Wed, September 16, 2026

انٹرنل سکیورٹی فوج کے ماتحت ہونی چاہئے

انٹرنل سکیورٹی فوج کے ماتحت ہونی چاہئے

ریاست کا بہتر انتظام چلانے کے لیے وزارتیں بنائی جاتی ہیں جن کے ذمے اپنا اپنا ٹاسک ہوتا ہے۔ اِن میں خزانہ، دفاع، داخلہ، خارجہ امور، قانون، صحت، تعلیم اور ثقافت وغیرہ کی وزارتیں سرفہرست ہیں۔ وزارتوں کی نوعیت اور اُن کی تعداد کا فیصلہ ہر ریاست اپنی سہولت اور ضرورےات کو مدنظر رکھ کر کرتی ہے۔ باشعور اور جمہوری معاشروں میں وزارتوں کے ٹاسک اور اُن کی تعداد میں تبدیلی ےا ترمےم گناہ تصور نہےں ہوتا بلکہ عصر حاضر کے تقاضوں کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنا دانشمندی کہلاتی ہے جبکہ فرسودہ یا ناکارہ ڈھانچے پر بضد رہنا جہالت کہلاتی ہے۔ ہمارے ہاں وزارت داخلہ کے پاس پولےس، رےنجرز، اےف سی، آئی بی، اےف آئی اے، شہرےوں کی رجسٹرےشن، پاسپورٹ و امےگرےشن، پبلک اےڈمنسٹرےشن، اےمرجنسی مےنجمنٹ، نےشنل سکیورٹی، الےکشنز کے انتظام مےں معاونت، اندرونی پالیسوں پر عمل درآمد، فاٹا اور پاٹا کے علاقائی امور پر رےاست کی معاونت اور نارکوٹکس کنٹرول وغےرہ کے شعبے ہےں۔ وزارت داخلہ کا یہ ڈھانچہ اُس وقت تےار کےا گےا جب دنےا مےں دہشت گردی کی موجودہ شکل ظاہر نہےں ہوئی تھی۔ اُس وقت وزارت داخلہ کو اپنے ہی ملک کے چھوٹے بڑے چوروں، ڈاکوﺅں اور شرپسندوں سے نمٹنا ہوتا تھا جبکہ فوج کے ذمے صرف سرحدوں کی حفاظت تھی۔ اُس وقت فوج ملک کی اندرونی سکیورٹی سے عموماً مطمئن ہوتی تھی کےونکہ وزارت داخلہ کو سکیورٹی کے لیے کوئی بڑا چےلنج درپےش نہےں تھا۔ تقرےباً تےن دہائیوں سے ملک کی اندرونی سکیورٹی کو درپےش چےلنجوں مےں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ اُن کی نوعےت مےں بھی ےکسر تبدےلی آ گئی ہے۔ وزارت داخلہ کو اب اپنے ہی ملک کے اندر چوروں، ڈاکوﺅں یا شرپسندوں سے زےادہ پرےشان کن خطرہ لاحق نہےں ہے بلکہ دہشت گردوں جےسے تباہ کن عناصر کا زےادہ سامنا ہے۔ اِن دہشت گردوں کا بالواسطہ یا بلاواسطہ رابطہ ملک کے بےرونی دشمنوں سے ہے۔ ےہ دشمن کبھی نظرےاتی اختلاف ےا کبھی جغرافےائی اختلاف کی وجہ سے ملک کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچانے سے باز نہےں آتے۔ اِن دہشت گردوں کو تربےت، پیسہ اور اسلحہ بھی بالواسطہ ےا بلاواسطہ طور پر ملک کے بےرونی دشمنوں سے ہی ملتا ہے۔ اس طرح کے تباہ کن عناصر کو انجام تک پہنچانے کے لیے وزارت داخلہ حساس اداروں کا سہارا لےتی ہے جن کا تعلق بالواسطہ ےا بلاواسطہ فوج سے ہی ہوتا ہے۔ ےہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جدید ٹرےننگ کی وجہ سے پاک فوج ہی بےرونی دشمنوں کی تکنےک سے واقف ہوتی ہے، انہےں کاﺅنٹر کرنے کا طرےقہ جانتی ہے اور انٹےلی جنس بےسڈ آپرےشنز کے ذرےعے دشمن کو دبوچنے کی مہارت بھی رکھتی ہے۔ گویا فوج جو کام پہلے سرحدوں پر سرانجام دےتی تھی دشمن کی شکل بدل جانے کی صورت مےں وہی کام فوج کو خود ملک کے اندر بھی سرانجام دےنا پڑرہا ہے۔ وزارت داخلہ کے ماتحت پہلے رےنجرز اور اےف سی جےسی پےراملٹری فورسز اور سِول انٹےلی جنس ادارے تھے۔ اب ان کی مدد کے لیے فوج کو بھی آنا پڑتا ہے۔ اس طرح وزارت داخلہ میں خصوصی تربےت اور اےکشنز کا تعلق بالواسطہ ےا بلاواسطہ فوج سے ہی جڑتا ہے۔ اِن امور کی انجام دہی کے دوران فوج کے بہت سے سےنئر جونےئر افسران اور جوان ملک کے اندر شہےد ےا زخمی ہوچکے ہےں۔ پہلے فوج کے افسران یا سپاہی سرحدوں پر شہےد ےا زخمی ہوتے تھے لےکن اب فوج کو ویسی ہی صورتحال ملک کے اندر پےش آجاتی ہے۔ گوےا ملک کے اےک جےسے ہی دشمن سرحدوں سے باہر بھی ہےں اور سرحدوں کے اندر بھی ہےں جن کا سامنا فوج کو ہی کرنا پڑرہا ہے۔ فوج کو سِول اداروں کی معاونت کی اجازت دےنے کے لیے حکومت کو قانونی پچیدگیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس قانونی پراسس مےں بہت سے سےاسی مفادات بھی شامل ہو جاتے ہےں جن کے باعث اےکشن دےر سے ہوتا ہے ےا نہےں ہوتا جس کا فائدہ دشمن کو پہنچتا ہے۔ اس کی مثال نےشنل اےکشن پلان پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ اس پر عمل درآمد کے لیے ہرصورت میں بالواسطہ ےا بلاواسطہ فوج سے ہی مدد لےنا پڑے گی۔ جےسے پہلے کہا گےا کہ بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے سے ہی وجود برقرار رہتا ہے، وےسے ہی اگر ہماری وزارت داخلہ کے بنےادی ڈھانچے مےں تبدےلی کرکے انٹرنل سکیورٹی کے تمام معاملات براہِ راست فوج کے ذمے کردےئے جائےں تو جہاں بہت سی قانونی و سےاسی پےچےدگےوں سے بچا جاسکتا ہے وہےں بےرونی دشمن کا ساتھ دےنے والے اندرونی دشمن کو فوری تباہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر اےک اور بات پر غور کےا جائے تو ہمارے ہاں سِول ملٹری رےلےشنز مےں اتار چڑھاﺅ کی ایک بڑی وجہ وہی قانونی و سےاسی پےچےدگےاں ہےں جن کے باعث فوج کو انٹرنل سکیورٹی برقرار رکھنے مےں رکاوٹیں پیش آتی ہےں۔ جیسے پہلے لکھا گےا کہ شہرےوں کی بہتری کے لیے قانون مےں تبدےلی گناہ تصور نہےں ہوتی اسی فارمولے کو مدنظر رکھ کر دنےا پر نظر ڈالی جائے تو مختلف ملکوں کی وزارت داخلہ ہمارے ملک کی وزارت داخلہ سے مختلف کام بھی کرتی ہے۔ ےہاں تک کہ بعض ملکوں کی انٹرنل سکیورٹی وزارت داخلہ کی بجائے اےک علےحدہ پبلک سکیورٹی کی وزارت کے ذمے ہے۔ مثلاً ہانگ کانگ میں وزارت داخلہ کے پاس کمےونٹی امور، کلچر، سپورٹس اور لوکل گورننس کے شعبے ہےں جبکہ پولےس اور سکیورٹی کے معاملات سےکرٹری برائے سکیورٹی کے پاس ہےں۔ بھارت مےں وزارت داخلہ انٹرنل سکیورٹی، انٹےلی جنس، پولےس، ڈےموگرافی اور سرکاری زبان کے معاملات کو دےکھتی ہے۔ جاپان میں نیشنل سکیورٹی اور امیگریشن منسٹری آف جسٹس کے تحت آتے ہیں جبکہ وہاں وزارت داخلی امور اور کمیونیکشن کے 
ذمے اےڈمنسٹرےٹو سسٹم، لوکل گورنمنٹ، الےکشنز، ٹےلی کام اور ڈاکخانے کے شعبے ہےں۔ بعض ملکوں مےں وزارت داخلہ کو لوکل گورنمنٹ، پبلک اےڈمنسٹرےشن اور الےکشنز تک محدود کےا گےا ہے جبکہ پولےس اور نےشنل سکیورٹی کے لیے علےحدہ وزارتےں بنائی گئی ہےں جن مےں اسرائےل، ےونان اور وےتنام کی مثالےں شامل ہےں۔ امرےکہ مےںشعبہ داخلہ مختلف کام سرانجام دےتا ہے جن مےں قدرتی وسائل کا انتظام وتحفظ اور مقامی لوگوں کے لیے پالیسی سازی وغےرہ شامل ہےں۔ سکیورٹی کے وہ کام جو بعض دوسرے ملکوں مےں وزارت داخلہ کرتی ہے وہ امرےکہ میں علیحدہ ڈےپارٹمنٹس یعنی ہوم لینڈ سکیورٹی اور جسٹس کے ذمے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی حساس انٹرنل سکیورٹی کے معاملات قانونی و سیاسی پیچیدگیوں سے گزرکر دراصل فوج کو ہی ہینڈل کرنا پڑتے ہیں۔ کیا جمہوری طریقے سے ترامیم کے ذریعے ان قوانین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟ اور پاکستان مےں بھی شہرےوں کی بہتر سکیورٹی کے لیے کےا انٹرنل سکیورٹی کے معاملات براہِ راست فوج کے ماتحت نہےں کئے جاسکتے؟۔

ٹیگز: