ابراہام ایکارڈز یقینا دنیا کے تین بڑے مذاہب اسلام ٗ مسیحت اور یہودیوں کے درمیان اُس متوقع معاہدے کا نام ہے جسے ابراہام ایکارڈز کا نام دیا گیا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ قطر ٗ متحدہ عرب امارات ٗ سوڈان اور مراکش نے تاحال اس معاہد ے سے اتفاق کیا ہے ۔ ابراہم معاہدہ حقیقت میں معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جو اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لایا۔ جس کی شروعات متحدہ عرب امارات اور بحرین سے ہوئی۔اگست اور ستمبر 2020 میں اس کا علان سامنے آیا جب کہ اس کیلئے کوششیں عرصہ دراز سے جاری تھیں۔ 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن ڈی سی میں اس پر دستخط ہوئے اور ان معاہدوں کی ثالثی ریاستہائے متحدہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے عہدِصدارت میں کی جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد کے مہینوں میں، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 ء تک غیر توثیق شدہ تھا۔ جولائی 2025 میں یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک بار پھر سرگرم ہے اور شام، لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدے کی توسیع شروع کر رہی ہے۔
1993ء اور 1995 ء میں اوسلو معاہدے کے ساتھ اسرائیل-فلسطینی امن عمل کو آگے بڑھایا گیا لیکن بعد میں دوسری انتفادہ کے آغاز اور پرعزم امن بروکر بل کلنٹن کی امریکی صدر کی مدت کے اختتام کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ اسرائیل نے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر میں اضافہ کیا اور 2005 ء میں غزہ سے دستبرداری اختیار کر لی۔ 2006 ء کے انتخابات میں غزہ میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل نے 2008 ء کے بعد سے مصر کی مدد سے غزہ کی ناکہ بندی کو سخت کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان 2010ء کی دہائی میں ایران اور اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مشترکہ خوف کی وجہ سے معاہدہ ہوا۔ 2017 ء تک سعودی عرب کے ساتھ غیر سرکاری تعاون کم از کم 5 سال سے جاری تھا جس میں دونوں ممالک کی انٹیلی جنس سروسز ایک دوسرے کی مدد کرتی تھیں اور حکام باقاعدگی سے انٹیلی جنس شیئر کرتے رہے۔ 2016 ء تک اعلیٰ سطح کے اسرائیلی-فلسطینی اور اسرائیلی-عرب سیاست دانوں کے درمیان سربراہی اجلاس اور کانفرنسیں اور ان کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروسز کے درمیان براہ راست رابطے نہ صرف معمول بن چکے تھے بلکہ بڑے عرب میڈیا میں کھل کر بحث کی جاتی تھی۔
یہ معاہدے 2010 ء کی دہائی کے دوران اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے غیر سرکاری تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے جو کہ ایران کے بارے میں مشترکہ خدشات کی وجہ سے تھا۔ اسرائیلی حکام کے خلیجی ریاستوں کے دوروں اور محدود فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کے آغاز کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوششیں 2018ء تک تیزی سے عام ہو گئی تھیں۔ 2020 ء کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا اور ٹرمپ کے امن منصوبے کی تجویز کے مطابق مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو الحاق کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو اُس وقت معطل کر دیا گیا۔ ان معاہدوں نے اقتصادی، سفارتی اور سکیورٹی کے تعاون کو باقاعدہ بنایا۔ مراکش کے معاملے میںمغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو امریکہ نے تسلیم کیا تو اُس وقت سب کچھ معمول پر آ گیا ۔ سوڈان کا نام دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے ہٹانا اور بین الاقوامی مالی امداد تک اُس کی رسائی کو بھی اس میں شامل کیا گیا ۔ اِن معاہدوں کو وسیع تقاریب میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر بڑے پیمانے پر فروغ دیا گیا۔عرب دنیا میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا جب کہ حکومتوں نے حمایت کا اظہار کیا ۔بہت سے ممالک میں رائے عامہ نے اسرائیل۔ فلسطینی تنازع کو حل کرنے میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے مخالفت کی لیکن اس کے باوجود، معاہدوں سے تجارت، دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلے میں نئے اقدامات شروع ہوئے اوریہی موقع تھا جب ’’ابراہم ایکارڈ‘‘ کا نام اسلام ٗ مسیحت اور یہودیوں کے مشترکہ مذہبی ورثے کے طور پر کھل کرسامنے آیا ۔
2018 ء میں عمانی وزیر خارجہ نے یروشلم کا دورہ کیا اور نیتن یاہو نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر اور موساد کے سربراہ کے ہمراہ اکتوبر میں عمان کا دورہ کیا تاکہ ’’مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے حصول کے حوالے سے مشترکہ دلچسپی کے متعدد امورکو آگے بڑھایا جا سکے۔‘‘ اکتوبر 2018 میں بھی اسرائیلی وزیر کھیل نے 2018 ء جوڈو گرینڈ سلم ابوظہبی میں شرکت کی۔ دو اسرائیلی جوڈوکا نے سونے کے تمغے جیتے اور ایوارڈ کی تقریبات کے دوران اسرائیل کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ یہ پہلی خلیجی ریاست کی تھی جس کے کھیلوں کے مقابلوں میں اسرائیلی ترانہ بجایا گیا جس کادوسرا مطلب یہ ہے کہ بہت کچھ طے ہو چکا تھا اور بہت کچھ طے ہونے کو تھا ۔۔19 اگست 2019 میں، اسرائیل کے وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امارات کے ساتھ فوجی تعاون کا اعلان کیا۔
اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ امریکہ ہو یا کوئی چھوٹی ریاست مذہب کے استعمال سے کسی کو بھی جز وقتی بیوقوف بنایا جا سکتا ہے ۔ فلسطین کے مظلوموں کے قتل عام کے بعد کیا اس طرح کے کسی معاہدے کی گنجائش موجود ہے ؟ اگر اسرائیل کو تسلیم کرانے کیلئے ’’ ابراہم ایکارڈز’’ ہو سکتے ہیں تو پھر جناب آدم علیہ سلام تو مذہبی عقیدوں کے مطابق ساری دنیا کے باپ ہیں تو کیوں نہ ’’ ایڈم ایکارڈز‘‘ کی بنیاد رکھ کر دنیا بھر کے انسانوں کو سکھ اور چین سے رہنے دیا جائے مگر ایسا کبھی نہیں ہو گا کیونکہ اس سے دنیا بھر کے انسان ایک ہی لڑی میں پروئے جا سکتے ہیں اورایسا دنیا کے سرمایہ داروں کو کسی صورت قابل ِ قبول نہیں ہے ۔ ’’ ابراہم ایکارڈز ‘‘ ایک وقتی دھوکا ہے ٗ ایک جال ہے اور پرانا شکاری نیا جال لے کر مسلم دنیا کے سامنے کھڑا ہے لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ جن جن ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا وہ آنے والے دنوں میں اس کی ذیلی ریاستیں بن کر رہیں گی ۔ امریکہ اور اسرائیل کی بربریت اور بڑھ جائے گی لیکن جناب ِ ابراہیم علیہ سلام کے نام پر کیا ہو ا معاہدہ ایک وقت کے بعد اپنا اثر کھو دے گا اور پیچھے رہ جائے گا ایک تسلیم شدہ اسرائیل ۔عربوں نے اڑنے کیلئے پرتول رکھے ہیں وہ میز کے نیچے سب کچھ کر رہے ہیں اب اگردنیا کو کسی سے امید ہے تو وہ صرف پاکستان اور ایران سے ہے اور ہمارے خطے کو اِن سرمائی بلائوں کے خلاف ایک مضبوط بلاک کی ضرورت ہے جو آنے والے دنوں میں دنیا کو امریکی اور اسرائیلی بالا دستی سے بچا سکتا ہے۔