Wed, September 16, 2026

 بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم، سائبر یونٹ قائم

 بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم، سائبر یونٹ قائم

پاکستان میں جرائم کے خاتمے کے لیے قوانین بنانا کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں، ہر حکومت نے اپنے اپنے انداز میں قانون سازی کو ترجیح دی ہے تاکہ جرائم میں کمی کے ساتھ عوام کو محفوظ رکھا جاسکے لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انصاف کی بات آتی ہے تو عوام کے دل میں ایک خلش، ایک بے بسی اور ایک عدم اعتماد جنم لیتا ہے۔اگر ہم موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں قوانین کی تعداد بے شمار ہے، مگر جب ان قوانین کو نافذ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہی سرکاری مشینری، جسے ان قوانین پر عمل کروانا ہوتا ہے، اکثر رکاوٹ بن جاتی ہے۔ نتیجتاً عام آدمی انصاف سے محروم رہ جاتا ہے اور مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو نہ صرف ریاستی نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کی بھی بنیادی وجہ ہے۔دوسری جانب، جرائم کی نوعیت بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ ماضی میں جرائم کا دائرہ محدود تھا اور ان سے نمٹنے کے طریقے بھی نسبتاً آسان تھے، لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں جرائم نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ خصوصاً سائبر کرائم ایک ایسا چیلنج بن کر ابھرا ہے جس نے نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں جرائم پیشہ عناصر کے لیے بھی نئے راستے کھول دیے ہیں۔
پاکستان میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس میں سائبر کرائم سرفہرست ہے۔ ہراسمنٹ، بلیک میلنگ، جعلی پروفائلز اور ذاتی معلومات کا غلط استعمال ایسے مسائل ہیں جو روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں حکومت پنجاب کی جانب سے سائبر کرائم کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات یقینا قابل تحسین ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر قیادت سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف جرائم کی روک تھام ہے بلکہ متاثرہ افراد کو فوری اور آسان انصاف فراہم کرنا بھی ہے۔ خاص طور پر بچوں اور خواتین کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے جو اکثر معاشرتی دباو¿ اور بدنامی کے خوف سے شکایت درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔
اس نئے نظام کے تحت متاثرہ افراد کو تھانے یا دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ موبائل یونٹس اور ورچوئل پولیس اسٹیشن کے ذریعے شکایات درج کروانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ ایک انقلابی قدم ہے جو روایتی پولیسنگ کے نظام میں جدت لانے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ مزید برآں، متاثرہ افراد کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا بھی ایک مثبت پہلو ہے، جو لوگوں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔پنجاب آن لائن سیفٹی ایکٹ 2026ءکا ابتدائی مسودہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت سائبر کرائم کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ سائبر پٹرول ونگ اور سائبر پولیس اکیڈمی کا قیام بھی اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ موجود ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا یہ تمام اقدامات عملی طور پر بھی اتنے ہی مو¿ثر ثابت ہوں گے جتنے کہ کاغذوں میں نظر آتے ہیں؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ ماضی میں بھی ہم نے کئی اچھے اقدامات کو صرف اس وجہ سے ناکام ہوتے دیکھا ہے کہ ان پر درست طریقے سے عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ اگر سائبر کرائم یونٹ بھی اسی روایتی سستی، بدانتظامی اور کرپشن کا شکار ہو گیا تو یہ ایک اور اچھا منصوبہ فائلوں کی نذر ہو جائے گا۔ حکومت صرف قانون سازی تک محدود نہ رہے بلکہ بہترین افراد کے انتخاب کے ساتھ انتظامی مشینری کے احتساب پر بھی بھرپور توجہ دے۔ جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے خود جوابدہ نہیں ہوں گے، تب تک بہترین قوانین بھی بے اثر رہیں گے۔ احتساب کا ایک مضبوط نظام ہی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
 سائبر کرائم کے خلاف جنگ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہ کریں۔ تعلیمی اداروں کو بھی اس حوالے سے شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے جرائم پیشہ عناصر بھی نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرے بلکہ اپنے اداروں کو بھی مسلسل اپ گریڈ کرتی رہے تاکہ وہ ان چیلنجز کا مو¿ثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پروایکٹو اپروچ اپنانے کی ہدایت ایک مثبت سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر اس اپروچ کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا گیا تو یقیناً سائبر کرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس سسٹم کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو جرائم کی بروقت نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سائبر کرائم یونٹ کا قیام ایک خوش آئند قدم ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار صرف نیت پر نہیں بلکہ عمل پر ہے۔ اگر حکومت اپنی انتظامی مشینری کو مو¿ثر، شفاف اور جوابدہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تو یہ اقدام نہ صرف بچوں اور خواتین کے تحفظ کا باعث بنے گا بلکہ عوام کے نظامِ انصاف پر اعتماد کو بھی بحال کرے گا۔
بصورت دیگر، یہ بھی ان گنت منصوبوں کی طرح ایک اور اعلان بن کر رہ جائے گا، اور عوام بدستور انصاف کے منتظر رہیں گے۔

ٹیگز: