بادشاہتوں کے زمانے میں جب بھی کسی بادشاہ کی حکومت کا تختہ الٹا جاتا تو نیا بادشاہ پرانے بادشاہ، اس کے بیٹوں، وزیروں اور مشیروں کے سر پہلی فرصت میں قلم کرا دیتا بلکہ اس قلم تراشی کے منصوبے کو پہلے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا تھا کہ پہلی رات کس کس سر کو قلم کیا جائیگا۔ اس سے کم تر سزا یہ ہوتی تھی کہ سزائے موت تو نہ دی جاتی البتہ آنکھیں نکلوا کر عمر بھر کیلئے زندان میں ڈال دیا جاتا تاکہ اپنی آنکھوں سے کچھ نہ دیکھ سکے۔ کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈلوا دیا جاتا کہ پہرے داروں سے سازباز کرکے باہر کی خبریں بھی حاصل نہ کر سکے اور اپنے کانوں سے کچھ نہ سن سکے۔ بادشاہ کا تختہ الٹنے میں بادشاہ کا کوئی نہ کوئی بیٹا، کوئی ملکہ اور اس کے ساتھ کم از کم ہزار سپاہیوں کے دستے کا سالار ضرور شامل ہوتا تھا۔ بعض اوقات بادشاہ کی وفادار سپاہ ڈٹ کر مقابلہ کرتیں، بغاوت اور حکومت و بادشاہت پر قبضے کی کوششیں ناکام بنا دی جاتیں، معاملہ مکمل الٹ جاتا اور باغیوں کے سر قلم کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ اس میں تمیز نہ کی جاتی کہ باغیوں میں بادشاہ کا بیٹا ملوث تھا یا ملکہ کی کسی سردار کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ ہو چکی تھی، سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے۔ ہمارے یہاں سستے اور فوری انصاف کا تصور شاید زمانہ بادشاہت سے لیا گیا ہے اور اب دنیا میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اس پر عمل کیا جا رہا ہے، اب سر قلم نہیں کئے جاتے، نہایت اعتماد سے عدم اعتماد لایا جاتا ہے، نئی کابینہ بنائی جاتی ہے۔ پرانے وزیر، مشیر، بیوروکریٹ ’’ٹکے ٹوکری‘‘ ہو جاتے ہیں، انہیں اس زمانے کے ’’کالے پانی‘‘ میں پوسٹ کر دیا جاتا ہے جہاں وہ نئی حکومت آنے تک زندگی کے ایام گن گن کر گزارتے ہیں۔ جہاں جمہوریت ہے وہاں یہ تبدیلیاں الیکشن کے بعد آتی ہیں۔ نیا صدر یا وزیراعظم وہی کچھ کرتا ہے جو بادشاہ کیا کرتے تھے لیکن ذرا مختلف سٹائل میں، امریکی صدر آج کل یہی کچھ کر رہے ہیں، پرانے سر قلم کر رہے ہیں، ناپسندیدہ شخصیات کو ’’کالے پانی‘‘ بھیج رہے ہیں، ان کے ہاتھوں، تازہ ترین تراشیدہ سر نیٹو کے ہیڈ کوارٹر برسلز میں تعینات امریکی بحریہ کے وائس ایڈمرل شوشا نا چیٹ فیلڈ کا ہے جنہیں ٹرمپ نے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اس عہدیدار کو ہٹانے سے امریکہ کے قریباً اسی برس پرانے نیٹو اتحاد میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ٹرمپ سے ایسے مزید فیصلوں کی توقع کی جارہی ہے۔ ٹرمپ کے اس قسم کے
فیصلوں سے امریکہ اور برطانیہ کی طرح بعض یورپی ممالک میں اس قسم کے اہم عہدیداروں کو وہ یوں بیک جنبش قلم عہدوں سے ہٹانے کے بعد تاثر قوی تر ہو گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں نے کافی زیادہ مقدار میں ستوپی رکھے ہیں ان میں جان نہیں ہوتی ورنہ کوئی ردعمل کہیں نظر آتا۔
ٹرمپ کے فیصلوں سے ان کی کابینہ میں بے زاری بڑھنے لگی ہے اور یہ سوچ آگے بڑھی ہے کہ ان کے فیصلوں سے امریکہ میں بہتری آنے کے بجائے تباہی آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ٹیرف وار شروع کرنے کے بعد بعض ملکوں پر ٹیرف بڑھانے کے بعد انہیں نوے روز تک اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے تاکہ پرانی تاریخوں میں کئے گئے معاہدے اپنے انجام کو پہنچ سکیں لیکن اس رعایت کے اعلان سے قبل جاری مہینے کے دو دن امریکی تاریخ میں کاروباری اداروں اور بعض شخصیات کیلئے تاریک ترین دن تھے۔ ان دو دنوں میں امیروں کی جیبوں سے 1504کھرب روپے نکل گئے، ٹرمپ کے فیصلوں سے ان کے ارب پتی دوست بھی بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں ایلون مسک اور آئی ٹی کمپنیوں کے دیگر مالکان شامل ہیں۔ آج وہ سوچتے ہوں گے ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسمان کیوں ہو۔ کبھی یہ سب ٹرمپ دوستی پر فخر کیا کرتے تھے۔ آج پچھتا رہے ہیں۔ جن کا خیال تھا وہ ٹرمپ دوستی میں خوب مال بنائیں گے ان کے خواب ایک چھپاکے سے ٹوٹے ہیں۔
ایلون مسک کے 87کھرب، ذکر برگ کے 76کھرب، برناڈ آرنو کے 31کھرب اور وارن نٹ کے 7کھرب ڈوب چکے ہیں۔ یہ سب حالت سوگ میں ہیں۔ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں یہ سب چہرے پہلی قطار میں کھڑے نظر آئے سب کے خوشی دیدنی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ خود امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ جاری مہینے میں ٹرمپ کے کھرب پتی دوستوں کے معاشی مقدر کا فیصلہ ہو جائیگا۔ وہ سب ملکر ٹرمپ سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ کوئی ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں یا نہیں، امریکہ کا ہر کاروباری شخص اس ملاقات اور اس سے نکلنے والے نتیجے کا منتظر ہے۔ قریباً ساٹھ سے ستر ارب پتیوں کی کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔
ٹرمپ ٹیرف نے دنیا بھر کی اقتصادیات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ٹی وی رپورٹر نے ایک سینئر اقتصادی مشیر سے پوچھا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف روکنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے گی تو اقتصادی مشیر کیوین ہیسٹ نے جو جواب دیا اس سے مایوسی سی نظر آئی۔ انہوں نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا اس کا فیصلہ صدر ہی کریں گے۔ وائٹ ہائوس سے جاری ہونے والے اس کے بیان کے بعد امریکی مارکیٹ زمین بوس ہو گئی۔ نئے ٹیرف کے اعلان کے اثرات ایشیا میں بھی نظر آ رہے ہیں، محصولات میں اضافے کے اعلان کے بعد چار دنوں میں بھارتی سرمایہ کاروں نے 10355کروڑ بھارتی روپے ایکویٹی مارکیٹوں سے نکال لئے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی رحجان ہے۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 3882پوائنٹس کی کمی آئی ہے جس کا مطلب ہزاروں ارب روپے ہے۔ چین خطے کی بڑی طاقت اور سب سے بڑی اکانومی ہے جس پر ٹرمپ نے 34فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا ہے جس سے ٹیرف مجموعی طور پر 54فیصد ہو گیا ہے۔ ٹرمپ چین کے ساتھ 295ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ کم ہونے تک اس ٹیرف میں کمی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کی سوچ ہے چین نے امریکہ سے دنیا میں سب سے زیادہ ناجائز فائدہ اٹھایا ہے لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں جب امریکی کاروباری کمپنیاں اور شخصیات کنزیومر گڈز امریکہ میں تیار کرنا بند کرکے چین سے سب کچھ دھڑا دھڑ درآمد کر رہی تھیں تو ذمہ دار حکام کیوں سوئے رہے۔ آج چین صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کو سستا مال سپلائی کرکے ان کی مارکیٹوں پر قبضہ کر چکا ہے۔ عام آدمی کو ضروریات کی چینی چیزیں سستے داموں مل رہی ہیں۔ وہ انہیں چھوڑ کر مہنگی چیزیں خریدنے پر مائل نہیں ہوں گے۔ یوں امریکی اور یورپی سول سوسائٹی میں بے چینی پر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ کچھ عجب ہے امریکی سیاسی تاریخ میں دھوم دھڑکے سے آئے ہوئے صدر پر تحریک عدم آئے اور کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔
امریکی اقتصادیات کا ایک بڑا ستون اس کے اسلحہ تیار کرنے کے کارخانے ہیں، ان کے پاس اب آرڈر کم ہو گئے ہیں۔ دنیا جنگ کی تباہ کاریوں سے خوف زدہ ہے کوئی ملک خوشی سے جنگ نہیں لڑنا چاہتا، اسلحہ سازی میں دنیا اب امریکی اسلحے پر انحصار کم کر رہی ہے۔ اس کے پاس چین کے جہاز، ٹینک، میزائل، روس کا الیکٹرونکس کا نظام جہازوں کے انجن ڈرون فرانس کی آبدوزیں نسبتاً کم رقم میں خریدنے کا آپشن موجود ہے جو کم وقت میں سامان دہلیز پر پہنچا دیتے ہیں۔ چین میں یہ انڈسٹری تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔ قرائن سے یہی پتہ چلتا ہے ٹیرف وار امریکہ اور یورپ کو کھوکھلا کر دے گی۔ چین کو تباہ کرنے کا امریکی خواب پورا نہ ہو سکے گا یاجوج ماجوج امریکہ کو چاٹ چاٹ کر ختم کر دیں گے، آج کریں یا آنے والے دس برس میں کریں نوشتہ دیوار یہی ہے۔