ویسے تو پاکستان میں سیاست دانوں نے آج سے نہیںبہت پہلے سے ایک پالیسی اپنا رکھی ہے جب بھی اپنی کارکردگی سوالیہ نشان بننے لگے تو وہ صرف مخالف سیاسی جماعت پر ہی نہیںبلکہ ملک کے اداروںپر تنقید شروع کردیتے ہیں ملکی تاریخ میںیہ بھی رقم ہے جب ایک نامور رہنمائَ نے کہا تھا ’’ہمیںنہ چھیڑو ورنہ ہم اینٹ سے اینٹ بجا دینگے‘‘ یہ بھی کہاگیاکہ سابقہ جنرل سے حساب کتاب شروع کیا جائے ‘‘ جوتحریک انصاف کو لائے انکا بھی حساب کیا جائے‘‘وغیرہ وغیرہ ، مگر کسی جماعت یا رہنماء نے ملکی سا لمیت کواپنے بیانئے کے ذریعے دائو پر نہیں لگایا،ذولفقار علی بھٹو ،بے نظیر بھٹو ،مرتضی بھٹو،کی شہادتوںکے باوجود بھی وہ شرمناک بیانیہ نہیںبنایا گیاجو تحریک انصاف یا اڈیالہ کے باسی نے بنایا اور ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کیا، کسی اور جماعت نے حزب اختلاف میںبیٹھ کو ملک کے دیوالیہ ہونے کا جھوٹا بیانیہ نہیںبنایا، کسی جماعت نے آئی ایم ایف کو خط نہیںلکھا کہ یہ ملک دیوالیہ ہوچلا ہے قرض واپس نہیںہوگا انہیںمزید قرض نہ دو حالانکہ جو قرض ملک پر انہوںنے اپنے دور حکومت میںچڑھایا وہ گزشتہ کئی حکومتوں سے زیادہ تھا ، کسی سیاسی جماعت نے وہ گندی زبان اپنے سیاسی حریفوںکے لئے استعمال نہیںکی جتنا پی ٹی آئی خاص طور اڈیالہ کے باسی نے استعمال کی، انکے نزدیک پی ٹی آئی کا اصلی دوست بانی کا اصل ہمدرد وہی ہوتا تھا جو جتنی زیادہ گندی زبان اپنے مخالفوں کیلئے استعمال کرتا تھا ۔ انکے دور حکومت میںانکے رہنماء فیاض حسین چوہان جب مخالفین کے خلاف نا زیباء زبان استعمال کرتے تھے تو انہیںدیکھ کر بانی کہاکرتے تھے ’’یہ دیکھومیرا شیر آگیا ‘‘جدہ میں پی ٹی آئی کے سابق اسپیکر قاسم سوری سے جب ایک علیحدہ ملاقات جو انہوںنے صحافیوںسے کی تھی جب انکی توجہ فیاض چوہان کی چرب زبانی کی دلائی گئی تھی تو انہوں نے اسے تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ خان کو وہ بہت پسند ہے انکا کہنا تھا تو ہم نے خان کی توجہ اس طرف دلائی تھی کہ یہ اچھی بات نہیںتو خان نے کہا تھا ایسے لوگ اچھے ہوتے ہیں۔ بانی کی مستقل عسکری اداروںپر تنقید اور یہاں تک کہ وہ جیل میں بیٹھ کر سپہ سالار کو خط لکھ کر مشورہ دیا کرتے تھے کہ ایسا کرو،ویسا کرو ، اسکا مطلب ہے کہ وہ جیل میںبیٹھ کر اپنے آپ کو وزیر اعظم سے کم تصور کرنے پر تیار نہیںتھے ، ان باتوںکے بعد اگر ISPRکے پریس کانفرنس میں انہیںذہنی مریض کہہ دیا گیا ہے تو برا ماننے کی بات نہیں،بلکہ فوری علاج کی ضرورت ہے، جب پی ٹی آئی کے بانی کی پالیسیوںکو گنڈا پور پایہ تکمیل نہ پہنچاسکے تو انہوںنے سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کرا دیا، ایسی پالیسیوںکو عملی جامعہ پہنانے کیلئے عوام کی حمائت درکار ہوتی ہے جو سٹریٹ پاور اب پی ٹی آئی کا حصہ نہیں رہی، دنگا پسند ،ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کا روکنا حکومت وقت اور سیکورٹی فورسز کا کام ہے اگر حکومت شرپسندی پر قابو پانے کیلئے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو ملک سے باہر اسرائیل، ہندوستان، امریکہ ،برطانیہ میں بیٹھا لاکھوں ڈالرز کے خرچ پر بیٹھا سوشل میڈیا اظہار آزادی کے نام پر واویلا مچانا شروع کر دیتا ہے، کیا کسی ملک میں یہ ہوتا ہے خاص طور پر کسی دشمن ملک کے چینلز پر بیٹھ کراپنے ملک کیخلاف اور اپنی افواج کے خلاف دشمن کے دیئے ہوئے سکرپٹ کے مطابق انٹرویو دیا جائے ؟؟؟؟اس جماعت کے شرپسند رہنما موقع غنیمت جانکر بہت پہلے ملک سے باہر بھاگ گئے تھے ،انہیںپاکستان میں گرفتاری کے وقت آتے جاتے منہ پھاڑ پھاڑکر ہانپتے کاپتے دنیا نے میڈیا پر دیکھا تھا ایک ہی آواز تھی ’’ہائے میں مرجائونگا‘‘آج اگر سوشل میڈیا پر دیکھوتوڈاکٹر شہباز گل امریکہ میںپاکستانی سفارت خانے کے سامنے پچاس آدمی جمع کرکے افواج پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیںاور ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ 9 مئی خود سپہ سالار عاصم منیر نے کرایا تھا، اس جماعت کا سوشل میڈیا جو باہر بھی ہے اور اندر بھی انکے خاتمے کا سبب ہو چلاہے ، اس سوشل میڈیا کو اس جماعت کا کوئی رہنما پسند نہیںکرتا یہ جھوٹ بولتاہے کہ انہیں نہیں پتہ کہ اس سوشل میڈیا زہریلے بیانات و پیغامات کون چلا رہا ہے یہ یقینا باہر بیٹھے لوگ ہیںوہ بیرون دنیا ہر جگہ موجود ہیں جہاں پابندیاںہیںاور فوری گرفتاری کا خدشہ ہے وہ ’’لبادہ‘‘ اوڑھے ہوئے ہیںکئی ملکوںمیںوہ پاکستانی سفارت کاروںکے دوست بھی ہیںدانستہ یا نا دانستہ انکی بیٹھک انکے ساتھ ہوتیںہیں،کپتان کا معروف نعرہ ’’گھبرانا نہیں‘‘شائد انہوںنے پی ٹی آئی کے مستقبل کا اندازہ کرتے ہوئے ایجاد کیا تھا ،اس وقت پی ٹی آئی کی باہر بیٹھی ہوئی قیادت اور عوام کے رابطے ختم ہوچکے ہیںجس میں قصور انکا خود کا ہے پشاور کے حالیہ جلسے کے بعد وہ امید بھی ختم ہوچکی ہے اسلئے نیا پاکستان بنانے والی تحریک نیا پاکستان سے تنزلی کی جانب سیڑھیاں اتر رہی ہے ، نیا پاکستان سے اب مختلف مراحل کے بعدوہ صرف کپتان سے اڈیالہ میں ملاقات تک مرکوز ہوگئی ہے عمران خان کے آفیشل X اکاؤنٹ سے ایک بیان سامنے آیا جس نے سب سے زیادہ تنازع پیدا کیا عمران خان نے آرمی چیف عاصم منیر کو ’’ذہنی طور پر غیر مستحکم شخص‘‘ (mentally unstable man) کہہ ڈالایہ جملہ ان کے اکاؤنٹ سے جاری ہوا، حالانکہ وہ جیل میں ہیں، لیکن ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹیم چلاتی ہے۔اس میں براہِ راست فوج اور آرمی چیف کی ذاتی کردار کشی
شامل تھی۔اس فیلڈ مارشل کی جس نے پاکستانیوں کا سردنیا بھر میں فخر سے بلندکیا، اپنے سے بڑی طاقت پاکستان کے ازلی دشمن کو چند دنوںمیں چنے چبوا دیئے اگریہ کہا جائے کہ بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ ترقی کی طرف گامزن معیشت کی مضبوطی کا سہرا بھی اب انکی مدبرانہ سوچ کا مظہر ہے کپتان اور انکے سوشل میڈیا کی زبان میں بلاآخر ISPR کو بات کرنا پڑی اسکا بھی ان پر اثر شائد نہ ہوا،کسی کو ’’کتا‘‘ کہنا شائد شدید لفظ ہے یہاں شائد اسلئے لکھ رہا ہوں کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جو کپتان کے نئے کھلاڑی ہیںوہ کہتے ہیںکہ ہم اپنے ماں باپ سے زیادہ کتے کا احترام کرتے ہیں ، اب اس جملے پر کوئی کیا کہے ؟؟سہیل آفریدی اب بانی پی ٹی آئی کے ٹائیگرہی نہیں بلکہ ایک حساس ترین صوبے کے سربراہ بھی ہیں۔ انہیں نئی سوچ، سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے تھا مگر توقع کے عین مطابق ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اس جماعت کو جس جگہ پہنچا دیا گیا ہے وہاں اس جماعت پر پاپندی کے حوالے سے کوئی رعائت ممکن نظر نہیںآتی، قائد کے اس ملک کو گزشتہ سالوںمیں جہاں پہنچا دیا گیا ہے اسکا سہراء اس جماعت کے سر جاتا ہے ،ملکی وقار کوبڑھانے میں محب وطن عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیںکہ حافظ عاصم منیر قدم بڑھائو ہم تمھارے ساتھ ہیں۔