Wed, September 16, 2026

کون کتنے پانی میں ہے

کون کتنے پانی میں ہے

دنیا میں جاری دو جنگیں کافی حد تک تباہی لا چکی ہیں۔ ان میں پانچ ملک براہ راست شامل ہیں جبکہ ان ممالک کے پیچھے کم از کم پچاس ملک کھڑے ہیں۔ ان پچاس ممالک کی اقتصادیات سے دنیا کے ڈیڑھ سو ملک کسی نہ کسی انداز میں جڑے ہیں جو جنگی نتائج بھگتیں گے۔ پہلی جنگ روس اور یوکرین کے درمیان شروع ہوئی جب امریکہ مختلف حیلوں بہانوں سے نیٹو فورسز کو ورغلا کر یوکرین کی سرحدوں تک لے لایا اس کا مقصد نہایت قریب سے روس پر نظر رکھنا اور بوقت ضرورت نیٹو فورسز کی مدد سے روس پر حملہ کرنا تھا بعدازاں ایسا ہی ہوا۔ روس نے یہ ادارے بھانپ کر یوکرین یورپی ممالک اور امریکہ کو متنبہ کیا لیکن کوئی باز نہ آیا۔ اس جنگ میں یوکرین بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد اپنے اہم علاقے کھو چکا ہے۔ بیشتر نیٹو ممالک کی فوجیں اس جنگ سے نکل گئی ہیں۔ اب یوکرین بعض یورپی ممالک اور امریکہ کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہا ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی یوکرین کے صدر بننے سے قبل سٹیج اداکار کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ سٹیج پر وہ مزاحیہ کرداروں میں نظر آتے تھے لیکن یوکرین کے صدر بننے کے بعد ان کے رویے میں سنجیدگی آئی لیکن یہ سنجیدگی اور معاملہ فہمی اس وقت آئی جب وہ اپنے احمقانہ فیصلوں کے سبب امریکہ اور یورپ کا آلہ کار بن کر بہت کچھ کھو چکے ہیں۔
یوکرین کے مقابل روس ہے جو ایک ایٹمی طاقت ہے۔ یہ آج سے پچاس برس پہلے والا روس تو نہیں ہے لیکن اس سے کئی ریاستوں کے جدا ہونے کے بعد آج ایک مرتبہ وہ پھر اتنا ہی مضبوط نظر آتا ہے جیسے وہ کبھی ماضی میں ہوا نظر آتا تھا۔ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن ہیں جو ایک طویل عرصہ روسی انٹیلی جنس کے ساتھ وابستہ رہے پھر وہ سیاست میں آئے۔ ولادی میر پیوٹن کا تاثر ایک معاملہ فہم، مضبوط شخصیت اور جنگی داﺅ پیچ پر دسترس رکھنے والی سنجیدہ شخصیت کا ہے۔ وہ جذباتی بیان بازی سے گریز کرتے ہیں اور اتنی ہی بات کرتے ہیں جتنی ضروری ہو۔ وہ اپنی کابینہ ارکان کے اعتماد میں ہمیشہ پورے اترے۔ انہیں اپنے ارکان کابینہ اور عوام کا اعتماد حاصل ہے۔ یہی اعتماد بطور سربراہ مملکت ان کی شخصیت میں جھلکتا ہے، ان کی قیادت میں روس نے ناصرف خاصی ترقی کی بلکہ امریکہ نیٹو فورسز اور یوکرین کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ میں روس پر عالمی اعتماد میں اضافہ نظر آتا ہے۔ یورپی ممالک ان کی طرف جھکاﺅ کر رہے ہیں۔ دوسری جنگ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف شروع کی۔ دونوں نے ملک ایران پر ایک برس میں دو مرتبہ جنگ تھوپی ۔ جنگ کا مقصد روز اول ہی سے واضح تھا۔ جنگ شروع کرنے سے قبل امریکہ نے ایران کے ساتھ اچھا بھلا جوہری معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ کیا۔ آج ستر روز سے وہ ایران سے ایک ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے جو اسے نہیں مل رہی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ دو ایٹمی طاقتوں کی طاقت کا بھرم کھل گیا، اس کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام، بحری بیڑوں ، لڑاکا جہازوں کے پرخچے اڑتے نظر آتے۔ دنیا بھر میں مشہور اس کی میرین فوج کوئی ہدف کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ اسے ستر روزہ جنگ میں ایک سو چالیس ارب ڈالر کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا جبکہ اقتصادی اور سیاسی نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں قائم کئے گئے امریکہ کے اٹھارہ فوجی اڈے تباہ ہو گئے۔ اس جنگ میں اسرائیل کو بھی زبردست تباہی کا سامنا ہے جس کے بعد وہاں میڈیا پر فول پروف سنسر ہے۔ وہاں سے کسی بھی ایک حملے کے بعد ہونے والی تباہی کی تصویر یا ویڈیو جاری کرنا سنگین جرم قرار دیا چکا ہے۔ اسرائیل کا نیوکلیئر پلانٹ اس کی دو بندرگاہیں فوجی تنصیبات کے حوالے سے اہم آٹھ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جنگ کو مذہبی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی پھر اسے یورپی مفادات کی جنگ کا نام دے کر یورپی ممالک کو اس میں گھسیٹنے کی کوشش ہوئی۔ اپنے مقاصد میں ناکامی کے بعد اسلامی ملکوں کو ایران پر حملے کی ترغیب دی گئی لیکن یہ امریکی اور اسرائیلی چال بھی ناکام رہی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آج ایک کرپٹ وزیراعظم کی شہرت رکھتے ہیں، ان کے خلاف کرپشن اور بدانتظامی کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے لاکھ کوشش کر دیکھی اور امریکہ کا اثر و رسوخ بھی استعمال کر دیکھا لیکن اسرائیل کے صدر انہیں صدارتی معافی یا کسی قسم کے استثنیٰ دینے کےلئے تیار نہ ہوئے۔ کرپشن مقدمات سے توجہ ہٹانے کے لئے انہوںنے بلاجواز ایران کے خلاف جنگ چھیڑی۔ اب وہ اسے طول دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن اس جنگ میں ان کا ساتھ دینے والے ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ نیتن یاہو ایک متشدد شخصیت کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ بڑھک بازی کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کھلم کھلا کہتے رہے کہ ایران اور پاکستان اسرائیل کا ہدف ہیں۔ ایران نے اس جنگ میں ان کے کڑاکے نکال دیئے ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ ابھی ان کا میچ ہونا ہے۔ اس میچ میں وہ بھارت کی معاونت سے شریک ہوں گے۔ نیتن یاہو کو بہت جلد انتخابات کا سامنا کرنا ہے جہاں ایک بڑی شکست ان کی منتظر ہے۔
ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ میں امریکہ کا کردار مکروہ ترین ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ اقتدار میں آئے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر کاروباری امپائر کے مالک ہیں، ان کی شہرت ایسے شخص کی ہے جو اپنی دولت کے بل بوتے پر پسندیدہ چیز خریدنے کی خواہش رکھتا ہے حتیٰ کہ امریکہ کی صدارت بھی وہ دھونس دھاندلی اور ہٹ دھرمی سے زندگی میں آگے بڑھتے نظر آتے ہیں، ان کی شہرت کبھی کسی اچھے طالب علم، ایک راست گو شخص کے طور سامنے نہیں آئی۔ ان کے بارے میں ”ایپسٹین فائلز“ کی ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز جو کہانی سناتی ہیں وہی دراصل ان کی زندگی ان کی شخصیت اور ان کا کردار ہے، جو اب کسی ڈرائی کلیننگ کے پلانٹ میں بھی ڈالا جائے تو صاف نہیں ہو سکتا۔ ایرانی قیادت نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی تیل پر قبضے کا خواب مٹی میں ملادیا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان ہیں جو ڈاکٹر اور ایک ماہر سرجن ہیں۔ انہوں نے طب کے شعبہ میں طویل عرصہ خدمات انجام دیں جس کے بعد وہ سیاست میں آئے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور طویل سیاسی تجربہ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ مزاج کے اعتبار سے سنجیدہ اور کم گو ہیں۔ انہوں نے سیاسی اور جاری جنگ کے حوالے سے ہمیشہ نپی تلی گفتگو کی، وہ کبھی ”پلے فار گیلری“ کرتے نظر نہیں آتے۔ یہ سنجیدگی ایرانی سیاستدانوں اور اہم عہدے رکھنے والی شخصیات کا خاصہ ہے۔ ایرانی صدر نے ہمیشہ امن کی بات کی، وہ صلح جو اور معاملہ فہم ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اصولی موقف اختیار کیا اور ہمیشہ اس پر قائم رہے، ان کے فیصلوں کے پیچھے ایرانی عوام، ایرانی سپاہ اور ایران کے رہبر معظم نظر آتے ہیں۔ وہ بے داغ ماضی رکھتے ہیں، ان کے حوصلے جواں ہیں۔ وہ حق پر رہتے ہوئے ایران کے کسی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ حالات کے آئینے میں دیکھا جا سکتا ہے، کون کتنے پانی میں ہے اور کون کون مل کر دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

ٹیگز: