Wed, September 16, 2026

”تیری دو ٹکیاں دی نوکری۔۔۔“

”تیری دو ٹکیاں دی نوکری۔۔۔“

نتھو نے پھتو سے پوچھا بھئی آج آفس نہیں گئے۔۔۔پھتو جھٹ سے بولا بھئی آج رم جھم ہورہی تھی۔ آپ کی بھابھی اور میری گھر والی نے کہاکہ آج موسم اچھا ہے، آفس سے چھٹی کرلیں کچھ موسم کی مناسبت سے کھائیں گے اور زندگی کا لطف اٹھائیں گے۔۔ ہم نے اپنی مجبوری اور عذر ظاہر کیے لیکن گھر والی تھوڑی مزاج کی ضدی ہیں بھئی وہ نہ مانی اور ہم نے جھٹ سے موبائل سے ایک میسج آفس بھیج دیا۔۔۔ پر میسج بہت زبردست تھا۔۔۔ ہمیں چھٹی تو فوراً مل گئی لیکن میں نے کہاکہ ازراہ تفنن اپنے دیگر دوستوں کوبھی سناﺅں گا اور لطف اٹھاﺅں گا ۔۔۔ اس پر چوپال میں موجود ہر شخص تجسس سے پھتو کو دیکھنے لگا ۔ ۔ ۔ پھتو ۔۔۔چپ سائیں کا منتظر تھا۔۔۔ چپ سائیں چوپال میں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے اور حسب عادت اپنی جگہ پر براجمان ہوگئے۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد سب سے پوچھا کیا حال احوال ہے دوستو!؟۔۔۔ اس پر سب یک زبان ہوکر بولے۔۔۔ ہم تو ٹھیک ہیں بس آج پھتو کا موڈ کچھ اور ہی ہے ۔۔۔ چپ سائیں نے حیرت سے دیکھا۔۔۔ اس پر پھتو بولا سائیں جی آج میں نے بارش کی وجہ سے آفس سے چھٹی کرلی۔۔ میری گھر والی بضد تھی ۔۔ ہم نے بھی ایک دلچسپ تحریر موبائل پر آفس بھجوائی اور چھٹی کا لطف اٹھایا۔۔۔ چپ سائیں بولے بھائی ایسا کیا تھا اس تحریر میں۔۔۔؟
پھتو بولا سائیں جی۔۔فدوی نے بیوی کی فریاد درخواست میں تحریر کر کے چھٹی کی عرضی دے ڈالی۔ میں نے متن میں تحریر کیا کہ شدید بارش کے باعث میری بیوی یہ گانا گنگنا رہی تھیں کہ ”تیرے دو ٹکیاں دی نوکری“ وغیرہ وغیرہ۔جس کے باعث فدوی دفتر حاضر نہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا میری درخواست منظور کی جائے اور مجھے چھٹی دی جائے۔۔۔۔ سب بہت حیران ہوئے اور کہا پھر کیا ہوا؟۔۔۔ پھر۔۔۔پھتو بولا۔۔۔ بھائیو۔۔۔مجھے کچھ دیر بعد پیغام موصول ہوا کہ آپ کی چھٹی منظور کی جاتی ہے لیکن ۔۔۔ لیکن۔۔۔ ذرا ہوشیار رہیں کیونکہ کہیں گھر والے آپ کے گھر رہنے سے تنگ نہ آجائیں اور یہ گانا نہ گنگنانے لگ جائیں کہ ”برے نصیب میرے“۔۔۔اس پر سب ہنس دیئے۔۔۔
چپ سائیں بولے۔۔ دوستو! آج تو چوپال میں بہار ہی آگئی۔۔۔ چلیں ہم بھی اس مناسبت سے بات کرتے ہیں اور” ثقیل“ زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں۔۔۔ نتھو اور پھتو۔۔۔''تیری دو ٹکیاں دی نوکری، میرا لاکھوں کا ساون جائے'' اگرچہ ساون کی رت قریب قریب ہے لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک مصرعہ نہیں، بلکہ ایک عہد کی ثقافتی، جذباتی اور سماجی کہانی کا عکس ہے۔ اس گانے نے ایک ایسے دور کی نمائندگی کی ہے جہاں زندگی میں محبت، جذبات اور تعلقات کی اہمیت پیسے، نوکری اور دنیاوی مصروفیات سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ مصرعہ سننے میں سادہ لگتا ہے، مگر اس میں چھپا ہوا کرب اور درد ایک گہرے شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ ''دو ٹکیاں دی نوکری'' صرف ایک کم تنخواہ والی نوکری کا ذکر نہیں، بلکہ یہ علامت ہے اس زندگی کی جس میں انسان روزی کمانے کی مشین بن کر رہ گیا ہو۔ 
کبھی زمانہ ایسا تھا کہ انسان نوکری کو صرف زندگی کا ایک جزو سمجھتا تھا۔ گھر، خاندان، محبت، اور سماجی رشتے زندگی کی اصل پہچان تھے۔ لیکن آج کے دور میں نوکری انسان کی پہچان بن چکی ہے۔ اب انسان سے پوچھا جاتا ہے''آپ کیا کرتے ہیں؟'' ۔۔۔گویا انسان کی شناخت اس کے کام سے جڑی ہے، نہ کہ اس کی شخصیت سے۔
بھائی دوستو !اس مصرعے میں ایک درس ہے کہ ہم زندگی کی اصل خوشیوں کو نہ بھولیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ساون کو پہچانیں، چاہے وہ محبوب کی مسکراہٹ ہو، ماں کے ہاتھ کا کھانا، بچوں کی ہنسی، یا دوستوں کے ساتھ بیٹھا ایک لمحہ۔ اگر ہم یہ سب دو ٹکوں کی نوکری کی خاطر قربان کر دیں، تو آخر زندگی کا حاصل کیا رہ جاتا ہے؟
صاحبو!''تیری دو ٹکیاں دی نوکری، میرا لاکھوں کا ساون جائے'' یہ مصرعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر غور کریں۔ نوکری اہم ہے، مگر وہ زندگی نہیں۔ اصل زندگی وہ لمحے ہیں جو ہم اپنے ساون کے ساتھ گزارتے ہیں اور اگر وہ ہاتھ سے چلے جائیں تو پھر باقی کیا بچتا ہے؟۔دوستو!ادب اور موسیقی میں کچھ اشعار یا مصرعے ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنی تخلیقی خوبصورتی کی بنا پر امر ہو جاتے ہیں، بلکہ اپنے اندر پورے زمانے کی روح سمیٹ لیتے ہیں۔یہ مصرعہ زبان زد عام اس لیے بھی ہوا کیونکہ یہ ایک ایسے جذبات کی نمائندگی کرتا ہے جو ہر دوسرے انسان کے دل میں چھپا بیٹھا ہے وقت کی قلت، محبت کی تڑپ، اور روزگار کی مجبوریاں۔ چوپال کے دوستو جب کوئی کہتا ہے ''میرا لاکھوں کا ساون جائے''، تو وہ یہ کہہ رہا ہے کہ زندگی کے سب سے خوبصورت دن، سب سے قیمتی لمحے، نوکری کی مشینری میں پس کر ضائع ہو رہے ہیں۔
صاحبو!ماضی کا انسان رشتوں، جذبات اور ساتھ کو ترجیح دیتا تھا۔ لوگ کم کماتے تھے، مگر وقت کی فراوانی تھی۔ محلے داروں کے ساتھ بیٹھکیں، شام کی چائے، چھتوں پر چہل قدمی، اور پیار بھری باتیں زندگی کا حصہ تھیں۔ آج کا انسان زیادہ کماتا ہے، مگر تنہا ہے۔ واٹس ایپ، زوم میٹنگز، ڈیڈ لائنز، اور ای میلز نے زندگی سے ''ساون'' چرا لیا ہے۔اس مصرعے میں ایک سوال بھی چھپا ہے کیا ہم نوکری اور جذبات کے درمیان توازن قائم کر سکتے ہیں؟ جواب ہے: ہاں، لیکن اس کے لیے شعور اور ترجیحات کا بدلنا ضروری ہے۔ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ نوکری زندگی کا ایک حصہ ہے، زندگی نہیں۔ یہ مصرعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو پھر سے دیکھیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے چند ٹکوں کے عوض اپنا سب کچھ بیچ دیا ہو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم جیتے جا رہے ہیں، مگر زندگی کہیں پیچھے رہ گئی ہو؟وقت گزر جاتا ہے، ساون لوٹ کر نہیں آتا۔ ۔دوستو! باقی رہے نام اللہ کا۔

ٹیگز: