Wed, September 16, 2026

کمرشل پیار محبت

کمرشل پیار محبت

کمرشل پیار محبت پر شوبز کی پوری انڈسٹری کھڑی ہے۔ پوری دنیا میں حاضر و موجود سے بیزار کر دینے والی محبت کی مثالیں ویسے تو کم ہی ملیں گی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ساری زندگی اس کا پرچار کرنے والے ستارے، گیت لکھنے والے، گانے والے اور فلموں ڈراموں کی صورت میں پیش کرنے والے خود ایسے کسی نظریے سے واقف نہیں ہوتے۔ بیس تیس سال عشق کے روایتی تصور کو اپنے فن کی مدد سے پیش کرنے والوں کی ذاتی زندگی میں دور دور تک عشق کی کوئی مثال دیکھنے کو نہیں ملتی۔ فلموں، ڈراموں میں غریب آدمی سے پیار کرنے والی کروڑ پتی باپ کی بیٹی اور غریب لڑکی سے پیار کرنے والا امیر باپ کا بیٹا حقیقی زندگی میں ایسے کسی عمل سے واقف نہیں ہوتا جس سے کوئی فلمی یا ڈرامائی مثال پیش کی جا سکے۔ اپنے ماں باپ کی اربوں روپے کی جائیداد کو لات مار کر غریب شخص سے محبت کا انتخاب کرنے والے ہیرو ہیروئن حقیقی زندگی میں کبھی ایسی غلطی نہیں کرتے۔ آپ تمام عمر رومانوی کردار ادا کرنے والے اداکاروں کو جب عملی زندگی میں دیکھیں گے تو انتہائی چالاک اور ریشنل پائیں گے۔ صوفیانہ کلام کے ایکسپرٹ گلو کاروں کے پروٹوکول سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انھیں درویشی نے کس حد تک متاثر کیا ہے۔بازاری غزلوں میں سپر مین کی طرح محبت کی حفاظت کرنے والے شاعروں کی عملی زندگی میں آپ کو محبت حرفِ غلط کی مانند نظر آئے گی۔ آپ انھیں رہن سہن سے لے کر شادی بیاہ، دوستی یاری اور میل جول میں بڑا پریکٹیکل انسان پائیں گے۔ ایک اداکارہ قریب المرگ ارب پتی شخص سے ہنسی خوشی شادی کر رہی ہو گی۔ اداکار کسی بڑے بزنس مین یا طاقت ور شخص کی بیٹی سے شادی کرتے ہوئے محبت یا عشق نامی کسی لفظ سے واقف نظر نہیں آئے گا۔ یا پھر یہ والا عشق حساب کتاب لگانے کے بعد جاگنا شروع ہو گا۔ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ لوگ فلمی انداز میں زندگی گزاریں اور ڈرامائی کردار حقیقی زندگی میں بھی ضرور نبھائیں۔ لیکن ہم یہ ضرور سوچتے ہیں کہ سارے کیریئر میں ایک مخصوص انداز کے نظریے اور تصور کو پیش کرنے والے لوگوں کی زندگی میں خود اس تصور کی رمق تک نہیں دیکھی جا سکتی جس کو وہ پوری دنیا کے سامنے بار بار نت نئے انداز سے پیش کرتے ہیں۔ 
یہاں یہ معجزہ ضرور دیکھنے کو ملتا ہے کہ امیری غریبی کے فرق کو تو چوں کہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن عمر کے ہر فرق کو پاؤں تلے روند کر یہ دل والے زندگی کی آخری انگڑائیاں لینے والے نوابوں سے شادی کر لیتے ہیں۔ بلکہ ایسے رشتوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو دنیا میں چند دنوں کے مہمان تصور کیے جا رہے ہوں۔ بات صرف عمر تک نہیں رکتی۔ بعض خوبصورت خواتین نظر بٹو ڈھونڈ کر شادی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ حسن کا کمرشل تعارف پیش کرنے والے شوبز کے لوگ خود اس کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ کاسمیٹکس سے لے کر طب کی بہت سی شاخیں تک حسن کے اسی تصور کی نشو نما کے لیے وقف ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کاروبار کا انحصار حسن کے ایسے ہی کرشماتی تعارف سے جڑا نظر آتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اکثر سٹارز واجبی شکل و صورت کے رفیقِ حیات کو بخوشی قبول کر لیتے ہیں بس شرط وہی ایک۔۔۔۔
کمرشل پیار محبت کے گرد بڑی بڑی پروڈکشن کمپنیوں اور زندگی کی دوسری جہات سے جڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کاروبار گھوم رہے ہیں۔ ان میں عقل کی مخالفت، عزت کی پامالی، چھچھور پن اور سماجی اقدار کو روندنے والے رویے تشکیل پاتے ہیں۔ جذباتیت سے جنونیت کو فروغ دینے اور تمام عمر بے مقصد اور غیر سنجیدہ اہداف کے حصول کے لیے گزارنے والے افراد پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
 یہاں وہ ماڈلز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے قابل افراد بھی یاد آتے ہیں جو خود ان چیزوں کا استعمال نہیں کرتے جنھیں وہ دوسروں کے لیے صبح شام پوری توانائی اور توجہ سے پیش کرتے ہیں۔ ہمیں ان واعظین کا خیال بھی مسکرانے پر مجبور کرتا ہے جو تمام عمر سادگی، جفا کشی اور صبر کا درس دیتے ہیں اور خود بغیر کسی ذریعہ آمدن کے کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور محلات میں بستے ہیں۔ وہ سمجھدار ڈاکٹرز جو اشتہارات میں یا پریکٹس کے دوران جتنی پراڈکٹس دوسروں کو تجویز کرتے ہیں خود کبھی ان کا استعمال نہیں کرتے۔
یہ تمام افراد چالاک ضرور ہوتے ہیں اور کاروبار کے نفسیاتی حربوں کو سمجھتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ عوام کے ذہن پر کیسے یلغار کی جا سکتی ہے۔ حیرت ہے کہ کس قدر کھوکھلے پن کے ساتھ آج بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ منڈیاتی محبت سے لے کر علاج اور منڈیاتی وعظ تک سراب کے گرد گھومتے ہیں۔ اور ایسے ہی مزاج تشکیل پانے لگتے ہیں۔ لوگ جھوٹے بیانیے، بے اثر باتیں اور رسمی فقرے بازی کی مدد سے زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ ایک جیسی اچھی اچھی باتیں کرنے والے لوگ، ایک جیسے جملے ادا کرنے والے لوگ، رٹی رٹائی اچھائیوں کا پرچار کرنے والے لوگ آپ کو اپنے دائیں بائیں گھومتے پھرتے نظر آئیں گے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افراد معاشرہ کو خود اپنی باتوں پر یقین نہیں ہوتا۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی تمام باتیں اور نصیحتیں حواس سے لا تعلق ہیں۔ نہ ان کا تجربہ ایسا رہا ہے نہ ان عوامل سے کوئی پشتینی تعلق ہے۔ یہ وہ کھوکھلے جملے ہیں جو منڈیاتی عوامل نے انھیں یاد کرا دیئے ہیں۔ جب حواس زندگی کے عوامل سے لا تعلق رہیں تو ایسا ہی غیر تخلیقی معاشرہ معرض وجود میں آ سکتا ہے جس کی اقدار اپنی ہوں نہ فیشن۔ جس میں احساس کی عمل پذیری سے زیادہ نمائش کا سہارا لیا جاتا ہو اور زندگی کے تمام اسباب اور تمام وسائل کا اسی نمائش پر صرف کیے جانا واجب تصور کیا جاتا ہو۔ لوگوں کے کمرشل رویوں کے درمیان رہتے ہوئے آپ ان سے کس نوعیت کے انسانی کمالات کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ کن اقدار کے رائج ہونے کا تصور کر سکتے ہیں اور کن ترجیحات کو زندگی میں آگے آتا دیکھ سکتے ہیں؟ ہم جھوٹ کو بہترین لبادے پہنانے کے فن کو مسلسل ترقی دے رہے ہیں لیکن اس ترقی یافتہ دور میں بھی زندگی کے سچ کو پرانے زمانے کی استعمال شدہ چیز سمجھ کر پھینک چکے ہیں۔

ٹیگز: