سیاست کے حوالے سے بات کی جائے تو گزشتہ تین سال میں بڑی تبدیلی ہم نے ٹریڈ سیاست کے اندر دیکھیں۔ ایک وہ وقت جب کراچی تا خیبر تاجر برادری کی سیاست چند مخصوص شخصیات کے گرد گھومتی تھی۔ ان میں دو بڑے اہم اور طویل عرصہ تک حکمرانی کرتے نظر آئے۔ جن میں ایس ایم منیر اور افتخار ملک کے نام نمایاں رہے۔ اس وقت ٹریڈ سیاست کا ماحول آج کے ماحول سے بہت مختلف تھا۔ افتخار ملک کی بڑھتی عمر اور صحت کا اجازت نہ دینا اور ایس ایم منیر کی وفات کے بعد ان کی جگہ فیڈریشن میں ٹریڈ کمانڈ ان کے بیٹے ایس ایم تنویر نے سنبھالی جبکہ لاہوری سیاست میں اگر گزشتہ ایک عشرے کی بات کروں تو دس بارہ بڑے ناموں میں میاں مصباح الرحمن، میاں انجم نثار اور میاں شفقت کے اردگرد سیاست گھومتی رہی۔ صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو 2024ءکے ٹریڈ انتخابات نے خاص کر لاہوری سیاست میں بڑے برج الٹ دیئے۔ سو سالہ سیاست کے دعویدار فاو¿نڈرز اپنی ہی بنائی بری چال کا خود شکار ہو گئے اور ان کی جگہ میاں انجم نثار، علی حسام اور خالد عثمان کے نام سامنے آئے اور اگلے برسوں میں لاہوری سیاست انہی گروپس کے اردگرد چلتی نظر آتی ہے۔ ان کے علاوہ ابوذر شاد، نعیم الرحمن سہگل، محمد علی میاں، سہیل لاشاری اور محمد غزنوی اور بڑے نام موجودہ میدان میں اچھی سیاست اور اچھے لیڈران کے طور پر سامنے کھڑے ہیں۔ اس ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ 2024ءکے انتخابی ماحول نے جہاں چیمبرز کی سیاست کے ماحول بدلے نئی قیادتیں سامنے آئیں وہاں حکومت اور تاجروں کے درمیان بڑے عرصہ کے بعد افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے مو¿قف کو تسلیم کرنے کی خوشگوار روایت ڈالی۔ اس سے قبل حکومت بہت کم تاجروں کی بات سنا کرتی تھی۔ اس تمام تر ماحول کو اچھا بنانے میں تین لیڈران کو کریڈٹ جاتا ہے۔ اعجاز گوہر، ایس ایم تنویر اور میاں انجم نثار اور لاہوری سیاست کے بات کروں تو علی حسام کی سیاست کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ دنوں ایک اور بڑی خبر جس نے اچانک ٹریڈ سیاست میں گرما گرم ماحول پیدا کر دیا۔ خبر کے مطابق فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے جو انتخابات سال رواں دسمبر 2025ءمیں ہونا تھے اب حکومت نے اس کو مزید ایک سال دے دیا ہے یوں فیڈریشن شاید پہلی بار دو کی بجائے تین سال پورے کرے گی اور یہ اس لئے کیا گیا کہ ٹریڈ باڈیز اور فیڈریشن کے انتخاب میں ایک دو سال کا گیپ آ رہا تھا، اس کو ختم کیا جائے۔ اس بار ایس ایم تنویر اور میاں انجم نثار کی کوششوں سے اب 2026ءمیں چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور دسمبر 2026ءمیں فیڈریشن کے انتخابات ایک ہی سال ہوں گے۔ اگر یہ روایت روز اول سے ڈال دی جاتی تو سیاست کا نقشہ کافی بدل چکا ہوتا۔ فیڈریشن کے انتخابات ملتوی ہونے سے اب ماحول میں اس گرم ترین موسم میں ٹھنڈ محسوس کی جانے لگی کہ ان کو اگلے انتخابی معرکے میں اترنے کے لئے ایک سال اور مل گیا ہے۔ یہاں میں ایس ایم تنویر کی سیاست کا ذکر ضروری کرتا چلوں کہ انہوں نے اپنے والد کی طرز سیاست کو اپناتے ہوئے وہی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کے بعد کامیابی حاصل کی اگر ایس ایم منیر کی سیاست اور آج کے ماحول کو دیکھا جائے تو بڑا واضح فرق پیدا ہو چکا ہے۔ اس وقت ایک دو گروپس تھے۔ اب ایک گروپ کے اندر کئی گروپ سیاست کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کی موجودگی میں ایس ایم تنویر نے بڑا فعال کردار ادا کرتے ہوئے پہلے میاں انجم نثار کے ساتھ ہاتھ ملانا اس عشرے کی سب سے بڑی خبر ہے اور دو گروپس کے درمیان جو انتخابی رنجشیں بڑھ چکی تھیں۔ کسی حد تک ایک تو ان کا خاتمہ ہوا، دوسرا ایس ایم تنویر کا یہ مو¿قف کہ سیاست سیاست کھیلنے کی بجائے سب کو ایک میز پر بیٹھ کر بات کرنا ہوگی، مسائل تو سب کے سانجھے ہیں اور اختلافات اگر لیڈرشپ کے ہیں تو اس کے لئے میں اپنی لیڈرشپ چھوڑنے کو تیار ہوں۔ میں تو پورے پاکستان کے تاجروں کو ایک چھت تلے دیکھنا چاہتا ہوں ہم متحد ہوں گے تو حکومت ہماری بات سنے گی اور ہم اس سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں بھی آ جائیں گے اور پھر انہوں نے ایسا کرکے دکھایا۔ پہلے آئی پی پیز کے معاملے پر ایک طویل جنگ لڑی اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا پھر ٹریڈ باڈیز کے انتخابات 2025ءکا معاملہ سامنے آیا تو انہوں نے میاں انجم نثار اور دوسری لیڈرشپ کے ساتھ مل کے تمام چیمبرز کی ایک آواز کے ساتھ ٹریڈ باڈیز کے نئے لاکے آگے دیوار بنے اور اب یہ انتخابات اگلے سال 2026ءمیں ہوں گے اور دو بڑی کامیابیوں کو سمیٹنے کے بعد فیڈریشن کے انتخابات کا مسئلہ آیا ان کی بھرپور تیاری ہونے کے باوجود وہ تمام ٹریڈ لیڈران کو ساتھ لے کر چلے اور یہ معاملے بھی حکومتی مذاکرات کے بعد حل ہو گیا۔ یہاں میں ایک ٹریڈ باڈی کے بڑے لیڈر کا نام لئے بغیر انہوں نے مجھے چھ ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ اسد بھائی میری بات لکھ لیں کہ اس سال فیڈریشن کے انتخابات نہیں ہوں گے اور میاں انجم نثار اور ایس ایم تنویر کے درمیان دوستی کا آغاز بھی ہو جائے گا اور وہی ہوا۔ انہی گزرے چھ ماہ میں بہت سے معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو گئے میرے نزدیک ایس ایم تنویر کی دوستی پالیسی اور سب کو متحد کرنے کا جو عزم ہے اگر اس میں سب نے حصہ ڈال دیا تو میرا خیال ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب تاجر برادری اس ملک کی بڑی قوت بن کر سامنے آئیں گے۔ بات ہے اپنے ذاتی اپنے گروپ اختلافات کو ختم کرکے آگے کی جانب بڑھنا ہوگا۔ اور آخری بات....ٹریڈ باڈیز کے ایوانوں سے اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ خدا کرے موجودہ تمام ٹریڈ لیڈر شپ اسی طرح ہتھ جوڑی میں نظر آئے۔ اسی طرح ایک میز پر بیٹھ کر مسئلے مسائل حل کئے جائیں گے تو حکومتیں بھی آپ ہی کی سنیں گے۔