سیلاب تباہی مچا رہا ہے۔ دریائے ستلج، دریائے راوی اور دریائے چناب بپھرے ہوئے ہیں۔ طغیانی میں ہیں، سروریدگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ فضائی و ہوائی گرمائو نے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پہاڑوں سے بہنے والے پانی کی مقدار میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ دریا بپھرے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آسمان سے بدلنے والے پانی کی مقدار بھی انتہائی حد تک بڑھ گئی ہے۔ بارشوں کا دورانیہ بھی طویل ہو گیا ہے۔ بادلوں کے پھٹنے کا عمل بھی ساری صورتحال کی شدت اور تباہی میں اضافہ کر رہا ہے۔ سب سے بلندی پر تو پہاڑ ہیں۔ گلیشیئرز ہیں، ان کے بعد چین آتا ہے پھر نچلی بلندی پر بھارت آتا ہے۔ گلیشیئرز سے پگھلنے والا پانی پہلے چینی سرزمین میں داخل ہوتا ہے، اس کے بعد یہ پانی بہتا ہوا بھارتی سرحدات میں داخل ہوتا ہے، اس کے بعد کیونکہ نیچے پاکستان آتا ہے، اس لیے یہ پانی بھارت سے گزرتا ہوا پاکستان میں آتا ہے اور یہاں سے گزر کر سندھ کراس کر کے بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے۔ پاکستان کیونکہ اس آبی سلسلے کے آخری نچلی جگہ پر واقع ہے، اس لئے پہاڑوں پر جو میکنزم ترتیب پاتا ہے جو سلسلہ ترتیب پاتا ہے جو بھی موسمیاتی معاملہ ترتیب پاتا ہے، اس کے اثرات چین اور بھارت سے ہوتے ہوئے پاکستان تک پہنچتے ہیں اور پھر سمندر میں جا کر ضم ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اس وقت فضائی و ہوائی گرمائو کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی ہی نہیں بلکہ خوفناک اثرات کا شکار ہے۔ بھادوں ختم ہونے کے قریب ہے لیکن بارش ساون کی طرح برس رہی ہیں اور بڑے زور و شور سے جاری ہیں۔ پاکستان تباہی کا شکار ہے۔ بے مثال بربادی، بے مثال بارشیں جاری ہے۔ بارشوں کا دسواں سلسلہ جاری ہے۔ ہم سمجھے بیٹھے تھے کہ سیل بے پناہ پنجاب سے گزر کر وسطی پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ میں داخل ہوا چاہتا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ بھارت نے ایک بار پھر پانی چھوڑنے کی اطلاع دے کر ہمیں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پنجاب ایک بار پھر سیل بے پاہ کی زد میں ہے۔ بارشیں بھی ہو رہی ہیں، ہر شئے ڈوب گئی ہے۔ سیلاب سندھ میں داخل ہوا ہی چاہتا ہے۔
پنجاب میں زرعی معیشت تباہی سے ہمکنار ہو چکی ہے۔ اجناس و دیگر اشیاء کی قلت ہو چکی ہے۔ مارکیٹ میکانزم اگر کہیں تھا تو وہ بھی سیلاب برد ہو چکا ہے۔ اشیاء خورونوش کی قیمتوں پر سیلاب کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ قلت تو شاید ابھی فوری طور پر نہ ہو لیکن طلب و رسد کے آفاقی
قانون کے مطابق قیمتوں کا بڑھنا ایک فطری عمل ہے۔ سیلاب کی تباہی اسی طرح بے مثال ہے جس طرح جاری سیلاب بذات خود، مہنگائی تو ہو گی۔ ہمارا حکومتی ڈھانچہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ بے مثال تباہی کے بعد بحالی کے عمل کو کامیاب بنا سکے۔ اس دفعہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی مدد کرنے کا نمایاں عندیہ موجود نہیں ہے، اس لیے مسائل نمایاں ہوں گے، عمومی بے چینی میں اضافہ ہو گا۔ غربت میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ خط غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو گا۔ شہباز شریف حکومت نے معاشی معاملات کو ٹریک پر چڑھانے کی جو کاوشیں کی ہیں ایسے لگتا ہے کہ سیلاب انہیں کہیں بہا کر نہ لے گیا ہو۔ ابھی سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، معلوم نہیں کیا کیا بہہ چکا ہے اور ابھی یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کیا کیا ابھی بہہ رہا ہے، برباد ہو رہا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ معاملات گمبھیر ہو رہے ہیں، معاشی بدحالی آنے کو ہے۔ اشیاء خورونوش کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔ ہمارے ادارے، پالیسی ساز ابھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ سیلاب کے بعد کے معاملات شاید ابھی ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں شاید ان کی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ آنے والے حالات کا ادراک کر سکیں۔ عوام کی مشکلات کا احساس کر سکیں۔ پلاننگ تو دور کی بات ہے، پہلے ادراک ہو گا تو آگے کچھ سوچیں گے۔
بہرحال اجناس، اشیاء خورونوش کا بحران پیدا ہونے چلا ہے۔ ابھی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، کچھ عرصے کے بعد قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ 100روپے فی کلو ملنے والی شملہ مرچ تین سو روپے کلو ہو چکی ہے۔ آلو 200 روپے کلو ہو چکے ہیں۔ ٹماٹر ملنا بند ہو گئے ہیں۔ آٹا شاید 25 روپے کلو زائد قیمت پر بک رہا ہے، ایس ہی کچھ حال دیگر اشیاء خورونوش کا ہے۔ حکومت نے اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو جو بحران پیدا ہو گا وہ حکومت کے لئے بھی اور عوام کے لئے بھی ناقابل تلافی ثابت ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آگے کا بھی سوچیں۔ آنے والے دنوں میں جو مہنگائی اور اشیاء کی قلت کا طوفان آنے والا ہے، اس کی خبر لیں۔ منصوبہ سازی کریں۔
تجویز ہے کہ حکومت معاملات کو بگڑنے سے پہلے قابو میں رکھنے کے لئے اشیاء خورونوش کی درآمدات کا فیصلہ کرے۔ گندم، چینی، دالیں، سبزیاں اور جانوروں کے چارے کی وافر مقدار درآمد کرے۔ یہ سب کچھ نہ صرف منظم انداز میں ہونا چاہئے بلکہ اس عمل میں مکمل شفافیت کا بھی اہتمام ہونا چاہئے۔ منافع خور مافیا کے لوگوں کواس عمل سے مکمل طور پر دور رکھا جانا چاہئے، وگرنہ عامۃ الناس کو سہولت اور آسانی نہیں مل سکے گی۔ یہ کام غیر روایتی طور پر اور خالصتاً عامۃ الناس کی بھلائی اور انہیں سہولت مہیا کرنے کے لئے ترتیب دیا جانا چاہئے۔ حکومت قواعد و ضوابط کو بھول کر ایسے صاحب ثروت افراد کی حوصلہ افزائی کرے جو یہ کام اللہ و رسولﷺ کی خاطر کرنے پر آمادہ ہوں۔ ہمارا معاشرہ ابھی تک خیر پر ہے، ایسے افراد کی کثرت ہے جو ذاتی منفعت سے بالاتر ہو کر لوگوں کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں اور کچھ کرنے پر آمادہ بھی ہیں۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی صف اول میں نظر آتی ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس ملک کے ہر کونے میں رضاکاروں/ کارکنان کی منظم ٹیمیں بھی موجود ہیں۔ امانت و دیانت کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں پر بھی اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ قوم انہیں ووٹ تو نہیں دیتی ہے لیکن فلاحی و رفاحی کاموں کے حوالے سے ان کا کوئی بھی مدمقابل نہیں ہے، اس لئے انہیں پہلے مرحلے پر فعال کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ اخوت، چودھری سرور فائونڈیشن اور ایسے ہی دیگر کئی ادارے بھی موجود ہیں جو اس کارخیر میں شریک کیے جا سکتے ہیں۔ سوال صرف حکومتی آمادگی کا ہے۔ حکومت بذات خود مارکیٹ میکانزم پر نہ تو اثرانداز ہو سکتی ہے اور نہ ہی اسے ریگولیٹ کر سکتی ہے۔ مافیاز کے ہاتھوں کھیلنے سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ غیر روایتی انداز اختیار کیا جائے۔ حالیہ افتاد، ناگہانی بھی ہے اور بے مثال بھی۔ اس کا مقابلہ کرنا تو شاید ہمارے بس میں نہیں ہے لیکن ہم اس کے نقصانات اور بربادیوں سے نمٹنے کی کاوشیں تو کر سکتے ہیں۔ لاکھوں انسان جو بے گھر ہو چکے ہیں، جن کی املاک، کھڑی فصلیں اور ہر شے سیلاب بُرد ہو چکی ہے، انہیں دوبارہ بسانے، انہیں پائوں پر کھڑا کرنے اور واپس عمومی زندگی کی طرف لوٹانے کی کاوشیں تو کر سکتے ہیں۔ فصلوں کے سیلاب بُرد ہونے کے باعث اشیاء خورونوش کی پیدا ہونے والی قلت کا تو بندوبست کر سکتے ہیں، اس کے لئے منصوبہ سازی تو کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے پیش آئند حالات کی منصوبہ بندی نہ کی تو سیلاب کی آفت کے بعد قلت اشیاء خورونوش کا طوفان آ جائے گا، جس کا مقابلہ کرنا شاید ہمارے بس میں نہ ہو۔ مصیبت آنے سے پہلے ہی اس سے نمٹنے کی منصوبہ سازی میں ہی بھلائی ہے۔