا مرکزی حصہ بن گئے۔ انھی کے بل بوتے پر تحریک انصاف کی قیادت نے آئندہ دس سال یا اس سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بلند بانگ دعوے کرنا شروع کیے اور جب تک اقتدار میں رہی اپنے مخالفین کا ناطقہ بند کیے رکھا۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کو لایا ہی جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کے لیے گیا تھا کیونکہ اس سے پہلے کی تمام سیاسی جماعتوں میں مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کھیل کر بلوغت آنے لگی تھی اور وہ اپنے اقتدار کے لیے طاقت کے مراکز کی طرف دیکھنے کی بجائے جمہوری اقدار کی طرف لوٹ رہی تھیں۔ اسی مقصد کے لیے ان کے درمیان ایک میثاق جمہوریت بھی طے پا گیا تھا اور اس پر کسی نہ کسی حد تک عمل درآمد بھی شروع ہو چکا تھا لیکن یہ صورت حال اس وقت کی مقتدرہ کے لیے قابل قبول نہ تھی کیونکہ اسے سیاسی میدان سے اپنی بے دخلی ہوتی نظر آ رہی تھی۔ چنانچہ اس نے کچھ نئے چہروں کی تلاش شروع کی تاکہ انہیں ان پرانے چہروں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر قوم کو ان نئے چہروں کے پیچھے لگا کر اپنی کھوئی ہوئی جگہ حاصل کی جا سکے۔ مقتدرہ نے بہت سے چہرے آزمائے لیکن انہیں بانی پی ٹی آئی کا چہرہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سب سے موزوں لگا اور بانی کو بھی وزیراعظم بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آیا چنانچہ انہوں نے فورا اپنا کندھا اس وقت کی مقتدرہ کو پیش کر دیا کہ آو¿ اور اپنی بندوق اس پر رکھ کر پرانے چہروں کے خلاف چلاو¿۔ مقتدرہ کو جب اپنی ضرورت کا کندھا مل گیا تو اس نے اس کی مدد سے جمہوری عمل کو پچاس سال پیچھے دھکیل دیا۔ اس کشمکش میں ملک کا اچھا خاصا نقصان ہو گیا۔ مقتدرہ کو جب اس نقصان کا احساس ہوا تو اس نے اپنے لائے ہوئے نئے چہرے سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا تاکہ ملک کو واپس پٹڑی پر لایا جا سکے۔ ایک طرف ملک کے مقتدر حلقوں میں یہ سوچ پیدا ہوئی اور دوسری طرف فیض حمید نے اس سوچ کو عملی شکل دینے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیض حمید سے قبل اگر ملک کی سیاسی اور جمہوری حکومتوں کے خلاف کوئی سازش ہوتی رہی تو اس میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سمیت مختلف ادارے مشترکہ طور پر ملوث ہوتے تھے اور اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوتا تھا کہ اصل کردار کس شخص کا ہے۔ گویا ہر شخص اپنا کردار اس طریقے سے ادا کرتا کہ اس پر گرفت کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا لیکن فیض حمید شاید واحد ایسا کردار ہیں جس نے اس قسم کی کوئی احتیاط ملحوظ خاطر نہیں رکھی چنانچہ وہ آسانی سے پکڑ میں آ گئے۔ انھیں سزا سنائے جانے پر بھلے کچھ لوگ رنجیدہ ہیں لیکن جمہوریت پسند طبقے سمجھتے ہیں کہ یہ ملکی معاملات درست کرنے کی طرف ایک بہت اہم پیش رفت ہے اور اس فیصلے کے ملک کی سیاست پر بہت دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ٹیگز: