Wed, September 16, 2026

امریکہ نے چین پر مجموعی طور پر 145 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

امریکہ نے چین پر مجموعی طور پر 145 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ چین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر امریکہ کا مجموعی ٹیرف 145 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ چینی مصنوعات پر ٹیرف کو 125 فیصد تک بڑھا رہے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ یہ اضافہ پہلے سے موجود 20 فیصد ٹیرف کے علاوہ ہے جو پہلے ہی چین پر عائد کیا جا چکا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، 125 فیصد کا نیا ٹیرف جوابی طور پر عائد کیا گیا ہے اور یہ 20 فیصد اضافی ٹیرف کے علاوہ ہے جو چین پر پہلے نافذ کیا گیا تھا۔ امریکی حکام نے وضاحت کی کہ ابتدائی 20 فیصد ٹیرف چین پر فینٹینیل کی اسمگلنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق، ان دونوں ٹیرف کو ملا کر مجموعی ٹیرف 145 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو بہت بلند سطح ہے اور اس کا اثر نہ صرف امریکی صارفین بلکہ چینی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے مزید یہ بھی اعلان کیا کہ تجارتی ٹیرف میں 90 دن کا وقفہ دیا جا رہا ہے، اور ساتھ ہی چین کے لیے ٹیرف میں اضافے کا بھی اعلان کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ کینیڈا اور میکسیکو پر عائد کیے گئے جوابی ٹیرف میں بھی 90 دن کا وقفہ کیا جا رہا ہے، جبکہ 10 فیصد بیس لائن ٹیرف بدستور برقرار رہے گا۔

ٹیگز: