Wed, September 16, 2026

مفادات کی سیاست ،بجٹ اور عوام 

مفادات کی سیاست ،بجٹ اور عوام 


ملک میں مفادات کی چکی چلائی جا رہی ہے جس سے عوام کےلئے صرف چھان بورا ہی بچتا ہے باقی سارا سیاستدان بیوروکریٹس ہپ ہپ کر جاتے ہیں جس ملک کے پلے تو رہا کچھ نہیں البتہ سیاسی جماعتوں کے وارے نیارے ہیں جنہوں نے اقتدار کےلئے باریاں لگائی ہو ئی ہیں اوروہ ہر بار عوام کے حقوق کے نام پر الیکشن جیتتے ہیں اور پھراگلے الیکشن تک غائب ہو جاتے ہیں عوام جائیں بھاڑ میں اسی طرح ہی کہ جیسے جی بی الیکشن میں ن لیگ اور پی پی نے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کی پیپلز پارٹی نے تو اتنی کی کہ الیکشن سے قبل ہی ن لیگ پر الیکشن چوری کرنے کا الزام داغ دیا سندھ کے وزراءکا ایک ہی کام تھا کہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر ن لیگ پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے صرف اس لئے کہ سیٹیں زیادہ مل گئیں تو جشن منائیں گے کم ملیں تو کہہ دیں گے کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جی بی الیکشن میں دھاندلی کی جائے گی خیر الیکشن بخیر وخوبی انجام پائے اور پی پی کو اکثریت ملی اور پہلی بار ہوا کہ کسی نے بھی دھاندلی کا الزام نہیں لگایا جی بی کا معرکہ مکمل ہوتے ہی حکومت اور اپوزیشن کا میل ملاپ شروع ہو چکا جس میں کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا تاکہ اپنے اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ہر بار کی طرح بجٹ سے پہلے پی پی کی بلیک میلنگ کی سیاست شروع ہو جاتی ہے اسی طرح کہ جیسے کلر ک ساراسال مفت کی روٹیاں توڑتے ہیں اور جب بجٹ قریب آتا ہے تو تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کےلئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں تاکہ حکومت پر دباﺅ بڑھایا جاسکے ملکی معیشت دگر گوں اور معاشی منصوبہ بندی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے حصار میں ہے اس لئے اس کے نتائج سے سب آگاہ ہیں،بد قسمتی سے ہماری توجہ معیشت کی مضبوطی سے زیادہ آئی ایم ایف کے اہداف کی تکمیل پر مرکوز ہے،پاکستان محض ٹیکس بڑھا کر خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا موجودہ حالات واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کی بنیادی توجہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرنے پر مرکوز ہو گی کیونکہ مالی سال 2027 کے لیے غیر معمولی ٹیکس ہدف حکومتی پالیسی کا سب سے بڑا امتحان ہو گا۔ کاروباری حلقے ٹیکسوں میں کمی کی امید لگائے بیٹھے ہیں تاہم بڑے ریلیف کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں اس کی وجہ امریکہ ایران جنگ کے سائے بھی ہیں تاہم حکومت کا کام ہر حال میں شہریوں کو ریلیف فراہم کر نا ہوتا ہے نہ کہ ان کے لئے مزید مشکلات کھڑی کی جائیں ،پیٹرولیم لیوی برقرار رہنے کے ساتھ اس میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے پائیدار معاشی ترقی کے لیے صرف ٹیکس بڑھانے کے بجائے وسیع اصلاحات اور پیداواری شعبوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے اس کےلئے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر فیصلے کرنے چاہیں بجٹ میں انسانی ترقی، روزگار اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دی جائے بجٹ کو معاشی تبدیلی کا ذریعہ بنایا جائے بجٹ کوغربت پر اثرات سے جانچا جائے،تنخواہ دار اور دستاویزی شعبے پر بوجھ نہ ڈالا جائے، جبکہ ملک میں 262 ملین بچوں کا سکول سے باہر ہونا اور تعلیم پر جی ڈی پی کا محض 08 فیصد مختص ہونا قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے عوامی نمائندے اپنی تنخواہیں بڑھانے کےلئے ایک منٹ میں بل پاس کر لیتے ہیں جبکہ تعلیم کےلئے کم بجٹ رکھنا افسوسناک امر ہے اس کےلئے سرکار کو ضرورعملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ فروغ تعلیم منصوبہ پروان چڑھ سکے وفاقی بجٹ میں تعلیمی مد کو جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد مختص کیا جائے تاکہ تعلیمی شعبے کو درپیش بحرانوں پر قابو پایا جا سکے تعلیم محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ملکی معاشی استحکام کی بنیاد ہو تی ہے اور ایک ہنرمند و تعلیم یافتہ نوجوان نسل ہی پاکستان کو معاشی طور پر خود کفیل بنا سکتی ہے، آئین کے آرٹیکل 25-A پر عملدرآمد کو یقینی بناکر وفاقی تعلیمی بجٹ کی ترجیحات تبدیل کی جائیں اور اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ ابتدائی، ثانوی اور ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے دوسری طرف لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے الگ خصوصی فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے کیونکہ ہم افغانستان میں لڑکیوں کی تعیلم کے بارے میں تو بہت سوال کرتے ہیں لیکن انپے ملک میں کیا حال ہے اس پر بھی توجہ دینی ہو گی بجٹ قوم کی ترجیحات کا عکاس ہوتا ہے لیکن بد قسمتی سے اسے بھی سیاسی بنادیا جاتا ہے اس میں بھی صوبے مک مکا کرتے ہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم میں سرمایہ کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے 2030 کے عالمی تعلیمی اہداف کو حاصل کیا جا سکتا ہے،پاکستان کی تعلیمی پالیسیوں کو صنعت و تجارت کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ملک میں ایک بہتر اور مستحکم معاشی مستقبل کی تعمیر ممکن ہو سکے، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کی ایک دل دکھانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں بچت کی شرح گزشتہ 30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، پاکستانی عوام ہر 100 روپے آمدن میں صرف 6 روپے بچا رہے ہیں مہنگائی اور کم منافع کے باعث عوام کا رجحان بینکوں کے بجائے سونا،جائیداد اور نقدی کی طرف بڑھ رہا ہے، پائیڈ کے مطابق کم بچت کی شرح ملک میں سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور معیشت کو بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں کی طرف دھکیل رہی ہے پاکستان کی بچت کی شرح 6.4 فیصد ، بنگلہ دیش میں21 فیصد، بھارت میں 28 فیصد اور ویتنام میں تقریباً 30 فیصد کے قریب ہے، حکومت کی زیادہ قرض گیری نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن رہی ہے، کم بچت پاکستان کو بارباربیرونی قرضوں،آئی ایم ایف پروگرام کی طرف دھکیل رہی ہیں جس سے ملک میں سرمایہ کاری کے بحران کا بھی خدشہ ہے ایسی صورتحال میں سیاسی جماعتوں کو سر جوڑ کر ملکی مفاد کےلئے سوچنا ہو گا ورنہ آنے والا کل بھیانک ہوگا اور پھر سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

ٹیگز: