اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایران اور پاکستان کے مابین مشترکہ تہذیبی رشتوں کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنی سرحدیں معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے استعمال کرنی چاہئیں۔ایران کے قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پڑوسی برادر ملک ایران اور پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور اقدار ایک ہیں۔ انہوں نے لسانی بندھنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فارسی زبان کا اثر ہماری شناخت کا حصہ ہے، یہاں تک کہ پاکستان کے قومی ترانے کی بنیاد اور علامہ اقبالؒ کا کلام اسی مشترکہ لسانی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔
علاقائی سلامتی اور مذاکرات کا وژن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں"۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا سکتا ہے، اس لیے فریقین کو صبر و تحمل اور بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصولی موقف ہمیشہ سے امن اور مکالمہ رہا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل صدر زرداری نے دوطرفہ تعلقات کے نئے باب کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ مشترکہ سرحدوں پر تجارتی سرگرمیوں کو بڑھا کر ہم خطے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے سفارتی اور معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔