جو پاکستان سٹاک ایکسچینج آج نئی بلندیاں چھو رہی ہے اورنئے سے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے ابھی کچھ ہی عرصہ قبل تک لوگ اسی کا نام سنتے ہی کہتے تھے کہ یہ تو صرف امیروں کا کھیل ہے، کچھ اسے جوا سمجھ کر حرام قرار دیتے تھے اور کچھ کا خیال تھا کہ یہ تو صرف بڑے بڑے سرمایہ کاروں کا کھیل ہے اس میں عام آدمی کی تو کوئی گنجائش ہی نہیںہے۔ قسمت کا چکر دیکھیں کہ آج جب چھوٹا اور درمیانہ سرمایہ کار بینکوں کے فکسڈ ڈپازٹس سے مایوس ہے، رئیل اسٹیٹ میں مندی کا شکار ہے یا کسی بھی اور چھوٹے کاروبار کے نقصانات سے گھبرا چکا ہے تو اسے سٹاک ایکسچینج ہی واحد آپشن نظر آنا شروع ہو گئی ہے چونکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج گزشتہ تین برس میں ساڑھے تین گنا بڑھ چکی ہے شائد اسی لیے بعض لوگ اسے پیسہ بنانے کی مشین بھی قرار دے رہے ہیں اور بات صرف ماضی اور حال کی نہیں بلکہ تجزیہ کار تو سال 2026 کو بھی پاکستان سٹاک ایکسچینج کے لیے بہترین قرار دے رہے ہیں۔
ہمارے ہاں برسوں سے یہی سوچ چلی آ رہی ہے کہ پیسے کو محفوظ رکھو، رسک مت لو، جو مل رہا ہے اسی پر گزارا کر لو۔ اسی لیے زیادہ تر لوگ بینکوں کا رخ کرتے رہے۔ فکسڈ ڈپازٹ، بچت کھاتہ، نیشنل سیونگز، یہ سب ہماری سرمایہ کاری کے لیے تحفظ کی علامت سمجھے جاتے تھے ۔ مگر وقت نے ہمیں سمجھایا کہ صرف تحفظ کافی نہیں، اگر پیسہ بڑھ نہ رہا تو در اصل وہ آہستہ آہستہ گھٹ رہا ہے۔ آج اگر ایک عام آدمی بینک میں پیسے رکھتا ہے تو اسے سال کے آخر میں جو نفع ملتا ہے، وہ کاغذ پر تو اچھا لگتا ہے، مگر جب وہ بازار جا کر دیکھتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ اس نفع کی کوئی خاص حیثیت نہیں رہی۔ اس کے علاوہ بجلی کے بل، گیس کے بل، بچوں کی فیس، دوائیوں کی قیمتیں، سب کچھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ بینک کا منافع ان کے سامنے بہت چھوٹا لگتا ہے۔
رئیل اسٹیٹ کا ذکر کریں تو اس کی کہانی بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ ایک وقت تھا جب پلاٹ خریدنا ایک محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری سمجھی جاتی تھی۔ لوگ کہتے تھے زمین کبھی نقصان نہیں دیتی۔ مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔ پلاٹ تو ہیں، مگر خریدار نہیں۔ قیمتیں ہیں، مگر لین دین نہیں۔ جو لوگ کئی سال پہلے امید کے ساتھ سرمایہ کاری کر بیٹھے تھے، وہ اب فائلیں اور الاٹمنٹ لیٹرز اٹھائے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ٹیکسز، قوانین، کاغذی پیچیدگیاں اور غیر یقینی صورتحال نے رئیل اسٹیٹ کو عام آدمی کی پہنچ سے بھی دور کر دیا ہے اور اس کے اعتماد سے بھی۔
سونا بھی کبھی ایک مضبوط سہارا سمجھا جاتا تھا۔ مائیں بیٹیوں کو کہتی تھیں کہ سونا بنوا لو، مشکل وقت میں کام آئے گا۔ مگر آج سونا بھی عام آدمی کے لیے ایک مشکل آپشن بنتا جا رہا ہے۔ قیمتیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ خریدنا مشکل ہے، اور اگر خرید بھی لیا جائے تو اس سے کوئی باقاعدہ آمدن نہیں ہوتی اور اس کی حفاظت کے مسائل علیحدہ سے ہیں۔ پھر قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ الگ۔ کبھی لگتا ہے بہت فائدہ ہو گیا، کبھی خوف آتا ہے کہ کہیں نقصان نہ ہو جائے۔
ایسے میں ایک عام پاکستانی کو صرف ایک ہی جگہ پرکشش نظر آتی ہے اور وہ ہے پاکستان سٹاک ایکسچینج۔ یہاں نمبرز اوپر جا رہے ہیں، خبریں مثبت آ رہی ہیں، اور لوگ پورے تحفظ کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری کو بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو کبھی اسٹاک مارکیٹ کا نام سن کر راستہ بدل لیتے تھے، آج یوٹیوب ویڈیوز دیکھ رہے ہیں، موبائل ایپس انسٹال کر رہے ہیں اور دوستوں سے پوچھ رہے ہیں کہ کون سا شیئر خریدا جائے۔ یہ سب کاروائیاں اپنی جگہ لیکن یہاں ایک سوال تو بنتا ہی ہے کہ آخر سٹاک مارکیٹ اتنا اوپر کیوںجا رہی ہے؟ کیا یہ صرف قسمت کا کھیل ہے یا اس کے پیچھے کوئی وجہ بھی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ کی حالیہ تیزی یکدم نہیں آئی۔ اس کے پیچھے کئی چھوٹی بڑی وجوہات ہیں۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں بتدریج کمی لائی گئی، کچھ بڑی کمپنیوں نے اچھا منافع کمایا، بینکوں نے بہتر نتائج دیے اور کچھ شعبوں میں کاروبار نے سنبھلنا شروع کیا۔ جب کمپنی کماتی ہے تو اس کا فائدہ شیئر ہولڈر کو بھی ہوتا ہے، اور یہی چیز شیئر کی قیمت کو اوپر لے جاتی ہے۔
ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ جب ملک میں سرمایہ کاری کے باقی راستے بند یا کمزور ہو جائیں تو پیسہ خود بخود وہاں چلا جاتا ہے جہاں حرکت نظر آئے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بارش کے بعد پانی نشیبی علاقوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان میں وہ نشیبی علاقہ سٹاک مارکیٹ بن چکا ہے۔ بڑے سرمایہ کار ہوں یا عام لوگ، سب نے کسی نہ کسی حد تک اسی طرف رخ کیا ہے، اور جب مانگ بڑھتی ہے تو قیمت بھی بڑھ ہی جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی سالوں تک پاکستان سٹاک ایکسچینج کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ سیاسی عدم استحکام، معاشی مسائل اور منفی خبروں نے مارکیٹ کو دبائے رکھا۔ اس دوران بہت سی اچھی کمپنیاں اپنی اصل قدر سے کم قیمت پر ٹریڈ ہوتی رہیں۔ اب جب حالات میں بہتری آئی تو مارکیٹ نے بھی اپناردعمل دیا ہے اور وہ خلا پر ہونا شروع ہو گیا ہے جو برسوں سے موجود تھا۔
یہاں یہ سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ سٹاک مارکیٹ کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ یہ نہ تو ہر کسی کو راتوں رات امیر بناتی ہے اور نہ ہی ہمیشہ اوپر ہی جاتی رہتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاست، عالمی حالات، حکومتی فیصلے اور افواہیں سب کچھ مارکیٹ پر اپنا اثر رکھتی ہیں، وہاں سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاو¿ ایک حقیقت ہے۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس شعبہ میں کتنی ترقی کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ سادہ الفاظ میں جواب یہ ہے کہ ابھی ترقی کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے، مگر وہ رفتار شاید برقرار نہ رہ سکے جو حالیہ دنوں میں دیکھی گئی ہے۔ جب مارکیٹ بہت تیزی سے اوپر جاتی ہے تو کچھ دیر بعد وہ سانس بھی لیتی ہے۔ کبھی رکتی ہے، کبھی تھوڑا نیچے آتی ہے، اور پھر آگے بڑھتی ہے۔ یہی اس کی بنیادی سائنس ہے۔
آنے والے وقت میں زیادہ امکان یہی ہے کہ ہر شیئر نہیں چمکے گا۔ اب وہ دور آ رہا ہے جہاں اچھی اور بری کمپنیوں میں فرق واضح ہوگا۔ جو لوگ صرف نام سن کر یا کسی دوست یا بروکرکے کہنے پر سرمایہ کاری کریں گے، وہ مشکل میں بھی پڑ سکتے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو صبر سے، سمجھداری سے اور تحقیق کے ساتھ قدم اٹھائیں گے، ان کے لیے بھرپور مواقع موجود رہیں گے۔
اس پوری صورتحال کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ عام لوگوں میں مالی شعور بڑھ رہا ہے۔ نوجوان اب صرف نوکری کے خواب نہیں دیکھ رہے بلکہ سرمایہ کاری کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ اگر یہ سوچ درست سمت میں پروان چڑھی، تو یہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ یقینا ایک مضبوط سٹاک مارکیٹ کسی بھی ملک کی معیشت کی طاقت کی علامت ہوتی ہے ۔لیکن شرط یہ ہے کہ یہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو۔