ہم کتاب سے بیزار معاشرہ ہیں یا صرف یہ کہاوت ہے،میرا ماننا ہے کہ کتاب اگر اپنے عہد، اپنے سماج اور اپنے لوگوں کے ذہنی رجحانات کے مطابق لکھی جائے تو ہزاروں نہیں، لاکھوں نسخے فروخت ہو سکتے ہیں۔ مغربی دنیا ہو یا ہمارا ہمسایہ بھارت، وہاں کتابیں آج بھی لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کتاب نہیں پڑھتے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم وہ کتاب لکھ رہے ہیں جس کی آج کے قاری کو ضرورت ہے؟ہمارے ہاں اکثر لکھاری یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ اب کتاب کوئی نہیں پڑھتا۔ ناشر شکوہ کرتا ہے کہ کتاب نہیں بکتی، مصنف قاری کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے اور قاری کے بارے میں یہ فیصلہ سنا دیا جاتا ہے کہ اسے کتاب سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مگر شاید ہمیں کبھی یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے کتاب کو آج کے انسان کی زندگی، مسائل، خوابوں اور ذہنی ضرورتوں سے جوڑنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ کتاب آج بھی انسان کی ضرورت ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج کا قاری پہلے سے زیادہ مصروف، زیادہ باخبر اور انتخاب کے معاملے میں زیادہ محتاط ہے۔ اسے ایسی کتاب چاہیے جو اس کی زندگی سے بات کرے، اس کے سوالات کا سامنا کرے اور اسے محض معلومات نہیں بلکہ کوئی نئی بصیرت دے۔اس کی ایک شاندار مثال اسٹیفن آر کووی کی کتاب ”انتہائی مو¿ثر لوگوں کی 7 عادات“ ہے۔ کووی نے کامیابی کے موضوع پر لکھی گئی صدیوں کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس کیا کہ ایک دور کی کتابیں کردار، دیانت، صبر، اصول اور ذمہ داری کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتی تھیں، جبکہ بعد کے زمانے میں کامیابی کی کتابوں کا زور شخصیت سازی کی ظاہری تکنیکوں، پہلے تاثر اور فوری کامیابی کے نسخوں پر زیادہ ہو گیا۔کووی نے اسی بنیادی سوال کو اپنی کتاب کامحور بنایا کہ کامیابی محض تکنیک ہے یا کردار کا نتیجہ؟1989 میں شائع ہونے والی اس کتاب نے دنیا بھر کے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اس کے کروڑوں نسخے فروخت ہوئے۔ کووی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ عادات محض معمولات نہیں بلکہ علم، صلاحیت اور خواہش کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہیں۔ انسان کو معلوم ہو کہ کیا کرنا ہے، اسے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، لیکن جب تک وہ اسے کرنے کی خواہش پیدا نہ کرے، تبدیلی ممکن نہیں۔یہ مثال ہمیں ایک بہت اہم سبق دیتی ہے:کتاب اس وقت بکتی ہے جب وہ قاری کے کسی حقیقی سوال کا جواب بن جائے۔ہمیں یہ شکایت ختم کرنا ہوگی کہ لوگ کتاب نہیں پڑھتے اور اس کے بجائے یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ لوگ کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟کتاب کو لوگوں تک لے جانا ہوگااگر ہم اپنے معاشرے میں کتاب کے فروغ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں کتاب کو صرف بک اسٹال، لائبریری یا کتاب میلے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ کتاب کو زندگی کے راستوں پر لانا ہوگا۔لاہور میں پنجاب حکومت کی جانب سے الیکٹرک بسوں کے روٹس پر خوبصورت ٹک شاپس بنائی گئی ہیں۔ یہ ایک اچھی سہولت ہے، مگر ان مقامات پر دور سے لٹکے ہوئے" شاشے" اور بعض غیر ضروری سجاوٹی عناصر ان کی خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہاں صرف لوگوں کے معدے کی خوراک کا انتظام نہ ہو بلکہ ذہنی خوراک کا بھی بندوبست کیا جائے۔کیوں نہ ان ٹک شاپس میں چھوٹی چھوٹی منی لائبریریاں قائم کی جائیں؟ایک مسافر چائے کے کپ کے ساتھ چند صفحات پڑھ لے، کوئی طالب علم انتظار کے چند منٹ کتاب کے ساتھ گزار دے، کوئی بزرگ اخبار یا رسالہ پڑھ لے اور کوئی
بچہ کہانی کی کتاب اٹھا لے۔ یوں ایک عام ٹک شاپ محض کھانے پینے کی جگہ نہیں رہے گی بلکہ علم، مطالعے اور مکالمے کا چھوٹا سا مرکز بن سکتی ہے۔اسی طرح بس اسٹاپس، پارکوں، ہسپتالوں اور دیگر عوامی مقامات پر چھوٹی لائبریریاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ کتاب کو قاری کے پاس پہنچانے کا یہی طریقہ مطالعے کی عادت کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔بک شاپ رات گئے تک کھلی رہنی چاہیں ،کتاب کلچر کی بحالی کے لیے ہمیں اپنی کتابوں کی دکانوں کے تصور کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ بڑے شہروں میں بک شاپس کو دیگر کاروباری مراکز کی طرح مناسب اوقات تک کھلا رکھنے کی سہولت دی جانی چاہیے۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک شہر میں کھانے پینے اور تفریح کی بہت سی جگہیں رات گئے تک کھلی رہتی ہیں، مگر کتاب کی دکانیں اکثر شام ہوتے ہی بند ہو جاتی ہیں۔جو شخص دن بھر ملازمت کرتا ہے، وہ کتاب کب خریدے؟اسے بھی یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ رات کو کام سے فارغ ہو کر بک شاپ جائے، کتاب دیکھے، چند صفحات پڑھے اور اپنی پسند کی کتاب خریدے۔حکومت کو ایسی بک شاپس کے لیے مناسب تجارتی سہولتیں، پارکنگ ، سکیورٹی اور لائبریری یا ریڈنگ کارنر کے قیام میں تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ بڑے شہروں میں 24 گھنٹے یا کم از کم رات گئے تک کھلی رہنے والی بک شاپس اور ریڈنگ کیفے کتاب
دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہر ہاﺅسنگ سوسائٹی میں درخت بھی، لائبریری بھی ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر نئی ہاﺅسنگ سوسائٹی میں درخت اور لائبریری لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔درخت ہمیں صاف ہوا دیتے ہیں اور لائبریری ہمارے ذہنوں کو صاف، روشن اور وسیع کرتی ہے۔ ایک جسمانی ماحول کو خوبصورت بناتا ہے تو دوسرا ذہنی ماحول کو۔ہم نے شہروں میں پارکس، سڑکیں، شاپنگ مالز اور تفریحی مقامات تو بنا لیے، مگر ذہنی تفریح، مطالعے اور فکری نشوونما کے مراکز مسلسل کم ہوتے گئے۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے: موبائل کی اسکرین روشن ہے، مگر بہت سے ذہنوں میں مطالعے کی روشنی مدھم پڑ رہی ہے۔ڈرامہ اور فلم بھی کتاب کے سفیر بن سکتے
ہیںکتاب دوستی کی مہم صرف حکومت، اسکول اور لکھاریوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ڈرامہ اور فلم رائٹرز بھی اس سلسلے میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔جس طرح ایک ڈرامہ کسی لباس، مقام، زبان یا طرزِ زندگی کو مقبول بنا دیتا ہے، اسی طرح اسکرین پر دکھائی جانے والی ایک کتاب بھی لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ڈراموں میں کرداروں کو کتاب پڑھتے دکھایا جائے، گھر میں کتابوں کی الماری ہو، والدین بچوں کو کتاب تحفے میں دیں، کسی کردار کا مسئلہ کسی کتاب کے مطالعے سے حل ہوتا دکھایا جائے، یا کسی فلم کا مرکزی کردار کتابوں سے محبت کرتا ہو۔یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں معاشرے کے ذہنی رویوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔ہمیں ایسے ڈرامے اور فلمیں بھی چاہئیں جن میں کتاب محض میز پر رکھا ہوا ایک سجاوٹی سامان نہ ہو بلکہ کہانی کا زندہ کردار بن کر سامنے آئے۔اگر ایک مقبول ڈرامے میں ہیرو کسی کتاب کا ذکر کرے تو ممکن ہے ہزاروں نوجوان اس کتاب کو تلاش کریں۔ اگر ایک فلم کسی کتاب سے متاثر ہو تو اس کتاب کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔کتاب کو معاشی سرگرمی بھی سمجھنا ہوگاکتاب صرف علم اور شعور کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی صنعت بھی ہے۔ مصنف، مترجم، ایڈیٹر، ڈیزائنر، پرنٹر، پبلشر، بک سیلر، کاغذ بنانے والا، تقسیم کار اور آن لائن پلیٹ فارم، سب اس صنعت کا حصہ ہیں۔اگر کتاب کی طلب بڑھے گی تو روزگار بھی بڑھے گا اور تخلیقی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔اس لیے حکومت کو کتاب کو محض ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ علمی و تخلیقی معیشت کا حصہ سمجھنا چاہیے۔اصل سوال کتاب کا نہیں، ہماری ترجیحات کا ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کتاب کا مقابلہ آج صرف دوسری کتابوں سے نہیں، بلکہ موبائل، سوشل میڈیا، ویڈیوز، گیمنگ اور تفریح کے بے شمار ذرائع سے ہے۔ ایسے میں کتاب کو قاری تک پہنچانے کے لیے نئے طریقے اختیار کرنا ہوں گے۔کتاب کو خوبصورت بنانا ہوگا، زبان کو آسان اور دلکش بنانا ہوگا، موضوعات کو عہد کے سوالات سے جوڑنا ہوگا، قیمت کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا ہوگا اور فروخت کے نئے راستے پیدا کرنا ہوں گے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں کتاب کو زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل موبائل کی سکرین سے نکل کر علم کی دنیا میں داخل ہو تو ہمیں کتاب کو ان کے راستے میں رکھنا ہوگا۔ اسکول میں، بس اسٹاپ پر، پارک میں، ٹک شاپ پر، بک شاپ میں، ڈرامے میں، فلم میں، گھر میں اور ہر اس جگہ جہاں انسان چند لمحوں کے لیے رک جاتا ہے۔کتاب کو قاری تک لے جائیے، قاری کتاب تک ضرور آئے گا۔اور شاید ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کتاب صرف کاغذ کے صفحات کا نام نہیں۔ کتاب ایک معاشرے کی فکری خوراک ہے۔جس معاشرے میں کتابیں کم ہوتی جائیں وہاں افواہیں، تعصبات، سطحی معلومات اور شور بڑھنے لگتا ہے۔اس لیے کتاب کو بازار کا نہیں، معاشرے کی ضرورت سمجھنا ہوگا۔کتاب نہیں مرتی، صرف کبھی کبھی معاشرے کتاب سے اپنا رشتہ توڑ دیتے ہیں۔ ہمیں یہ رشتہ دوبارہ جوڑنا ہے۔