Wed, September 16, 2026

گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را۔۔۔!

گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را۔۔۔!

یومِ آزادی 14 اگست 2025ء کے موقع پر 78 برس قبل اگست 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت اپنے گائوں (چونترہ ضلع راولپنڈی) کے حوالے سے حالات و واقعات اور ہندوئوں اور سکھوں کی یہاں سے نقل مکانی کے بارے میں اپنے انتہائی بچپن کی بھولی بسری یادوں اور اُس دور کے عینی شاہدین کی حیثیت رکھنے والے اپنے بزرگوں اور بڑوں سے مختلف اوقات میں سن کر اور جان کر علم میں آنے والی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ واقعات اور مشاہدات کے تذکرے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔ لیکن پہلے ایک بات کی وضاحت کہ پچھلے کالم اور اس کالم کا عنوان میں نے ’’گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را‘‘ لکھا ہے۔ میرے ایک رفیقِ کار محترم ڈاکٹر اسماعیل جوئیہ نے نشاندہی کی ہے کہ ’’قصہ‘‘ پارینہ را کی جگہ صحیح لفظ ’’دفتر‘‘ پارینہ را ہے انہوں نے پورا شعر بھی لکھا ہے جو اس طرح ہے
گاہے گاہے باز خواں ایں دفتر پارینہ را
تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را
ترجمہ: کبھی کبھی یہ پُرانے قصے پھر سے پڑھ لیا کرو، اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے سینے کے داغ تازہ رہیں۔
اس وضاحت کے بعد اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ جیسے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہمارے 
گائوں میں ہندوئوں اور سکھوں کے زیادہ تر پختہ مکانات تھے اور وہ گائوں کے اندرونی مرکزی حصوں میں آباد تھے۔ اُن کی سودا سلف اور دیگر اشیاء کی دکانیں بھی تھیں تو اس کے ساتھ ایک دو سکھوں کے پاس شراب اور افیون جیسی نشہ آور اشیاء کے بیچنے کے لائسنس بھی تھے۔ ان سے حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ پرمٹ پر غیر مسلم یہ اشیاء یہاں سے خرید سکتے تھے۔ دکانداری کے ساتھ اس طرح کے کاروبار اور زرعی زمینوں، کھیتوں، کھلیانوں اور کنوئوں وغیرہ کے مالک ہونے کی بنا پر ہندو اور سکھ گھرانے مسلمان گھرانوں کے مقابلے میں زیادہ متمول اور آسودہ حال تھے۔ پھر ان میں پڑھائی اور تعلیم بھی عام تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جسونت سنگھ راز کے نام کا تقسیم کے دور کا ہمارے گائوں کا ایک پڑھا لکھا سکھ تھا جس نے ماسٹر تک لاہور میں تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ وہ شاید قومی معاصر روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے بانی مرحوم حمید نظامی کے قریبی احباب میں شامل رہا تھا۔ اسی بنا پر نوائے وقت والوں سے اُس کا خصوصی تعلق تھا۔ غالباً پچھلی صدی کی ستر اور اَسی کی دہائیوں کے دوران اُس کے مشرقی پنجاب میں امرتسر یا لدھیانہ سے بھیجے مکتوب اور مضامین ’’نوائے وقت‘‘ کے ادارتی صفحے پر اور سنڈے میگزین میں شائع ہوا کرتے تھے۔ ان مضامین میں وہ اپنی جنم بھومی اپنے اور ہمارے گائوں چونترہ کے بارے میں کبھی کبھار کچھ لکھ دیا کرتا تھا۔ میں یہ سمجھ کر کہ اُس کا تعلق میرے گائوں سے ہے اُس کی یہ تحریریں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا کرتا تھا۔
مشرقی پنجاب کے شہروں امرتسر اور لدھیانہ کا ذکر ہوا ہے۔ لدھیانہ سے ہی پچھلی صدی کی پچاس کی دہائی میں کئی برس تک ہمارے گائوں کے ایک دو بزرگوں کے نام خط آتے رہے۔ یہ ٹھیکیدار لعب سنگھ جسے عرف عام میں لبھو ٹھیکیدار کے نام سے پکارا جاتا تھا کے بھیجے ہوئے خطوط ہوتے تھے۔ لعب سنگھ یا ٹھیکیدار لبھو کا میں نے پچھلے کالم میں ذکر کیا تھا۔ تقسیم کے وقت ہمارے گائوں کے اور سکھ گھرانوں کے ساتھ نقل مکانی کر کے وہ مشرقی پنجاب میں شاید لدھیانہ میں جا کر آباد ہوا تھا۔ لعب سنکھ یا لبھو ٹھیکیدار کا سراپا یا ہیولہ کچھ کچھ دھندلا سا میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہے۔ یہ ایک ٹانگ سے لنگڑا تھا جیسے پولیو وغیرہ کی وجہ سے اُس کی ایک ٹانگ چھوٹی ہو گئی ہو اور لاٹھی کے سہارے چلا کرتا تھا۔ اُس کے پاس گائوں کے بازار میں شراب اور افیون کا ٹھیکہ اور کپڑوں کی اپنی دکان تھی تو اس کے ساتھ گائوں کے دو تین اور بزرگوں کے ساتھ شراکت داری میں ہماری زمین پر بھٹہ بھی چلاتا تھا۔ والدِ گرامی حاجی ملک محمد خان مرحوم و مغفور سے اُس کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ اُس کی بیوی جس کا جانکی یا اسی طرح کا نام تھا وہ والد صاحب کو اپنا بھائی کہا کرتی تھی اور اِن پر بہت اعتماد کرتی تھی۔ تقسیم کے وقت جب ہمارے گائوں کے سکھ اور ہندو گھرانوں کو بہت مشکل کا سامنا تھا اور اپنی جانیں بچا کر بحفاظت نقل مکانی کرنا اُن کے لیے ایک مسئلہ بنا ہوا تھا تو ہمارے گائوں کے کچھ سرکردہ لوگوں نے انہیں یہ تجویز پیش کی کہ وہ یہاں سے نقل مکانی نہ کریں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائیں اور ہمارے ساتھ بھائی بن کر یہاں رہیں۔ کچھ سکھ اور ہندو گھرانے اس پر آمادہ بھی ہو گئے۔ ایک گائے بھی ذبح کر کے اُس کا گوشت پکایا گیا تاکہ ہندوئوں اور سکھوں کو جو کلمہ پڑھنا چاہتے تھے انہیں یہ گوشت کھلایا جا سکے۔ میں یہ باتیں اپنی بھولی بسری یادوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقسیم کے بعد کے برسوں میں اپنے بڑوں اور بزرگوں سے سُنی اور جانی ہوئی باتوں اور بیان کیے گئے واقعات کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ اب وہ سارے بزرگ اور میرے مرحوم والدین مدت ہوئی تہہ خاک ہو چکے ہیں، کہ اُن سے تصدیق کی جا سکے تاہم مجھے یہ یقین ہے کہ یہ باتیں اور واقعات بڑی حد تک ایسے ہی ہیں جیسے میں بیان کر رہا ہوں۔
اب جو میں اگلی بات لکھنے لگا ہوں وہ ایسی ہے جس کا ذکر میں نے کئی بار گھر میں سنا اور اُس کے ساتھ اُس کی کچھ دھندلی دھندلی یادیں بھی میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہیں۔ میں نے اوپر ٹھیکیدار لعب سنگھ یا لبھو ٹھیکیدار اور اُس کی بیوی کا حوالہ دیا ہے۔ ہمارے گائوں کے سکھوں اور ہندوئوں کے لیے جب حالات خراب ہوئے اور انہیں وہاں سے بحفاظت نکلنا مشکل لگنے لگا تو ٹھیکیدار لعب سنگھ اور اُس کی بیوی جانکی نے والدِ گرامی محترم حاجی ملک محمد خان مرحوم و مغفور کو اپنا قریبی اور خیر خواہ سمجھ کر اُن سے رابطہ کیا۔ انہوں نے لکڑی کی ایک مضبوط بند صندوقچی جس کا ڈیڑھ دو کلو وزن ہو گا والد صاحب کے حوالے کی۔ جانکی والد صاحب سے کہنے لگی بھراہ محمد خان (بھائی محمد خان) میں نے تجھے اپنا بھائی کہہ رکھا ہے۔ میری یہ صندوقچی تیرے پاس امانت ہے۔ ہمیں یہاں سے بحفاظت نکلنا نصیب ہو گیا تو میں اپنی یہ امانت آپ سے واپس لے لونگی۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر یہ امانت یا صندوقچی اور اس میں جو کچھ بھی ہے تیرے اور تیرے کنبے کے لیے حلال ہے۔ اس صندوقچی میں کیا تھا سونے کی چھوٹی چھوٹی اینٹیں۔ پھر کیا ہوا؟ کسی سکھ بٹالین کے کچھ فوجی اپنے بڑے ٹرک لے کر ہمارے گائوں میں آ گئے۔ انہوں نے پہلے تو گائوں کی ناکہ بندی کر لی جس کے دوران کھیتوں میں کام کرنے 
والے ہمارے گائوں کے ایک کسان غلام نبی کو شہید کر دیا۔ اس سے گائوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوئی اور ہمارے وہ لوگ جو سکھوں اور ہندوئوں کو گائے کا گوشت کھلانے کے لیے پیش پیش تھے اِدھر اُدھر چھپ گئے۔ فوجیوں نے سکھ اور ہندو کنبوں کو اکٹھا کر کے فوجی ٹرکوں میں بٹھایا۔ والد صاحب ٹھیکیدار لعب سنگھ اور اُس کی بیوی سے آ کر ملے اور اُس کی امانت کلو یا سوا کلو سونے کی اینٹوں سے بھری صندوقچی اُن کے حوالے کی۔ ٹھیکیدار لعب سنگھ اور جانکی نے والد صاحب کا شکریہ ہی ادا نہ کیا بلکہ جانکی بھاہا محمد بھاہا محمد خان تو میرا دُنیا کا بھائی ہے کہہ کر کتنی دیر تک روتی رہی۔ ٹھیکیدار لعب سنگھ کا کنبہ لدھیانہ یا اُس کے کسی نواحی قصبے میں جا کر آباد ہوا۔ وہاں اُس نے کپڑے کی دکان بھی بنا لی۔ اُوپر جیسے میں نے لکھا ہے کہ کتنا عرصہ لدھیانہ سے ہمارے گائوں کے ایک دو بزرگوں کے نام لعب سنگھ کے خط آتے رہے جس میں وہ والدِ گرامی کا بطورِ خاص ذکر کر کے انہیں ضرور سلام کہتا۔
کالم کی تنگ دامنی آڑے آ رہی ہے ورنہ میں لعل سنگھ کے چوبارے کے بارے میں بھی ضرور لکھتا جس کی بہت بڑی اور خوبصورت ڈیوڑھی جس پر کئی طرح کے پھول بوٹے اب بھی نظر آتے ہیں اور اُس پر مہاراج گرو نانک دیو جی کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں کا تذکرہ ضرور کرتا اور یہ بھی بتاتا کہ اس ڈیوڑھی کے بالکل اُوپر چھت کے نیچے اس چوبارے کے مالک کا نام لعل سنگھ لکھا ہوا تھا اُس کو لعل سنگھ سے لال خان بنانے کی کیسے کوشش ہوئی۔ (ختم شد)

ٹیگز: