Wed, September 16, 2026

پاکستان،بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری اور میڈ ان پاکستان نمائش

 پاکستان،بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری اور میڈ ان پاکستان نمائش

پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین سیاسی، سفارتی اور تجارتی تعلقات میں بہتری دونوں ممالک کی معیشت کیلئے خوشگوار اثرات مرتب کر رہی ہے۔ بھارت کے دائرے میں قیدسابق وزیراعظم حسینہ واجد کے تسلط سے بنگلہ دیش کو دوبارہ آزاد کرانے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام پھر سے قریب آرہے ہیں۔دونوں اسلامی ممالک، جو کبھی ایک تھے،اور دونوں کے دکھ سکھ بھی مشترک تھے، کے درمیان پرانے برادرانہ تعلقات بحال کرنے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں نتیجہ خیز تعاون بڑھانے کی کافی حد تک نئی راہیں کھول دی ہیں جن پر چل کروہ قومی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کر کے اپنا مستقبل تا بناک بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ نئے سفر کا آغاز ہے مگر منزل تک پہنچنے کیلئے پہلا قدم ہی کامیابی کی اصل راہ دکھاتا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،وزیرتجارت جام کمال اور دیگر سیاسی شخصیات کے دورہ بنگلہ دیش کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں جبکہ پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اوربانی چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف ایگزی بیشن انڈسٹری(PAEI) محمدخورشید برلاس اورنائب صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری،چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف ایگزی بیشن انڈسٹری فہد برلاس پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوطی کی جانب گامزن باہمی تعلقات کو مزید مضبوط تر بنانے کیلئے پیش قدمی کرچکے ہیں۔خورشید برلاس اور فہد برلاس نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے انٹرنیشنل کنونشن سٹی بشندھارا(ICCB) میں پاکستان بنگلہ دیش بزنس اپرچونٹیز کانفرنس اور چار روزہ "میڈ ان پاکستان "نمائش کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔یہ نمائش 23ستمبر سے26ستمبر تک منعقد ہوگی جبکہ کانفرنس23ستمبر کو ہوگی۔اس نمائش وکانفرنس کیلئے خورشید برلاس اور انکے صاحبزادے فہد برلاس نے اپنی مستند ٹیم کے ساتھ کئی ماہ کی جدوجہد کے بعد ایک مضبوط تجارتی قافلہ تیار کیا ہے۔ میری حالیہ دورہ راولپنڈی میں خورشید برلاس سے ملاقات ہوئی جس میں انکاکہنا تھا کہ بنگلہ دیش ہمارے لیے پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے اور اب ہمارے مراسم گہرے ہو جائیں گے، ہمارا 200 افراد پر مشتمل وفد بنگلہ دیش کے دورے پر ماہ ستمبر میں جارہا ہے اور ہم وہاں میڈ ان پاکستان نمائش اور بزنس کانفرنس کا انعقاد کریں گے ، ہمارے سرکاری اور نجی وفودبھی بنگلہ دیش گئے ہیں اور ہم بھی ایگزیبیشن کرنے جا رہے ہیں، بنگلہ دیش کے عوام ہمیں بڑا بھائی کہتے ہیں تو ہمیں بھی بھائیوں کی طرح چلنا ہے، دونوں ملکوں میں روابط مضبوط ہوں گے،ہم بڑے برانڈ لے کرجا رہے ہیں، ہمیں سارک ریجن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہماری معیشت مضبوط ہورہی ہے اور ایک نیا پاکستان ملنے والا ہے، اب ترقی کی منازل کی طرف چلیں گے،ہم سرمایہ کاری پر بھی کانفرنس کریں گے، تمام وزارتوں کے نمائندوں کو بھی بنگلہ دیش میں ساتھ لے کر جائیں گے، تاکہ بزنس مینوں کو اعتماد ملے۔ خیر یہ باتیں تو پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر کی اہم شخصیت کی تھی لیکن پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحٰق ڈارنے اپنے حالیہْ دورہ بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس، مشیر خارجہ محمد توحید حسین،وزیر تجارت ایس کے بشیر الدین اور دیگرسرکاری حکام سے ملاقاتیںکیںاوریہ بات چیت دونوں ملکوں کے مفادمیں باہمی تعاون کے6معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کی صورت میں سامنے آئی ہیں جن پر عملدر آمد سے مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ چل کر وہ مزید کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ غیر سرکاری سطح پر اسحاق ڈار کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ملاقاتیں بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔بیگم خالدہ ضیا پاکستان کے ساتھ ہمیشہ سے ہی مثبت تعلقات کی حامی رہی ہیں،سال2003ئمیں جب میں سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اجلاس میں معروف بزنس لیڈرطارق سعید اور سارک چیمبر کے نائب صدر جمیل محبوب مگوں ودیگر کاروباری شخصیات کے ہمراہ بنگلہ دیش گیا تو وہاں میری بیگم خالدہ ضیاء (اس وقت کی وزیر اعظم بنگلہ دیش)سے غیررسمی ملاقات ہوئی تھی،بیگم خالدہ ضیا کا ہم ارے ساتھ شفقت آمیز رویہ انکی پاکستان سے محبت کی یاد دلاتا ہے۔نائب وزیراعظم وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بھی دورہ بنگلہ دیش کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے، بیگم خالدہ ضیا کی طویل عرصے سے علیل ہیں۔ اسحاق ڈار کا یہ دورہ 13 سال کے طویل عرصہ کے بعد کسی پاکستانی حکومتی شخصیت کا پہلا دورہ تھا جس میں تجارتی و اقتصادی تعاون بڑھانے، تعلیمی اور ثقافتی وفود کے تبادلے اور علاقائی و بین الاقوامی معاملات میں ہم آہنگی پر بھی غور کیا گیا۔ یہ عہد کیا گیاکہ پیچھے دیکھنے کی بجائے آگے بڑھناچاہئے۔ جن معاہدوں اور مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کئے گئے ان میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم کو متحرک کرنا بھی شامل ہے۔ دونوں ملکوں میں جہاز رانی اور فضائی سروس جلد بحال کرنے پر اتفاق ہوا۔ یہ بھی طے پایا کہ سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کیلئے ویزا کی شرط ختم کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان طلبا کیلئے نالج کو ریڈور شروع کرنے فیصلہ کیا گیا۔ اسی حوالے سے پاکستان بنگلہ دیشی طلبا کیلئے 5 سال میں پانچ سو سکالر شپ جاری کرے گا۔ ان میں سے ایک چوتھائی سکالر شپ طب کے شعبے کیلئے مخصوص ہوں گے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ممالک برآمدات کے لیے زیادہ تر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعات کی تنوع پر زور دینا ضروری ہے، یورپ، کینیڈا اور امریکا میں پرانے کپڑوں کے دوبارہ استعمال کی مانگ بڑھ رہی ہے، جسے دونوں ممالک کے کاروباری افراد مل کر بڑے پیمانے پر برآمدات کے ذریعے پورا کر سکتے ہیں، دونوں ممالک افریقہ، مشرقی افریقہ اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمدات بڑھانے کے لیے وسیع مواقع رکھتے ہیں، پاکستان اور بنگلہ دیش کے پاس بڑے صارفین کی مارکیٹ موجود ہے جو ابھی پوری طرح استعمال نہیں کی گئی، پاکستان سیمنٹ، چینی، جوتے اور چمڑے کی مصنوعات کی تیاری میں نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے، اور بنگلہ دیش ان مصنوعات کی درآمد پر غور کر سکتا ہے، اگر دونوں ممالک زرعی شعبے میں نئی ٹیکنالوجی اپنائیں اور ویلیو ایڈیشن بڑھائیں تو اربوں ڈالر کی عالمی مارکیٹ میں حصہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام اور بنگلہ دیشی عوام میں برادرانہ جذبات ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ روایات، اسلامی ورثے، سماجی اقدار کی بنیادوں پر استوار ہیں۔کچھ برسوں کیلئے بھارت نے حسینہ واجد کے ذریعہ بنگلہ اور پاکستان کے مضبوط رشتے میں دراڑ ڈالی تھی لیکن بنگلہ دیش کی عوم نے بھارتی نواز حسینہ واجد کو اتدار سے محروم کرکے بھارت کو شکست دی اور اس کے بعد سے بھارت مسلسل شکست کا مزہ چکھ رہا ہے۔

ٹیگز: